be behra

Be Behra

بے بہرہ

”ماضی کی دھند سے ،حال کے اُجالے میں ،مستقبل کا سفر تو ہمیشہ جاری رہتا ہے ،مگر بعض دفعہ انسان اپنا مستقبل اپنے حال میں گنوا بیٹھتا ہے

تفسیر حیدر
”ماضی کی دھند سے ،حال کے اُجالے میں ،مستقبل کا سفر تو ہمیشہ جاری رہتا ہے ،مگر بعض دفعہ انسان اپنا مستقبل اپنے حال میں گنوا بیٹھتا ہے اور جب اسے اس بات کا احساس ہوتا ہے تو اس کے پاس پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں بچتا۔
“سرآمش اپنے شاگردوں کو سبق پڑھارہے تھے۔
”سر!اس بات کا کیا مطلب ہے ؟“اشعر نے سوال کیا،کیوں کہ یہ بات اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
”اس کا مطلب․․․․“سرآمش کہتے کہتے رکے ،پھر بولے:”چلو،اس کا مطلب سمجھانے کے لیے میں آپ کو ایک واقعہ سناتا ہوں۔
“سر نے کتاب بند کی اور کہانی شروع کی۔
یہ کہانی آج سے بیس سال پہلے کی ہے۔میں نے میٹرک کا امتحان اپنے شہر سے پاس کیا۔میرے والد محکمہ ریلوے میں ملازم تھے ۔

(جاری ہے)

انھوں نے مجھے مزید پڑھنے کے لیے لاہور بھیج دیا۔
لاہور میں میری ملاقات عارف سے ہوئی۔

وہ ایک غریب کسان کا بیٹا تھا۔اس کے والد گاؤں چودھری کی زمینوں پر کام کرتے تھے۔انھوں نے چودھری سے قرض لے کر عارف کو لا ہور پڑھنے کے لیے بھیجا تھا۔
کالج میں عارف کی دوستی چند خراب لڑکوں سے ہوگئی۔ہرمہینے اس کے والدین اسے باقاعدگی سے خرچہ بھیجتے تھے،لیکن رفتہ رفتہ اس کے اخراجات بڑھنے لگے۔
اخراجات بڑھے تو وہ اپنے گھر سے اضافی پیسے منگوانے لگا۔
ایک دفعہ اپنے دوستوں کی دعوت کے لیے اسے پیسوں کی ضرورت تھی۔اس نے اپنے گھر خط لکھا:”پیارے ابا! میں پڑھائی میں خوب محنت کررہا ہوں۔اس شب وروز کی محنت کی وجہ سے میری صحت بہت خراب ہو گئی ہے ۔
ڈاکٹر کو چیک اپ کروایا تو معلوم ہوا،دماغی کم زوری ہے۔ڈاکٹر نے دماغ کو تقویت دینے کے لیے اخروٹ اور بادام کھانے کے ساتھ طاقت کا ایک شربت پینے کا مشورہ دیا ہے ،جو ذرامہنگا ہے ،لیکن خرچہ پہلے ہی کم ہے ،اس لیے چپ ہوں ۔والسلام۔
آپ کا بیٹا،عارف حسین۔“
عارف کی ماں نے بیٹے کاخط سنا تو پھوٹ پھوٹ کررونے لگی۔بے چارہ غریب باپ بھاگا بھاگا چودھری کے پاس گیا اور قرض لے کر پیسے عارف کو بھیجے۔
پیسے مل جانے کے بعد عارف نے دوستوں کے ساتھ مل کر خوب گُل چھرے اُڑائے۔
اب وہ اسی طرح کے بہانوں سے اضافی رقم منگواتا۔جب چھٹیوں میں گھر جاتا تو بیگ میں جاسوسی ناول بھر کر لے جاتا۔دن بھرناول پڑھتا رہتا۔اَن پڑھ ماں باپ سمجھتے بیٹا خوب محنت کررہا ہے ۔باپ بے چارہ سینہ پھلا کر گاؤں والوں کو بتاتا کہ میرا بیٹا کتنا پڑھا کو ہے۔

اسی طرح سال گزر گیا ۔امتحان ہو ئے۔جب امتحان کا نتیجہ آیا تو عارف میاں تمام مضامین میں بُری طرح فیل تھے ،لیکن وہ ذرا بھی نہیں گھبرائے۔فوراً گھر خط لکھا:
”میرے پیارے اماں ،ابا!نتیجہ آگیا ہے ۔میں پورے کالج میں اول آیا ہوں ،مگر حکومت نے اعلان کیا ہے کہ تمام طلبہ ایک اضافہ معلوماتی کورس کریں ۔
اس کے لیے اضافی پیسوں کی ضرورت ہے ،مگر گھر کے حالات کا سوچتا ہوں تو دل چاہتا ہے ،واپس آجاؤں۔والسلام ۔آپ کا بیٹا ،عارف حسین۔“
بے چارے ماں باپ مرتے کیا نہ کرتے،عارف کی دلہن کے لیے جو زیور بنا رکھا تھا،بیچ دیا اور پیسے عارف کو بھیج دیے۔
پیسے ملنے پر عارف اور اس کے دوستوں نے اَن پڑھ ماں باپ کے خلوص کا خوب مذاق بنایا۔
قصہ مختصر کہ دوسرا سال بھی گزرگیا۔اس سال پھر عارف فیل ہو گیا،مگر اسے ذرا پروانہ تھی۔دوبارہ گھر خط لکھا:”اباجی!میں اضافی کورس میں اچھے نمبروں سے کامیاب ہو گیا ہوں۔
ایک بڑی کمپنی سے نوکری کی پوش کش آئی ہے ،مگر وہ کہہ رہے ہیں کہ میں ان کی کمپنی کا ایک اور کورس پاس کروں۔ابا! پیسے بھیج دیں۔پھر ہزاروں کماؤں گا۔آپ کا چاند ،عارف حسین۔“
والدین پھر پریشان ہو گئے۔اگر چہ جن کو رسز کا ذکر عارف کرتا تھا،ان کا نام ونشان تک نہیں تھا،مگر اَن پڑھ ماں باپ کو کیا خبر تھی۔
انھوں نے اب کی بار گھر کی چھت کی مرمت کے لیے جو پیسے رکھے تھے،وہ عارف کو بھیج دیے۔عارف پیسے پا کر اپنی دنیا میں کھو گیا۔اسے ہوش تب آیا،جب گاؤں سے اطلاع ملی کہ بارش کی وجہ سے ان کے مکان کی چھت گر گئی ہے اور اس حادثے میں اس کے والدین چل بسے ہیں۔

عارف تو سر پکڑ کر بیٹھ گیا،مگر اب پچھتانے سے کیا فائدہ ؟
گاؤں آیا تو چودھری نے قرض کا مطالبہ شروع کر دیا،جو اس کے باپ نے اس کی پڑھائی کے لیے اتنے سالوں میں لیا تھا ،مگر عارف کے پاس نہ گھر تھا،نہ علم ،نہ ہنر۔وہ ایک بے کار نوجوان تھا۔
گاؤں کے چودھری نے اسے زبردستی اپنی زمینوں کے کام پر لگا لیا۔
میں تعلیم مکمل کرکے واپس آگیا۔دوبارہ مجھے عارف کی کوئی خبر نہیں ملی۔سر آمش دکھی ہوگئے تھے۔گھنٹی کی آواز انھیں واپس حال میں کھینچ لائی۔سرآمش نے چشمہ اُٹھایا اور جماعت سے باہر نکل گئے۔

Your Thoughts and Comments