Kunker

کنکر

مشاعرے میں ایک شاعر اپنا کلام سنا رہے تھے۔ ”زمیں کے زرو‘ فلک کے تارو“ اس کے بعد وہ بھول گئے۔ حاضرین چھوٹے چھوٹے کنکر اٹھا اٹھا کر مارنے لگے‘ اس شاعر نے پھر یوں مصرعہ مکمل کیا… ”اُلوکے پٹھو پتھر نہ مارو“

Your Thoughts and Comments