کراچی: شدید گرمی اور حبس میں اضافہ، طبی ماہرین کی شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت

منگل 9 جون 2026 16:20

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 09 جون2026ء) شہر قائد میں درجہ حرارت اور ہوا میں نمی کے تناسب میں اضافے کے باعث شدید گرمی اور حبس کی صورتحال برقرار ہے، جس کے پیش نظر طبی ماہرین نے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے ہیٹ اسٹروک، پانی کی کمی اور بلڈ پریشر کے مسائل میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمی کے دوران جسم کا درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جائے تو دماغ، دل اور گردوں پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے شہریوں کو خاص احتیاط کی ضرورت ہے۔

جناح اسپتال کے شعب ایمرجنسی کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر عرفان صدیقی نے بتایا کہ موجودہ موسمی صورتحال شہریوں کے روزمرہ معمولات کو متاثر کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مشورہ دیا کہ صبح 11 بجے سے شام 4 بجے تک غیر ضروری طور پر گھر سے باہر نکلنے سے گریز کیا جائے۔ اگر کسی مجبوری کے تحت باہر جانا ضروری ہو تو سر کو ڈھانپنے، دھوپ کا چشمہ استعمال کرنے اور جسم کو دھوپ سے محفوظ رکھنے کا اہتمام کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ شہری پانی زیادہ مقدار میں استعمال کریں، پیاس لگنے کا انتظار نہ کریں اور روزانہ کم از کم چار لیٹر پانی پینے کی کوشش کریں۔ اس کے علاوہ دن میں دو مرتبہ او آر ایس کا استعمال بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر عرفان صدیقی نے غذائی احتیاط پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مرچ مصالحے، گوشت اور تلی ہوئی اشیا کے بجائے دہی، تربوز، خربوزہ، کھیرا اور دیگر ہلکی و ٹھنڈی غذاں کو ترجیح دی جائے تاکہ جسم میں پانی اور نمکیات کا توازن برقرار رہے۔

انہوں نے بتایا کہ بڑھتی ہوئی گرمی کے پیش نظر جناح اسپتال میں خصوصی ہیٹ اسٹروک یونٹ قائم کر دیا گیا ہے، جہاں او آر ایس سمیت ضروری طبی سہولیات اور ادویات دستیاب رکھی گئی ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق گرمی کے موسم میں ہلکے، ڈھیلے اور سوتی کپڑے پہننا صحت کے لیے مفید ہے۔ سفید، آسمانی، گلابی اور پیلے رنگ کے لباس گرمی کی شدت کم محسوس کرنے میں مدد دیتے ہیں، جبکہ تنگ اور مصنوعی کپڑے جسم کی حرارت کے اخراج میں رکاوٹ بنتے ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا کہ چکر آنا، شدید سر درد، متلی، جلد کا سرخ اور خشک ہو جانا، ذہنی الجھن یا بے ہوشی ہیٹ اسٹروک کی نمایاں علامات ہیں۔ ایسی صورت میں متاثرہ شخص کو فوری طور پر سایہ دار یا ٹھنڈی جگہ منتقل کیا جائے، کپڑے ڈھیلے کیے جائیں، جسم کو ٹھنڈے پانی سے صاف کیا جائے اور فوری طبی امداد حاصل کی جائے۔ڈاکٹر عرفان صدیقی کا کہنا تھا کہ گھروں میں دن کے اوقات میں پردے بند رکھے جائیں، پنکھوں اور ایگزاسٹ فین کا استعمال کیا جائے جبکہ فرش پر پانی کا چھڑکا بھی درجہ حرارت میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

طبی ماہرین نے زور دیا ہے کہ بچے، بزرگ افراد، حاملہ خواتین اور دائمی بیماریوں میں مبتلا مریض خصوصی احتیاط اختیار کریں کیونکہ یہ افراد شدید گرمی کے منفی اثرات سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق موجودہ موسم میں احتیاط ہی سب سے مثر علاج ہے۔