محکمہ زراعت کی کاشتکاروں کوکماد کی کھوری جلا کر تلف کرنے کی ہدایت

بدھ 11 فروری 2026 13:24

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 فروری2026ء) محکمہ زراعت نے کاشتکاروں کوکماد کی کھوری کو جلا کر تلف کرنے کی ہدایت کی ہے ۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد ڈاکٹر خالد اقبال نے کہا کہ اگراس میں گھوڑا مکھی کا طفیلی کیڑا موجود ہو تو پھر کھوری جلانے سے اجتناب کریں یا کچھ کھوری کھیت سے باہر رکھ لیں اور بعد میں بکھیر دیں نیز اگر کھیت میں بوررکا حملہ ہوتو فصل میں دانہ دار کیڑے مارادویات ڈالیں اور سپرے ہرگز نہ کریں ورنہ فائدہ مند کیڑے ہلاک ہو جائیں گے اوراگر بورر کی وجہ سے مونڈھی نہ رکھنی ہو تو کھیت میں 31 مارچ سے پہلے ہل چلا کر مڈھ اکھاڑ دیں۔

انہوں نے کماد کی مونڈھی فصل کیلئے جدید سفارشات دیتے ہوئے کہا کہ وسط فروری سے شروع مارچ تک کاموسم فصل مونڈھی رکھنے کیلئے بہت موزوں ہے کیونکہ اس وقت رکھی گئی مونڈھی سے خوب شگوفے پھوٹتے ہیں اور پودے اچھا جھاڑ بناتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کاشتکاروں سے کہا کہ مونڈھی فصل کو کھاد کی ضرورت لیرا فصل کی نسبت زیادہ ہوتی ہے لہٰذا مونڈھی فصل کو سفارش کردہ مقدار سے 30 فیصد زیادہ کھاد دینی چاہیے نیز اگر سابقہ فصل میں گنے کی بیماریاں موجود تھیں تو مونڈھی رکھتے وقت بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اور اگر رتہ روگ کے چند مڈھ ہی موجود ہوں تواس فصل کو مونڈھی نہ رکھا جائے تاہم اگر کانگیاری کے چند پودے ہوں توان پودوں کو مڈھوں سے نکال کر تلف کردیں ورنہ بیماری کے مزید پھیلنے کا خطرہ لا حق رہتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اگر سابقہ فصل میں بوررکا حملہ 10 فیصد سے زیادہ پایا گیا ہو تو مونڈھی فصل کیلئے بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے اسلئے اگر حملہ شدید ہو تو اس فصل کو مونڈھی نہ رکھیں کیونکہ مڈھوں میں پڑی سنڈیاں نئے حملے کی بنیاد بن سکتی ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس ضمن میں مزید مشاورت کیلئے محکمہ زراعت کے فیلڈسٹاف سے بھی رابطہ کیاجاسکتاہے۔