Tairhvin Kursi

Tairhvin Kursi

تیرھویں کرسی

فون رکھ کر وہ سر پکڑ کر کرسی پر بیٹھ گئیں۔ پھر وہی کمبخت 13منحوس ہندسہ ۔ وہ بڑبڑا رہی تھیں۔

وقار محسن :
بیگم اسرار کے وہمی مزاج کی وجہ سے پورا خاندان پریشان تھا۔ کوا دیوار پر کائیں کائیں کرے ، کالی بلی راستہ کارٹ جائے۔ منگل کو کسی کام کا آغاز کرنا ہو ، کسی ایسے ہند سے کا انتخاب جو دوسے تقسیم نہ ہوتا ہو۔
یہ سب توہمات ان کے ذہن پر اس طرح سوار رہتے جیسے زندگی اور موت کا مسئلہ ہو۔اسراس صاحب کی ترقی کے سلسلے میں آج دعوت کا انتظام ہو رہاتھا۔ اس دوران ان کی اسی کمزروی کی وجہ سے مسئلہ کھڑا ہو گیا تھا۔ جب بیگم اسرار مختلف انتظامات کا معائنہ کرنے ڈرائنگ روم میں آئیں اور کھانے کی میز کے گرد تیرہ کرسیوں کی ترتیب دیکھی تو بھڑک اُٹھیں :”ائے ہے توبہ توبہ‘ یہ تین تیرہ کا ہندسہ بڑا منحوس ہوتا ہے۔
کس نے تیرہ کریساں لگوائی ہیں۔

(جاری ہے)


اسرار صاحب نے کہا:ارے بیگم! آپ بھی کیسی احمقانہ باتیں کرتی ہیں۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے اب لوگوں کو مدعو کیا جا چکا ہے۔“
بیگم زور دے کر بولیں:”یہ نہیں ہو سکتا۔ بد شگونی ہے۔

آپ ایسا کریں کہ مسٹر اور مسزاحمد حسین اور ان کی بیٹی کو بھی مدعو کر لیں، اس طرح تعداد سولہ ہو جائے گی، حالانکہ وقت کے وقت دعوت دینا بد اخلاقی ہے۔“
پھر بیگم اسرار نے فون نمبر ملایا۔ رابطہ ہونے پر وہ بولیں:” مسز حسین! کیا حال ہیں آپ کے ؟ آپ کو کئی بار فون ملانے کی کوشش کی لیکن بات نہ ہو سکی۔
دراصل آج اسرار صاحب کی ترقی کے سلسلے میں رات کے کھانے کا انتظام کیا ہے۔پلیز آپ اور احمد بھائی ضرور آئیں اور روشن بیٹی کو بھی لائیں۔“
ادھر سے فارغ ہونے کے بعد انھوں نے بابا رحیم کو ہدایت کی کہ کھانے کی میز پر تین کرسیوں کا اضافہ کردیں ابھی کرسیاں نہیں لگائی گئی تھی کہ فون کی گھنٹی بجی۔
بیگم اسرار نے ہونٹ سکوڑتے ہوئے ریسیور اُٹھایا:کون؟ رشیدہ آپا۔ خیریت؟ کیا کہا؟ نفیس بھائی کو بخار ہے اور سہیل کا میچ ہے تو پھر آپ تینوں نہیں آسکیں گئے؟“
فون رکھ کر وہ سر پکڑ کر کرسی پر بیٹھ گئیں۔ پھر وہی کمبخت 13منحوس ہندسہ ۔
وہ بڑبڑا رہی تھیں۔ لوگ بھی کس قدر غیر ذمہ دار ہیں۔ وقت کے وقت معذرت کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے میں سسرالی خاندان والوں کو بلانے سے گھبراتی ہوں۔
اسی دوران ان کا بڑا بیٹا ہاتھ میں ریکٹ گھماتا ہوا آیا اور کہا:” ارے امی ! مجھے شام کو کلب جانا ہے۔
میں شاید ڈنر میں شریک نہ ہو پاوٴں ۔ آپ ایک کرسی کم کروا دیں۔ بارہ کا ہندسہ تو منحوس نہیں ہے نا؟“
کھانے کی میز سے ایک کرسی ہٹواتے ہوئے انھوں نے اطمینان کا سانس لیا ۔ اسی دوران پڑوس سے بیگم رفیق پرس گھماتی ہوئی تشریف لائیں اور کھانے کی میز کو آراستہ دیکھ کر انھوں نے تقریب کے بارے میں معلوم کیا تو بیگم اسرار نے تکلفاََ کہا ” ارے کیا آپ کا فون خراب ہے؟ میں صبح سے فون کر رہی ہوں آپ کو دعوت دینے کے لئے ۔
بھلایہ کیسے ممکن ہے کہ کسی تقریب میں آپ کو مدعونہ کیا جائے۔“
بیگم رفیق بے تکلفی سے بولیں” ارے کوئی بات نہیں۔ اتنے قریبی تعلقات میں رسمی دعوت نامے کی کیا اہمیت ہے ۔رفیق تو آج لاہور گئے ہیں لیکن میں ضرور آوٴں گی۔

بیگم رفیق کے جانے کے بعد بیگم اسرار غصے سے بال نوچنے لگیں۔ یعنی پھر کمبخت یہ 13کا ہندسہ۔ وہ جھنجلا کر اسرار صاحب سے مخاطب ہوئیں جو اطمینان سے اخبار پڑھ رہے تھے اور بیگم صاحب کی حالت پر مسکرا رہے تھے۔
”ارے آپ آرام سے اخبار پڑھ رہے ہیں۔
اب کیا حل ہو گا اس مسئل کا۔“
”بھئی میرا خیال ہے کہ علی اکبر ڈرائیور سے کہہ دینا کے شام کو وہ ذرا ڈھنگ کے کپڑے پہن کر آجائے۔ اس طرح چودہ لوگ ہو جائیں گے۔“
بیگم کویہ مشورہ پسند نہیں آیا کہ ایک ملازم کو اپنے ساتھ کھانے کی میز پر بیٹھا یا جائے۔
پھر بھی، کیوں کہ مجبوری تھی۔ اکبر علی کو کھانے کے آداب سمجھائے گئے اور تاکید کر دی کہ شام کو معقول کپڑے پہن کر آجائے۔ رحیم چاچانے تھکے تھکے قدموں سے چل کر ایک کرسی کا اضافہ کر دیا۔
رات کو آٹھ بجے لوگ آنا شروع ہو گئے۔
کچھ ہی دیر بعد علی اکبر سرخ پھولوں والی چمک دار شیروانی پہنے آنکھوں میں کاجل لگائے تیل میں بھیگے بالوں کا چاند ماتھے پر بنائے تشریف لائے۔ لان میں بیٹھے لوگوں کو جھک کر فرشی سلام کیا ۔ ان کو دیکھ کر بیگم اسرار کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا۔
اس سے پہلے وہ لوگوں کے درمیان رونق افروز ہوتے اسرار صاحب نے ان کو خونخوار نظروں سے گھورا اور آنکھ کے اشارہ سے وہاں سے جانے کا اشارہ کیا۔ اب پھر 13 لوگ رہ گئے تھے۔ اب وقت نہیں تھا اس لئے مجبوراََ کھانا لگا دیا گیا۔
کھانے کی میز کے اس چکر میں رحمت بابا اتنا اُلجھ گئے تھے کہ ان کو یاد ہی نہیں رہا اور انھوں نے بریانی میں نمک دو بارہ ڈال دیا۔

کھانا شروع ہوا۔ بیگم اسرار نے شیخی بگھارتے ہوئے بریانی کی قاب مزارئیس بیگ کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:”بھائی جان ! یہ نوش فرمائیں۔ فیصل آباد سے بطور خاص چاول منگوائے ہیں۔بکرا بھی گھر پر کٹوایا۔ صرف بریانی پر پانچ ہزار خرچ آیا ہے۔

امجد بھائی نے ابھی بریانی چکھی ہی تھی۔ بیگم اسرار کی بات سن کر مسکرا کر بولے :” بھابھی! درست فرما رہی ہیں۔ یقینا پانچ ہزار خرچ ہوئے ہوں گئے۔ دو ہزار کا تو نمک ہی پڑگیا ہو گا۔“
یہ سن کر اسرار صاحب نے بریانی چکھی اور ان کا سرندامت سے جھک گیا۔ مہمانوں کے جانے کے بعد اسرار رحیم بابا پر برس پڑے جن کی وجہ سے سب کے سامنے ان کی سبکی ہوئی لیکن بیگم اسرار کو اب بھی یقین تھا کہ یہ سب 13 کے منحوس ہندسے کی وجہ سے ہوا۔

Your Thoughts and Comments