Na Shukri Ki Saza

Na Shukri Ki Saza

ناشکری کی سزا

ایک دن بارہ سنگھا جنگل میں ہری گھاس چررہا تھا، پیٹ بھرجانے پر اسے پیاس محسوس ہوئی۔ اس جنگل میں شفاف پانی کی ایک ندی بہتی تھی۔

امیرہ سلیم :
ایک دن بارہ سنگھا جنگل میں ہری گھاس چررہا تھا، پیٹ بھرجانے پر اسے پیاس محسوس ہوئی۔ اس جنگل میں شفاف پانی کی ایک ندی بہتی تھی۔ بارہ سنگھا پیاس بجھانے کے لئے اس ندی کے کنارے پر جاپہنچا جب اس نے پانی پینے کے لئے منہ نیچے جھکایا تو شفاف پانی میں اپنا عکس نظرآیا۔
عکس دیکھ کر بارہ سنگھا بہت خوش ہوااس نے اپنے سر پر مضبوط اور لمبے سنگ دیکھ کر سوچا کہ ان سینگوں کی وجہ سے میری خوبصورتی کو چاہ چاند لگ گئے ہیں۔ اس کے ذہن میں خیال آیا کہ میں جنگل کا سب سے حسین جانور ہوں اور سر پر سینگوں کا تاج بھی ہے۔
اس لئے جنگل کا بادشاہ شیرکو نہیں مجھے ہونا چاہیے ۔
بارہ سنگھا ابھی اپنے سینگوں کو دیکھ کر خوش ہورہا تھا کہ اس کی نظر اپنی پتلی اور کمزور ٹانگوں پر پڑیں ، ٹانگوں کو دیکھ کر بارہ سنگھا ایک وم افسردہ ہوگیا اور سوچنے لگا کاش میری ٹانگیں بھی سینگوں کی طرح خوبصورت ہوتیں کچھ دیر اپنی ٹانگوں کو دیکھنے کے بعد بارہ سنگھا اپنے گھر کی طرف چل پڑا وہ اپنی پتلی ٹانگوں کو کوستا ہوا آگے بڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک شیر نے اس پر حملہ کردیا ،شیر کو اپنے تعاقب میں دیکھ کر بارہ سنگھا جان بچانے کے لئے گھنے جنگل کی طرف بھاگنے لگا بارہ سنگھا انہیں دہلی ٹانگوں کے ساتھ اتنی تیزرفتاری سے بھاگا کہ شیر بہت پیچھے رہ گیا۔

(جاری ہے)

بھاگتے بھاگتے بارہ سنگھے نے مڑکر اپنے تعاقب میںآ نے والے شیر کو دیکھنے کی کوشش کی توا س کے لمبے اور خوبصورت سینگ ایک درخت کے جھکی ہوئی ٹہنیوں میں الجھ گئے اچانک سینگ پھنس جانے پر بارہ سنگھا بہت پریشان ہواوہ اپنے سینگ چھڑانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کرنے لگالیکن اس کوشش میں اس کے سینگ ٹہنیوں میں مزیدالجھ کررہ گئے ، اب اسے احساس ہوا کہ ان لمبے اور خوبصورت سینگوں سے اس کی دہلی پتلی ٹانگیں جن کو وہ کچھ دیر پہلے بدصورت کہہ رہا تھا زیادہ بہتر ہیں ان ہی ٹانگوں کے سہارے اپنی جان بچانے کے لئے وہ اب تک بھاگتا رہا۔
بارہ سنگھا خود کو آزاد کو کرانے کی کوشش کررہا تھا کہ شیر اس کے قریب آن پہنچا اور چھلانگ لگا کر اس کی گردن اپنے نوکیلے دانتوں میں دبوچ کر کھانے لگا ۔
ہمیں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکرادا کرنا چاہیے۔

Your Thoughts and Comments