گوشت اور دودھ کی پیداوار میں اضافہ کیلئے مویشیوں کو غذائیت سے بھر پور چارے کی فراہمی ضروری ہے ،محكمہ زراعت

بدھ 8 اپریل 2026 14:20

سیالكوٹ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 08 اپریل2026ء) اسسٹنٹ ڈائریکٹر محکمہ زراعت سمبڑیال ڈاکٹر افتخار حسین بھٹی نے کہا ہے کہ گوشت اور دودھ کی پیداوار میں اضافہ کیلئے مویشیوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے اورغذائیت سے بھر پور چارے کی فراہمی بہت ضروری ہے ۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو اے پی پی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔انہوں نے کہا کہ کاشتکارمعیاری اور موسمی چارے کی بروقت کاشت کو یقینی بنائیں ۔

انہوں نے بتایا کہ مکئی کی فصل اپریل سے ستمبر اور جوار و سدابہار کی فصل اپریل سے مئی تک کاشت کی جاسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ کاشتکاروں اور زرعی اراضی کے حامل لائیوسٹاک فارمرز کوچاہیے کہ وہ موسم گرما کی مناسبت سے مکئی، سدابہار، جوار، ماٹ گراس کاشت کریں اور فی ایکڑ بہتر پیداوار اور زمین کی زرخیزی میں اضافہ کےلیے ماہرین زراعت کے سفارش کردہ کھاد اور بیج کا استعمال کریں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ فی ایکڑ بہتر پیداوار کیلئے مکئی کا بیج 40، سدابہار15، جوارکا بیج 30 کلوگرام فی ایکڑاستعمال کریں۔ انہوں نے جنتر کی کاشت کیلئے بھی ہلکی میرازمین کو موزوں قرار دیا۔انہوں نے کہاکہ زمین کی تیاری کیلئے 2سے3 مرتبہ ہل چلا کر سہاگہ دیتے ہوئے زمین کو اچھی طرح نرم و بھربھرا کر لیں تاکہ بہتر اگائو ہو سکے۔ انہوں نے بتایاکہ جنتر کی کاشت اپریل سے اگست تک کی جاسکتی ہے البتہ مون سون کےدوران کاشتہ فصلوں کی بڑھوتری بہت اچھی ہوتی ہے۔

انہوں نے جنتر کی بطور چارہ و سبز کھاد کاشت کیلئے 20 سے25 کلوگرام جبکہ بیج کیلئے 10 سے 12کلوگرام فی ایکڑ بیج استعمال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہاکہ کاشت کے وقت کھیت میں ایک بوری ڈی اے پی فی ایکڑ ڈالیں اور وتر میں کاشت شدہ فصل کو پہلا پانی بوائی کے 18سے 22دن کے بعد لگایا جائے تاہم اگر اس دوران بارش ہو جائے تو پانی لگانے کی ضرورت نہیں۔

متعلقہ عنوان :