ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں دالوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد

بدھ 11 فروری 2026 22:50

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 فروری2026ء) ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں دالوں کے عالمی دن کے موقع پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیاجس کا مقصد دالوں کی غذائی اہمیت، ملکی غذائی تحفظ، مٹی کی زرخیزی میں بہتری، اور ملکی زرعی معیشت میں ان کے کلیدی کردار کو اجاگر کرنا تھا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی چیف سائنٹسٹ (ریسرچ) پنجاب ڈاکٹر ساجد الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دالیں نہ صرف سستی اور معیاری پروٹین کا بہترین ذریعہ ہیں بلکہ ملکی غذائی تحفظ کے لیے ایک مضبوط ستون بھی ہیں، اگر ہم دالوں کی مقامی سطح پر کاشت کو فروغ دیں تو نہ صرف خوراک کی ضروریات پوری ہوں گی بلکہ ہم درآمدات پر انحصار کم کر کے ملکی زرمبادلہ کی خاطر خواہ بچت بھی کر سکتے ہیں،ہمیں چاہیے کہ ہم جدید تحقیق اور جدید اقسام کو بروئے کار لا کر دالوں کی پیداوار میں اضافہ کریں تاکہ یہ فصل کاشتکاروں کے لیے زیادہ فائدہ مند اور ملک کے لیے غذائی تحفظ کا مضبوط ذریعہ بن سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید بتایا کہ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ کی تیار کردہ دالوں کی اقسام بٹل 21 اور بٹل 2022 نہایت اچھی پیداواری اقسام ہیں، جو کاشتکاروں کے لیے بہترین انتخاب ہیں۔ اس موقع پر چیف سائنٹسٹ شعبہ دالیں ڈاکٹر خالد حسین نے کہاکہ دالیں صرف انسانی خوراک کا حصہ نہیں بلکہ زمین کی قدرتی زرخیزی بحال کرنے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں،ہم نے ایسی نئی اور زیادہ پیداواری اقسام تیار کی ہیں جو بیماریوں کے خلاف مضبوط ہیں۔

کاشتکاروں کو چاہیے کہ وہ ان معیاری اقسام کا انتخاب کریں تاکہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہو، زمین کی صحت برقرار رہے۔تقریب میں موجود ڈاکٹر جاوید احمد، چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دالوں کو گندم جیسی بڑی فصلوں کے سے پہلے کاشت کرنے سے زمین کی زرخیزی برقرار رہتی ہے اور آئندہ فصل کے لیے زمین کی صحت اور پیداوار میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 'کراپ روٹیشن' کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس سے زمین کی زرخیزی اور پیداوار دونوں برقرار رہتی ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کاشتکاروں کو جدید کاشتکاری کے طریقوں سے آگاہ کریں تاکہ وہ زیادہ پیداوار اور بہتر معیار کے ساتھ فصل حاصل کر سکیں۔تقریب میں ڈاکٹر آصف علی، ڈائریکٹر نظامت زرعی اطلاعات فیصل آباد، ڈاکٹر قمر شکیل، چیف سائنٹسٹ بائیو ٹیکنالوجی ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ڈاکٹر محمد سرور، ایڈیشنل چیف سائنٹسٹ ویجیٹیبل ریسرچ انسٹیٹیوٹ، ڈاکٹر رانا محمد عاطف، ایسوسی ایٹ پروفیسر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد،محمد شہباز جنرل مینیجر،نجی کمپنی اور ڈاکٹر محمد طارق، نمائندہ نجی کمپنی کے علاوہ زرعی سائنسدانوں، ماہرینِ زراعت، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے اساتذہ، نجی شعبے کے نمائندگان اور کاشتکاروں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

اس موقع پر کاشتکاروں میں دالوں کے معیاری اور تصدیق شدہ بیج بھی تقسیم کیے گئے تاکہ وہ جدید تحقیق اور جدید اقسام کے مطابق کاشت کر کے بہتر پیداوار حاصل کر سکیں۔ تقریب کے اختتام پر شرکاء کو تحقیقی ٹرائل ایریاز کا دورہ کروایا گیا جہاں ماہرین نے دالوں کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی، بیماریوں اور کیڑوں کے مؤثر تدارک کے حوالے سے عملی بریفنگ دی۔ شرکاء نے اس باہمی اشتراک کو زرعی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا اور کہا کہ تحقیقی ادارے، جامعات اور نجی شعبے کے مشترکہ اقدامات سے کسانوں کی آمدن میں اضافہ اور پیداوار کی بہتری ممکن ہے۔