Humdardi Aur Rehamdili

Humdardi Aur Rehamdili

ہمدردی اور رحم دلی

عورت کے ڈوبتے ہی دونوں چھلانگ لگاتے ہوئے نیچے پہنچے اور بندریا نے جھپٹ کر کپڑے میں لپٹے بچے کو اُٹھالیا۔ بچہ مسلسل روئے جا رہا تھا۔

انور فرہاد:
ایک عورت نے ایک نہر کے کنارے جاکر اپنی گود میں چھپائی ہوئی کوئی چیز زمین پر رکھ دی۔ زمین پر اس چیز کے رکھتے ہی ایک باریک سی آواز اُبھری۔ جیسے کوئی بچہ رو رہا ہو۔ عورت نہر میں پانی پینے جھکی تو توازن قائم نہ رہ سکا اور وہ گر کر بہتی ہوئی دور چلی گئی۔

یہ سارا تماشا قریب ہی ایک درخت پر موجود ایک بندر اور بندریا دیکھ رہے تھے۔ عورت کے ڈوبتے ہی دونوں چھلانگ لگاتے ہوئے نیچے پہنچے اور بندریا نے جھپٹ کر کپڑے میں لپٹے بچے کو اُٹھالیا۔ بچہ مسلسل روئے جا رہا تھا۔
بندر بولا:” لگتا ہے بھوکا ہے۔

بندریا نے جھٹ اسے اپنے سینے سے لگالیا۔ بچہ چپ ہو گیا۔
بندریا بچے کو دیکھتے ہوئے بولی:” کتنا پیارا ہے۔

(جاری ہے)

لگتا ہے ایک دود ن سے زیادہ اس کی عمر نہیں۔یہ اب میرا بچہ ہے ۔ اب میں ہی اسے ماں بن کر پالوں گی۔ تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں؟“
” نہیں ،کسی بے سہارا کو سہارا دینا تو بڑی اچھی بات ہے۔


چند دنوں کے بعد پورے جنگل میں یہ بات مشہور ہو گئی کہ ایک بندر اور بندریا نے ایک انسانی بچے کو گود لے لیا ہے۔ جنگل کے جانور بندریا اور بندر کی گود میں انسانی بچے کو دیکھتے تو حیران بھی ہوتے اور خوش بھی۔
ایک دن ایک کوے نے آکر بندر اور بندریا کو جنگل کے بادشاہ کا پیغام دیا:” تم دونوں کو بادشاہ سلامت نے دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا ہے اور اس انسانی بچے کو بھی ساتھ لے کر آنے کی تاکید کی ہے۔
“ دونوں فکر مند ہو گے۔
”بادشاہ سلامت نے کیوں بلایا ہے؟“ بندریا بولی:” مجھے تو ڈرلگ رہا ہے میں نہیں جاوٴں گی۔“
اپنے خوف کو چھپاتے ہوئے بندر بولا۔” ڈرنے کی کیا بات ہے۔ ہم نے کوئی جرم تو نہیں کیا ہے۔

بندریا بولی:” میرے اس بچے کا تعلق انسانوں سے جوہے۔ شیر، چیتے اور بھیڑیے انسانی خون اور گوشت کے شوقین ہوتے ہیں۔ میں تو صدمے سے مرجاوں گی اگر اس بچے کو کچھ ہوا تو ۔ “ یہ کہتے کہتے وہ رو پڑی۔
بندر نے بندریا کو تسلی دی۔
”ہم نے اس انسانی بچے کی جان بچا کر ایک نیک کام کیا ہے۔ اللہ نیک کام کرنے والوں کو کبھی مایوس نہیں کرتا۔ وہی ہماری اور ہمارے اس بچے کی نگہبانی کرے گا۔“
اگلے روز دنوں سہمے سہمے جنگل کے بادشاہ کے دربار میں جا پہنچے۔
سارے جانور بادشاہ سلامت کے دربار میں موجود تھے۔ وہاں پہنچ کر دونوں نے نہایت ادب سے شیر بادشاہ کو سلام کیا۔
” آوٴ،آوٴ۔ ہم سب تمہارا ہی انتظار کر رہے تھے۔ “ شیر بولا۔” یہ بتاوٴ تم نے یہ انسانی بچہ کسی انسانی بستی سے اُٹھایا ہے؟“
”حضورِ والا! یہ بچہ ہم نے کسی انسانی بستی سے نہیں اُٹھایا۔
یہ ہمیں یہیں جنگل کے کنارے والی نہر سے ملا تھا۔“
” اچھا۔۔ ! کیا انسانی بچے بھی ہمارے بچوں کی طرح پیدائش کے چند گھنٹوں کے بعد چلنے پھرنے لگتے ہیں کہ آدمی کا یہ بچہ اپنی بستی سے بھاگتا ہوا ہمارے جنگل میں چلا آیا؟
کئی درباری جانور ہنس پڑے۔
شیر نے خونخوار نگاہوں سے ان کی طرف دیکھا تو سب سہم کر چپ ہو گئے۔
اب شیر نے بندر کو مخاطب کیا:” سچ سچ بتاوٴ اس آدمی کے بچے کو تم کہاں سے لائے ہو؟
بادشاہ سلامت! ہم سچ کہہ رہے ہیں۔ ہمیں یہ بچہ وہیں سے ملاہے۔ “ اس کے بعد اس نے وہ سارا واقعہ کہہ سنایا جو انھوں نے دیکھا تھا۔
پھر بولا” ہم سے اس ننھے بچے کا رونا نہ دیکھا گیا اور ہم نے فوراََ درخت سے نیچے آکر اسے اپنی گود میں اُٹھا لیا۔“
شیر نے سب جانورں کی طرف دیکھ کر کہا:” اس بندر اور بندریا نے اس ننھی سی جان کو بچا کر یہ ثابت کر دیا کہ ہم جانور، انسانو ں کی طرح بے درد نہیں ہوتے۔
ہمارے سینوں میں انسانوں سے کہیں محبت بھرا دل ہوتا ہے “۔ اتنا کہہ کرشیر ذرا رُکا پھر اپنی بات آگے بڑھائی:” جو بچوں سے محبت نہیں کرتا وہ حیوان ہے شیطان ہے قابل نفرت ہے اوریہ انسان۔۔۔ اشرف المخلوقات کہلوانے والے یہ لوگ اپنے بچوں پر بھی رحم نہیں کرتے۔
کیوں میاں مٹھو! میں غلط تو نہیں کہہ رہا ہوں؟“ اس نے طوطے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:”تم لوگوں نے تو انسانوں کے بہت قریب سے دیکھا ہے اور تمھارایہ نام بھی انہی لوگوں نے دیا ہے۔“
” جی ہاں عالم پناہ ! آپ درست فرما رہے ہیں ۔
انسان اپنی انسانیت کا بڑا ڈھنڈوراپیٹتے ہیں مگر ذرا ذرا سی بات پر آپس میں بری طرح لڑتے ہیں۔ انسانی درندگی کا یہ عالم ہے کہ اپنے مخالف کے بچوں تک کو معاف نہیں کرتے۔ ہمیں میاں مٹھو کہنے والے یہ لوگ ہمیں تو تاچشم بھی کہتے ہیں۔
جب ہم کسی طرح ان کے پنجرے سے فرار ہو جاتے ہیں تو و ہ ہمیں تو چشم ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ گویا انھوں نے ہمیں قید کر کے ہم پر بڑا احسان کیا تھا۔“
”جان کی امان پاوٴں تو میں بھی کچھ عرض کروں۔“ ایک کوّا بولا۔
”بولو ،کیا کہنا چاہتے ہو۔
“ شیر نے کہا۔
”انسانوں نے نہایت خطر ناک قسم کے ہتھیار بنائے ہیں۔ جو پلک جھپکتے میں ہزاروں کو موت کی نیند سلا دیتے ہیں۔ وہ بے دھڑک ان کا استعمال کرتے ہیں اور اپنے جیسے ہزاروں انسانوں کو مار ڈالتے ہیں۔
کوا رُکا تو شیر بولا:” یہ ہے ان کی درندگی کا حال۔
جو وہ ہم کو درندہ اور خونخوار کہتے ہیں مگر ہم تو اپنے جیسے کسی جانور کا شکار کبھی نہیں کرتے۔ کوئی شیر کسی شیر کو ، کوئی بھیڑ یا کسی بھیڑیے کو نہیں مارتا، مگریہ انسان ایسی درندگی کے بعد بھی اشرف المخلوقات کہلاتا ہے۔“
”میں کچھ عرض کروں اجازت ہے؟ ایک اُلو نے پوچھا۔

”اجازت ہے۔
”بادشاہ سلامت! انسانوں کے بارے میں جو باتیں کہی گئی ہیں وہ غلط نہیں ہیں مگر سب انسان ایک جیسے نہیں ہوتے۔ ان میں بڑی تعداد میں بہت اچھے انسان بھی ہوتے ہیں جو تمام انسانوں کی بھلائی اوربہتری کے لئے اچھے اچھے کام کرتے ہیں۔
اور بُرے انسانوں کو بُری باتوں سے روکنے کے لئے بڑی جدوجہد کرتے ہیں۔ ان کی بے شمار اچھی باتیں ہیں جن کی وجہ سے اشرف المخلوقات کہلاتے ہیں۔ “
دربار ختم ہونے کے بعد بند ر اور بندریا بہت خوش خوش اپنے گھر لوٹے۔ بندر بولا:” دیکھو ہماری نیکی کی بادشاہ نے بھی تعریف کی۔
تم خواہ مخواہ ڈر ہی تھیں۔“
” ہاں، اللہ کی مہربانی سے ہمارے بچے پر کوئی آنچ نہیں آئی۔“
دونوں اپنے بچوں کی طرح اس انسانی بچے کو بھی پالنے لگے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ بچہ بڑا ہونے لگا اور بندر کے بچوں کے ساتھ کھیلنے کودنے لگا۔
اب وہ اسے مختلف قسم کے پھل لا کر کھلانے لگے یہ بچہ بھی بندر کے بچوں کی طرح پیروں اور ہاتھوں کے سہارے بھاگنے دوڑنے اور درختوں کی شاخوں پر اُچھلنے کودنے لگا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب وہ اپنی خوراک کا بندوبست خود کرنے لگا اورجہاں اس کا جی چاہتا اکیلے آنے جانے لگا۔
جنگل کے جانور بھی اسے اپنے جیسا جانور سمجھنے لگے تھے ۔
ایک دن ایک شکاری کا گزر اس جنگل کی طرف ہوا تو اچانک اس ک نظر اس انسان نما جانور پر پڑی:” ارے ! یہ کیسا بندر ہے۔ اس کی شکل وصورت تو بالکل انسانوں جیسی ہے ۔“ اس نے دل ہی دل میں کہا۔
وہ ایک جگہ چھپ کر اسے دیکھنے لگا۔
یہ یقینا انسان ہے لیکن اس کی پرورش جنگلی جانوروں کے درمیان ہوئی ہے اس نے سوچا کہ اسے پکڑ کر انسانوں کی آبادی میں لے جانا چاہیے تاکہ وہ دوبارہ انسان بن سکے مگر اسے پکڑنا بڑا مشکل کام تھا۔
وہ انسانی بندر اسے دیکھتے ہی بھاگ جاتا تھا۔
شکاری نے یہ ترکیب نکالی کہ پھل اور کھانے کی مختلف چیزیں لاکر زمین پر ڈال دیتا اور چھپ کر اس پر نظر رکھتا ۔ اس کے ساتھ دوسرے بندر بھی وہاں آنے لگے۔ کئی دنوں کے بعد شکاری کھانے کی کچھ ایسی چیزیں لایا جن میں اس نے بے ہوشی کی دوا ملا دی تھی۔
انھیں کھا کر جب سارے بندر بے ہوش ہو گئے تو شکاری نے اس انسان نمابندر کو اُٹھا کر اپنی جیپ میں ڈالا اور اپنے شہر لے آیا۔ اب اس نے اسے دوبارہ انسان بنانے کے تمام جتن کر ڈالے۔ اسے نہلایا اور انسانوں جیسے کپڑے پہنائے۔ اسے کھانے پینے کی اچھی اچھی چیزیں دینے لگا۔
اس کے سونے کے لئے آرام دہ بستر کا بندوبست کیا مگر یہ سب اس کو اچھا نہیں لگتا تھا وہ اور خوں خاں کر کے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار کرتا۔
شکاری نے بہت کوشش کی کہ کسی طرح وہ اس کی بات سمجھنے لگے اور اپنی بات سمجھانے لگے مگر اس کی ساری کوشش بے کار ثابت ہوئی۔
ایسا لگتا تھا جیسا اسے انسانوں کی کوئی بات پسند ہی نہیں اور نہ وہ انسانوں کے ساتھ رہنا چاہتا ہے۔ شکاری نے اسے اپنی نگرانی میں رکھا تھا۔ اس کے باوجود ایک دن موقع ملتے ہی وہ انسانوں کی بستی سے جنگل کی طرف بھاگ گیا جہاں اس کے ماں باپ اس کے بغیر اداس تھے۔

Your Thoughts and Comments