Sayyah Kisan Se - Joke No. 1473

سیاح کسان سے - لطیفہ نمبر 1473

”سناؤ میاں !زندگی کیسی گذر رہی ہے؟“ایک سیاح نے مقامی کسان سے دریافت کیا۔ ”بھائی صاحب ! بڑے مزے سے، مجھے یہ درخت کاٹنے تھے کہ تیز وتند آندھی آئی اور یہ سب خود بخود نیچے گر پڑے۔ ایک دن گھاس کاٹنے کے لئے سوچا تو آسمانی بجلی گری اور تمام گھاس جل کر راکھ ہو گئی اور اس میں یوں گھاس کا ٹنے کی تکلیف سے بچ گیا۔ “ کسان نے بتایا۔ ”بہت خوب ! اب کیا ارادے ہیں ؟“ سیاح بولا۔ ”اب زلزلے کا انتظار ہے تاکہ نیچے کی زمین اوپر جائے اور یوں میں آلو کی فصل اکھاڑنے کی زحمت سے بچ جاؤں۔ “ کسان نے معصومیت سے جواب دیا۔

مزید لطیفے

ضرورت ملازمت

Zaroorat mulazmat

دانش کے دوست

Danish ke dost

نائی کی دکان

Nai ki Dukan

احتیاط

ihtiyat

بھکاری

Bhikari

ہا ہا۔۔۔ ہو۔۔۔ہو۔۔ہو!

Ha.. Ha... Ho.. Ho

پاگل خانہ

Pagal khana

بیٹا اور اماں

Beta Aur Maa

فالج

faalij

90سال

90 Saal

ایک عورت بہت غصے؟

aik aurat bahut ghusay?

80 ڈالر فی ہفتہ

80 Dollar Fee hafta

Your Thoughts and Comments