حکومت زراعت کی بہتری کے لیے کھادوں اور مشینری پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے، ڈائریکٹرزراعت توسیع

جمعہ 27 مارچ 2026 16:52

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 27 مارچ2026ء) زرعی ماہرین نے کہا ہے کہ نوے فیصد زرعی زمین نائٹروجن کی کمی کا شکار ہے جس سے نبرد آزما ہونے کے لئے کسان ماہرین کی سفارشات پر عملدرآمد کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جامعہ زرعیہ فیصل آباد، محکمہ زراعت توسیع پنجاب، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ اور فاطمہ گروپ کے اشتراک سے موضع کھائی میں محمد عظیم ترانہ کے فارم پر فارمنگ ڈے تقریب کے دوران کیا۔

ریجنل ایگریکلچر فورم (وسطی پنجاب) کے تحت منعقدہ تقریب میں 7 یونین کونسلوں اور 19 دیہات کے کسانوں نے شرکت کی۔اس موقع پر ڈائریکٹرزراعت توسیع ڈاکٹر خالد محمود نے کہا کہ حکومت زراعت کی بہتری کے لیے کھادوں اور مشینری پر سبسڈی فراہم کر رہی ہے۔ وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے اپنے ورچوئل خطاب میں کہا کہ مذ کورہ فورم کے تحت تمام شراکت داروں کے باہمی تعاون سے زرعی مسائل کا حل اورجدید ٹیکنالوجی کو کاشتکاروں تک پہنچا نے کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ زراعت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے حکومت کے زرعی ترقیاتی اقدامات کو سراہا۔ ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضیٰ نے کہا کہ کھادوں کا غیر متناسب استعمال نہ صرف لاگت بڑھا رہا ہے بلکہ پیداواری صلاحیت کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ جدید مشینری، بیج کی نئی اقسام اور پانی کے بہتر استعمال کے حوالے سے ماہرین کی سفارشات پر عمل درآمد کریں۔

چیف سائنٹسٹ گندم (ایوب ریسرچ) ڈاکٹر جاوید احمد نے گندم کے کاشتکاروں کو کٹائی کے بعد کے نقصانات کم کرنے کے لیے جدید ٹیکنیس اپنانے کا مشورہ دیا ۔ڈاکٹر عامر مقصود نے بتایا کہ زرعی یونیورسٹی نے ’’یو اے فرٹیلائزر‘‘ایپ تیار کی ہے جو تحصیل اور فصل کی بنیاد پر کھادوں سے متعلق سفارشات فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ نائٹروجن اور فاسفورس کی کمی سے پیداوار میں 35 فیصد تک کمی واقع ہو رہی ہے۔ فاطمہ گروپ کے ڈپٹی منیجر محمد عمران نے بتایا کہ کھاد کی کمی پیداوار میں کمی کا سبب بن رہی ہے۔ شوگر کین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے ڈاکٹر اخلاق مدثر نے منظور شدہ اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کاشت کرنے پر زور دیا ۔