سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کی کپاس کے کاشتکاروں کے لیے 31 مارچ تک کی سفارشات جاری

منگل 17 مارچ 2026 17:06

ملتان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 مارچ2026ء) سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ(سی سی آر آئی )ملتان نےکپاس کے کاشتکاروں کے لیے31 مارچ تک کی سفارشات جاری کر دیں ۔تفصیلات کے مطابق سی سی آرآئی کی ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کا تیسراکا ٹن ایڈوائزری اجلاس ڈائریکٹرصباحت حسین کی زیر صدارت منگل کو یہاں منعقد ہوا۔جس میں اگیتی کپاس کی کامیاب کاشت و نگہداشت کے حوالے سے کاشتکاروں کے لیے آئندہ پندرہ روز کے لیے جامع سفار شات پیش کی گئیں۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ جن کاشتکاروں کی فصل 25 تا 30 دن کی ہو چکی ہے وہ جلد از جلد چھدرائی کا عمل مکمل کر لیں،ایسے کاشتکار جنہوں نے بوائی کے وقت کھیت میں ڈی اے پی استعمال نہیں کی، وہ چھدرائی کے بعد ایک بیگ ڈی اے پی یا ایک بیگ این پی فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں ڈالیں۔

(جاری ہے)

اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ ایک ماہ سے ڈیڑھ ماہ کی فصل کے لیے کاشتکار رس چوسنے والے کیڑوں، خصوصاً سفید مکھی سے بچاؤ کے لیے پیلے چپکنے والے پھندے 10 عدد فی ایکڑ کے حساب سے کھیت میں لگائیں۔

کپاس کی فصل پر ڈوڈیاں لگنے کی صورت میں گلابی سنڈی کے حملوں سے بچاؤ اور فصل کی مؤثر مینجمنٹ کے لیے 10 عدد سیکس فیرامون ٹریپس فی ایکڑ لگائیں جبکہ مانیٹرنگ کے لیے پانچ ایکڑ میں ایک فیرامون ٹریپ نصب کیا جائے۔ کاشتکار 31 مارچ تک جلد از جلد اگیتی کپاس کی کاشت مکمل کر لیں۔ ایسے کاشتکارجنہوں نےابھی بوائی کرنی ہے وہ بوائی سے پہلے زمین کا تجزیہ ضرور کرائیں اورتجزیاتی رپورٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے متوازن کھادوں کا استعمال کریں۔

زمین کی تیاری کے لیے لیزر لینڈ لیولر کا استعمال کیا جائے جبکہ سخت زمین کی صورت میں چیزل پلو چلانا مفید ہے تاکہ جڑیں گہرائی تک پھیل سکیں۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کپاس کی بوائی کے وقت قطاروں کی سمت شمالاً جنوباً رکھی جائے تاکہ تیز ہوا یا آندھی کی صورت میں فصل محفوظ رہ سکے۔ کاشتکار معیاری اور تصدیق شدہ بیج استعمال کریں اور بوائی سے پہلے سیڈ گریڈنگ کو یقینی بنائیں۔

ناغے پورے کرنے کے لیے پلانٹ شفٹر کا استعمال کیا جائے کیونکہ اس طریقے سے تمام پودے ایک ہی عمر کے ہوتے ہیں اور بیج سے ناغے لگانے کے مقابلے میں یہ طریقہ زیادہ مؤثر ہے۔ متوقع بارش کی صورت میں کھیت کی آبپاشی کا دورانیہ بڑھا دیا جائے جبکہ ضرورت سے زیادہ آبپاشی سے گریز کیا جائے کیونکہ زیادہ پانی لگانے سے کھیت میں جڑی بوٹیوں کی بہتات ہو جاتی ہے جس سے پیداوار متاثر ہوتی ہے۔

اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کاشتکار صرف بااعتماد اداروں یا کارپوریشنز سے منظور شدہ اور صحت مند بیج خریدیں اور ٹرپل جین (Triple Gene) اقسام کو ترجیح دیں کیونکہ یہ گلابی سنڈی اور گلائفوسیٹ کے خلاف بہتر مدافعت رکھتی ہیں۔ فصل کو ابتدائی 40 دن تک رس چوسنے والے کیڑوں سے محفوظ رکھنے کے لیے بیج کو امیڈاکلوپرڈ اور ٹیبوکونازول کے مکسچر (10 ملی لیٹر فی کلو بیج) سے سیڈ ٹریٹمنٹ کرنا ضروری ہے۔

کپاس کے کاشتکار ڈسکی کاٹن بگ کی آف سیزن مینجمنٹ کے لیے کھیتوں کے اردگرد جہاں ڈسکی نظر آئے وہاں میزبان پودوں کی پروننگ کریں کیونکہ یہ کیڑا عموماً چائنا روز، بیری اور سہانجنا کے درختوں پر پایا جاتا ہے۔ اگیتی کاشت کے دوران پودوں کے پھیلاؤ اور جھاڑ بنانے کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پودے سے پودے کا فاصلہ کم از کم ڈیڑھ فٹ رکھا جائے جبکہ کلراٹھی زمینوں میں کاشتکار پٹڑیوں پرکاشت کریں۔

اجلاس میں جڑی بوٹیوں کے مؤثر تدارک کے لیے سفارش کی گئی کہ کاشتکار بوائی سے پہلے پینڈی میتھالین (1 لٹر) اور بوائی کے فوراً بعد وترحالت میں ایس میٹاکلور(800 ملی لیٹر)فی ایکڑاستعمال کریں۔ کاشتکار کپاس کی کاشت ایسی جگہوں پرہرگزنہ کریں جہاں بھنڈی یا بینگن کی فصلیں پہلے سےموجود ہوں۔گلابی سنڈی کی آف سیزن مینجمنٹ کے لیے کپاس کی چھڑیوں کوہفتے میں دومرتبہ الٹ پلٹ کرنا اورڈھیروں کے نیچے موجودکچرے کو تلف کرنا انتہائی ضروری قرار دیا گیا۔

اجلاس میں مختلف شعبہ جات کے سربراہان ڈاکٹر محمد نوید افضل، ساجد محمود، ڈاکٹر محمد اکبر، ڈاکٹر رابعہ سعید، ڈاکٹر فرزانہ اکبر، ڈاکٹر آسیہ پروین، ڈاکٹر نور محمد اور سائنٹفک آفیسر جنید احمد ڈاہا نے شرکت کی۔ فارمرز ایڈوائزری کمیٹی کا آئندہ چوتھااجلاس یکم اپریل کو ادارہ ہذا میں منعقد ہوگا۔

متعلقہ عنوان :