Jab Bank - Joke No. 1119

جب بینک - لطیفہ نمبر 1119

جب بینک بند ہو گیا تو ڈاکووٴں کے ایک گروہ نے باہر کھڑے ہوئے چوکیدار کو قابو میں کیا اور بینک کے اندر داخل ہو گئے۔ انہوں نے دیکھا کہ کیشئر کتابوں پر جھکا حساب کتاب میں مصروف تھا۔ انہوں نے تیزی سے اسے پکڑ کر باندھا اور منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔ اس کے بعد وہ کیش اپنے اپنے تھیلوں میں ڈالنے لگے۔ جب وہ ملا لوٹ کر جانے لگے تو ان کے کانوں میں کیشئر کی عجیب و غریب آوازیں پڑیں۔ وہ اپنی جگہ بری طرح ہل جل کر کچھ کہنے کی کوشش کرتا دکھائی دیا۔ ایک ڈاکو نے اس کے منہ سے کپڑا نکالا تا کہ وہ جان سکے کہ کیشئر کیا چاہتا ہے ؟ کیشئر نے کپڑے منہ سے نکلتے ہیں ہانپتے ہوئے کہا۔ ”ڈاکو بھائی! براہ مہربانی حساب کتاب کی بھی کتابیں بھی ساتھ لیتے جاوٴ‘ اس میں ایک لاکھ روپے کا فرق دکھائی دے رہا ہے۔“

مزید لطیفے

کار پینٹر

Car Painter

شخص ملا نصیرالدین سے

Shakhs mula naseer u Din sai

بہت خوب

bohat khoob

کمپنی

Company

میاں بیوی سے

Mian biwi se

جج ملزم سے

Judge mulzim se

ضمیر

Zameer

ایک راہ گیر

aik raah geer

کون ہارا

kaun haara

شخص وکیل سے

Shakhs wakeel se

شادی شدہ

shadi shuda

طلاق

talaq

Your Thoughts and Comments