امریکہ اور ایران کے مابین براہ راست فوجی حملے پھر شروع

DW ڈی ڈبلیو بدھ 2 ستمبر 2026 12:20

امریکہ اور ایران کے مابین براہ راست فوجی حملے پھر شروع
  • امریکہ اور ایران کے مابین براہ راست فوجی حملے پھر شروع

امریکہ اور ایران کے مابین براہ راست فوجی حملے پھر شروع

امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ نے کہا کہ اس نے منگل کو ایرانی پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے اہداف کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر مکمل کی۔ ان حملوں میں فضائی دفاعی تنصیبات، ریڈار نظام، بحری اثاثے، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت سے متعلق تنصیبات اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں اور خطے میں تعینات امریکی فوجیوں کے خلاف ایران کی جانب سے مبینہ حملوں کی کوششوں کے جواب میں کی گئی۔

نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’فوکس نیوز‘ سے ٹیلی فون پر گفتگو میں کہا،’’امریکی افواج نے ایران کے ریڈارز کو بھی نشانہ بنایا۔

(جاری ہے)

‘‘

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی حملے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کی ناکام کوشش اور اردن میں امریکی اڈے پر آٹھ میزائل داغے جانے کے جواب میں کیے گئے۔ کئی ہفتوں بعد ہونے والے دو طرفہ شدید حملوں سے خطے میں ایک بار پھر کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

حملوں کا یہ تبادلہ جولائی کے بعد پہلی بڑی فوجی کارروائی ہے، جس سے وہ وقفہ ختم ہو گیا جس کے دوران دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر حملے روک رکھے تھے، لیکن مذاکرات کی بحالی میں بھی کوئی خاص دلچسپی ظاہر نہیں کی تھی۔

ایران کی جوابی کارروائی

ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن اور عراق میں امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ سرکاری بیانات کے مطابق ایرانی حملوں میں بحرین کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اردن میں بڑی تعداد میں امریکی فوجی ہلاک ہوئے، تاہم دو امریکی حکام نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ابتدائی جائزوں کے مطابق کوئی امریکی جانی نقصان نہیں ہوا۔

اردن کی مسلح افواج نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے 13 بیلسٹک میزائلوں کا مقابلہ کیا، جن میں سے 10 کو راستے میں تباہ کردیا گیا جبکہ تین دور دراز علاقوں میں گرے۔

کویت کی فوج نے بھی بدھ کی صبح میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف کارروائی کی تصدیق کی۔

ایران پر امریکی حملوں میں 11 شہری ہلاک

ایرانی سرکاری میڈیا نے بدھ کو ایک رپورٹ میں بتایا کہ جنوب مغربی ایران میں امریکہ کے الگ الگ حملوں میں 11 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

ایرانی ہلال احمر کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب واقع صوبہ ہرمزگان میں امریکی میزائل حملے کی زد میں ساحلی شہر کوہستک میں ایک رہائشی مکان آگیا، جہاں شادی کی تقریب جاری تھی۔ واقعے میں ایک 4 سالہ بچے سمیت چار افراد ہلاک جبکہ 68 کے قریب زخمی ہوئے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا، ’’اس ظلم کو اس سے پہلے ہونے والے مظالم کے سلسلے سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

‘‘ ترجمان نے فروری میں میناب کے ایک گرلز اسکول پر ہونے والے حملے کا بھی حوالہ دیا، جس میں 160 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

دوسری جانب صوبہ خوزستان کے حکام نے بتایا کہ صوبے میں تین مقامات پر امریکی میزائل حملوں کے نتیجے میں سات افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوئے۔

امریکی حکام نے ایک شادی کی تقریب پر حملے کی رپورٹس پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا، تاہم امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے ترجمان ٹم ہاکنز نے کہا،’’امریکی فوج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔‘‘

ادارت: کشور مصطفیٰ

متعلقہ عنوان :