خیبرپختونخوا اسمبلی ،ارکان کے نام ای سی ایل میں شامل ہونے اور بیوروکریسی کے رویے پر شدید ردعمل

پیر 6 اپریل 2026 20:55

پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 اپریل2026ء) خیبرپختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں ارکان اسمبلی کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کیے جانے اور سرکاری افسران کے رویے سے متعلق تحریکات استحقاق پیش کی گئیں، جن پر ایوان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہیں متعلقہ کمیٹیوں کے سپرد کر دیا گیا۔عوامی نیشنل پارٹی کے رکن نثار باز نے تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے کہا کہ 2 مارچ 2026 کو وہ عمرہ کی ادائیگی کے لیے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے، تاہم امیگریشن حکام نے انہیں روک دیا۔

ان کے مطابق پاسپورٹ اور ویزہ کلیئر ہونے کے باوجود انہیں بتایا گیا کہ ان کا نام ای سی ایل میں شامل ہے، مگر اس کی کوئی ٹھوس وجہ نہیں بتائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے نہ صرف ان کی ذات بلکہ ایوان کا استحقاق بھی مجروح ہوا ہے، لہٰذا ذمہ داروں کے خلاف قانونی و محکمانہ کارروائی کی جائے اور واضح کیا جائے کہ کن بنیادوں پر ان کا نام شامل کیا گیا۔

(جاری ہے)

صوبائی وزیر ہاؤسنگ ڈاکٹر امجد نے بھی اس معاملے کو سنگین قرار دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ ان کا نام بھی گزشتہ ستمبر سے ای سی ایل میں شامل ہے اور ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود اسے خارج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کو استحقاق کمیٹی میں طلب کیا جائے تاکہ معلوم ہو سکے کہ کس بنیاد پر منتخب نمائندوں کے ساتھ یہ رویہ اختیار کیا جا رہا ہے۔

پینل آف چیئرمین نے اس معاملے کو بین الصوبائی رابطہ کمیٹی کے سپرد کرنے کی ہدایت جاری کی۔دوسری جانب رکن اسمبلی عبید الرحمن نے بھی تحریک استحقاق پیش کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ 2 اپریل 2026 کو وہ سیکرٹری ہیلتھ کے دفتر گئے، جہاں انہوں نے ایک ہسپتال کی خراب صورتحال پر بات کرنے کی کوشش کی، مگر سیکرٹری ہیلتھ نے نامناسب اور ہتک آمیز رویہ اختیار کیا۔ ان کے مطابق افسر کے ریمارکس ان کی تضحیک کا باعث بنے اور ان کا استحقاق مجروح ہوا۔ایوان نے اس معاملے کو بھی سنجیدگی سے لیتے ہوئے متعلقہ استحقاق کمیٹی کے سپرد کر دیا، تاکہ حقائق سامنے لائے جا سکیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جا سکے۔