فیصل آباد، کاشتکاروں کو کپاس کے علاقوں میں بہاریہ فصلوں کی باقیات کی تلفی یقینی بنانے کی ہدایت

منگل 17 فروری 2026 16:54

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 فروری2026ء) محکمہ زراعت فیصل آباد نے کاشتکاروں کو کپاس کے علاقوں میں بہاریہ فصلوں کی باقیات کی تلفی یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت توسیع فیصل آباد ڈاکٹرعامرصدیق نے کہا ہے کہ کاشتکار بہاریہ فصلوں پر سفید مکھی کا تدارک یقینی بنانے کیلئے محکمہ زراعت کی سفارشات پر عمل کریں تاکہ کپا س کی آئندہ فصل کو سفید مکھی کے حملہ سے محفوظ رکھا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ سفید مکھی کپا س کا انتہائی نقصان دہ کیڑا ہے جو سارا سال متحرک رہتا ہے جبکہ سفید مکھی کپاس کے علاوہ میزبان پودوں مکئی، جوار، سورج مکھی، لوسرن، برسیم،گوبھی، مولی، شکر قندی، بینگن، بھنڈی توری، خربوزہ، تربوز، مرچ، پالک، چپن کدو، ٹماٹر، پیاز، مٹر، آلو، لیچی، ترشاوہ پھل، انار بیر، امرود، شہتوت، پپیتا، لیہلی، مکو، مینا، کرنڈ، گرڈینیا پربھی پرورش پاتی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ بہاریہ فصلوں اور سبزیوں کی باقیات کو برداشت کے بعد فوراً تلف کردیں، کپاس کی کاشت کے علاقوں میں اور کپاس کے کھیتوں کے قریب بھنڈی توری، بینگن اور جوار کاشت نہ کریں،اس کے علاوہ کاشتکارکھیتوں اور کھالوں کو جڑی بوٹیوں سے پاک رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ کاشتکاربہاریہ فصلوں پر سفید مکھی کے کیمیائی تدارک کےلئے محکمہ زراعت کے مقامی زرعی ماہرین کے مشورہ سے ایسی زہریں استعمال کریں جو سفید مکھی کے تدارک کے لئے مؤثر اور مفید کیڑوں کے لئے محفوظ ہوں۔

انہوں نے کہا کہ جڑی بوٹیوں کی تلفی سے ضرررساں کیڑوں کی پناہ گاہوں کی تلفی بھی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ کپاس کی آف سیزن مینجمنٹ پر عملدرآمد کرکے گلابی سنڈی کے آئندہ فصل پر حملہ کو بھی کنٹرول کیا جا سکتا ہے جس سے آئندہ کپاس کی فصل پر ضرر رساں کیڑوں کے حملے میں نمایاں کمی واقع ہوسکتی ہے۔