حوثی باغیوں اور القاعدہ کے درمیان خفیہ معاہدہ طے پاگیا

پیر اپریل 18:41

ْصنعاء (اُردو پوائنٹ اخبار آن لائن۔ پیر اپریل ء)یمن میں باغی حوثی ملیشیا نے ایک سمجھوتے کے تحت البیضا شہر میں القاعدہ تنظیم سے تعلق رکھنے والے قیدیوں کو رہا کر دیا ۔عرب میڈیا کے مطابق سمجھوتے کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں تاہم اس سے قبل سکیورٹی معلومات کے ذریعے حوثیوں اور دہشت گرد عناصر کے درمیان رابطہ کاری کا انکشاف ہو چکا ہے۔

اس کا مقصد یمنی فوج اور عرب اتحاد کی کارروائیوں میں بھاری زمینی خسارے کے بعد باغیوں کا اپنی صفوں کو از سر نو ترتیب دینا ہے۔ایک سکیورٹی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ حوثی ملیشیا نے ہفتے کے روز ملیشیا کی قیادت کی جانب سے جاری فیصلے کے تحت البیضا میں القاعدہ تنظیم کے 18 دہشت گردوں کو رہا کر دیا۔ دوسری جانب القاعدہ تنظیم نے ایک مختصر خبر میں دعوی کیا ہے کہ مذکورہ قیدی جیل سے فرار ہو گئے۔

(جاری ہے)

سکیورٹی ذریعے کے مطابق باغی حوثی ملیشیا نے البیضا شہر میں جیل کے دروازے کھول دیے جس کے بعد القاعدہ کے یہ دہشت گرد باہر نکل گئے۔مذکورہ ذریعے نے توقع ظاہر کی ہے کہ حوثیوں کی جانب سے القاعدہ کے قیدیوں کو جیل سے باہر نکالنے کا مقصد البیضا شہر میں امن و استحکام بگاڑنا ہے کیوں کہ یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کار عرب اتحاد کی معاونت سے تیزی کے ساتھ پیش قدمی میں مصروف ہیں اور ان کی کوشش ہے کہ البیضا کو جلد از جلد آزاد کرا لیا جائے۔

یمنی فوج نے چند ہفتے قبل اعلان کیا تھا کہ اس نے البیضا صوبے میں سرکاری فوج کے ٹھکانوں پر دہشت گرد عناصر کے حملے کو ناکام بنا دیا۔ دہشت گردوں کی یہ کارروائی حوثی ملیشیا کے ساتھ رابطہ کاری کے ذریعے عمل میں آئی تھی۔یمنی سکیورٹی معلومات سے یہ انکشاف ہو چکا ہے کہ حوثی ملیشیا یمن کے مخلتف صوبوں بالخصوص البیضا اور الجوف میں "داعش اور القاعدہ" کے گروپوں کے ذریعے دہشت گرد کارروائیوں کا ارادہ رکھتی ہے۔ اس کا مقصد عالمی برادری کو متاثر کرنا اور پے درپے ہزیمتوں کے بعد مخلتف محاذوں پر باغیوں کی صفوں کو از سر نو ترتیب دینا ہے ۔

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments