صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت کی زیر صدارت چیف منسٹر لائیو سٹاک انیشی ایٹو کے حوالے سے اجلاس

جمعرات 26 مارچ 2026 20:09

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 26 مارچ2026ء) صوبائی وزیر لائیو سٹاک و زراعت سید عاشق حسین کرمانی کی زیر صدارت محکمہ لائیو سٹاک میں جاری ترقیاتی پروگرامز اور چیف منسٹر لائیو سٹاک انیشی ایٹو کے حوالے سے ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹری لائیو سٹاک احمد عزیز تارڑ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی، جبکہ ڈائریکٹر جنرلز اور ایڈیشنل سیکرٹری (ٹیکنیکل) بھی موجود تھے۔

اجلاس کے دوران ڈائریکٹر جنرل توسیع ڈاکٹر سید ندیم بدر نے وزیراعلی لائیو سٹاک کارڈ پروگرام اور جنوبی پنجاب میں جاری لائیو سٹاک ایسٹ ٹرانسفر پراجیکٹ کے تحت بیوہ اور مستحق خواتین میں گائے و بھینسوں کی مفت تقسیم کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بریفنگ میں جاری سرگرمیوں اور حالیہ پیشرفت سے بھی آگاہ کیا گیا۔

(جاری ہے)

اجلاس کو بتایا گیا کہ محکمہ لائیو سٹاک کے ترقیاتی پورٹ فولیو کے تحت مجموعی طور پر 16 سکیمیں زیر عمل ہیں جن میں 10 جاری اور 6 نئی سکیمیں شامل ہیں۔

مالی سال 2025-26 (مارچ) تک ترقیاتی فنڈز کی مد میں 4,143 ملین روپے جاری کیے گئے جبکہ 1,492 ملین روپے خرچ ہوئے، جس کے نتیجے میں 37 فیصد فنڈز کا استعمال ممکن ہوا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل (پروڈکشن) ڈاکٹر نعیم کنورکے تحت پنجاب میں بریڈ ایبل پاپولیشن کی کوریج بڑھانے کے لیے اس پی یوز کرانیوالہ اور قادرآباد کی مضبوطی کے حوالے سے جاری منصوبے پر بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

بتایا گیا کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 237.539 ملین روپے ہے جس کے لیے 139.63 ملین روپے کی allocation جاری کی گئی، جس میں سے 119.152 ملین روپے (85 فیصد) استعمال ہو چکے ہیں۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ اس منصوبے کے تحت لیبارٹری کیمیکلز، آلات، خودکار سیمن فلنگ اور سیلنگ مشینیں، انک جیٹ پرنٹنگ مشینیں، سیمن ایکسٹینڈر، سیلنگ پائوڈر اور قادرآباد کی لیبارٹریز کے لیے شمسی توانائی کے نظام (سولر سسٹم) کی خریداری شامل ہے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ اس منصوبے میں پروکیورمنٹ کا عمل جاری اور 90 فیصد اشیاء فراہم کر دی گئی ہیں۔ اس موقع پر پرانے پرنٹرز کے مقابلے میں نئے لیٹسٹ بار کوڈ پرنٹرز کے استعمال سے جینیاتی مواد کی ٹریس ایبلٹی میں بہتری کو بھی اجاگر کیا گیا۔مزید بتایا گیا کہ لائیو سٹاک ایسٹ ٹرانسفر پروگرام کے تحت جنوبی پنجاب کی دیہی خواتین میں 9,255 جانوروں کی فراہمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جن میں سے پہلے سال میں 4,870 اور دوسرے سال میں 4,385 جانور فراہم کیے جائیں گے جبکہ اب تک 3,655 جانور تقسیم کیے جا چکے ہیں۔

یہ پروگرام 10 اضلاع (وہاڑی، لودھراں، ملتان، خانیوال، مظفرگڑھ، کوٹ ادو، لیہ، ڈی جی خان، بہاولپور، رحیم یار خان) میں جاری ہے اور بقیہ اضلاع بہاولنگر اور راجن پور میں تقسیم کا عمل جلد مکمل کیا جائے گا۔ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 2,000 ملین روپے ہے جس میں سے 670 ملین روپے (67 فیصد) استعمال ہو چکے ہیں۔اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل (ریسرچ) ڈاکٹر سجاد حسین کے تحت جاری منصوبہ ویٹرنری ریسرچ انسٹیٹیوٹ (VRI) میں ویکسیئن پروڈکشن سیکشنز کی اپ گریڈیشن پر بھی بریفنگ دی گئی۔

بتایا گیا کہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 399.07 ملین روپے ہے، جبکہ 191.43 ملین روپے مختص اور 132.40 ملین روپے جاری کیے جا چکے ہیں۔ اب تک 45.180 ملین روپے (32 فیصد) فنڈز استعمال ہو چکے ہیں۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ منصوبے کے تحت کنسلٹنٹ کی ہائرنگ، HVAC سسٹم اور جدید آلات کی خریداری و تنصیب، اور انفراسٹرکچر کی اپ گریڈیشن شامل ہے، جبکہ ریگولیٹری اتھارٹیز کی جانب سے معائنہ اور مینوفیکچرنگ لائسنس کے حصول کا عمل بھی متوقع ہے۔

اس وقت پروکیورمنٹ اور سول ورک کا کام جاری ہے۔اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ حکومت پنجاب مویشی پال حضرات کی معاونت اور ان کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے مختلف عملی اقدامات کر رہی ہے۔ ہرڈ ٹرانسفارمیشن پروگرام کے تحت جانوروں کی نسلی بہتری کے اقدامات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر بتایا گیا کہ جینیاتی بہتری کے لیے معیاری سیمن کی رعایتی نرخوں پر فراہمی اور اس کی تقسیم کا عمل کامیابی سے جاری ہے۔

صوبائی وزیر لائیو سٹاک سید عاشق حسین کرمانی نے ہدایت کی کہ تمام ترقیاتی پروگرامز کو شفاف اور موثر انداز میں جاری رکھا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ مویشی پال حضرات مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومت پنجاب لائیو سٹاک کے شعبے کی ترقی اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔