Afaat

Afaat

آفت

ہر طرف ایک ہلچل مچی ہوئی تھی۔ افراتفری کا یہ عالم تھا کہ ہر کوئی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتا پھر رہا تھا۔ کسی کو کسی کی فکر نہیں تھی۔ سب کو اپنی اپنی پڑی تھی۔دراصل ایسی مصیبت اس سے پہلے آئی ہی نہ تھی

ہر طرف ایک ہلچل مچی ہوئی تھی۔ افراتفری کا یہ عالم تھا کہ ہر کوئی اپنی جان بچانے کے لیے بھاگتا پھر رہا تھا۔ کسی کو کسی کی فکر نہیں تھی۔ سب کو اپنی اپنی پڑی تھی۔
دراصل ایسی مصیبت اس سے پہلے آئی ہی نہ تھی۔ چھوٹے موٹے حادثات تو ہوتے رہتے تھے مگر ایسی آفت اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی تھی۔
ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جیسے قضا پوری شدت سے ان پر ٹوٹ پڑی ہو، ایک جناتی سا پنجا آتا اور کسی وجود کو اپنی گرفت میں دبوچ کر لے اُڑتا، کوئی کونا، کوئی ٹھکانا اس کی دست برد سے محفوظ نہ تھا۔ وہ پنجا، چھینے والوں کو اپنی دوربین نگاہوں سے ڈھونڈ نکالتا ان کا پیچھا کرتا اور بے دردی سے دبوچ لیتا۔
اس کے بعد کچھ پتا نہ چلتا کہ اس بدقسمت کا کیا حشر ہوا۔
آج صبح تک سب کچھ ٹھیک ٹھاک تھا۔

(جاری ہے)

سب کچھ اپنے معمول کے مطابق جاری تھا کہ پہلے پانی کا سیلاب آیا۔ کئی تو اس طوفانی ریلے میں ہی بہ گئے۔ بچنے والوں پہ یہ جناتی پنجا قیامت بن کے ٹوٹ پڑا۔

تمام بڑوں کو اس نے چن چن کر اپنا شکار بنایا۔ چھوٹے اس خوش فہمی میں تھے کہ شاید وہ بچ گئے مگر پھر ایک بڑے بڑے دندانوں والی بَلا آئی۔ یہ بلا ایک ہی بلے میں بہت سوں کو اپنے ساتھ سمیٹ کر لے جاتی۔ جیسے فصل کی تیاری سے پہلے فالتو جھاڑ جھنکار کو ٹریکڑ کے ذریعے ختم کیا جاتا ہے ایسے ہی ان کا صفایا کیا گیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے تھوڑی دیر پہلے جہاں کھوے سے کھوا چھل رہا تھا سناٹا چھا گیا۔ یہاں تک کہ آفت کا شکار ہونے والوں پر کوئی رونے والا بھی نہ بچا۔
اس قدر تباہی کی وجہ شاید یہ تھی کہ وہ اس آفت کے لیے تیار ہی نہ تھے اِدھر اُدھر چھپنے کے سوا ان کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔
اس کے پہلے معمولی ہلچل تو ہو جاتی۔ جیسے ہی وہ اپنا پیٹ بھرنے کے لیے کمر کستے کوئی طاقت ورہاتھ انھیں جھنجوڑ ڈالتا۔ سب کے سب ادھر اُدھر اپنی پناہ گاہوں میں دبک جاتے۔ مگر آج تو جیسے قضا ان پر ٹوٹ پڑی ہو،چُن چُن کر ان کا خاتمہ کیا گیا۔
دیکھتے ہی دیکھتے سب جائیں اور لیکھیں ختم ہو گئیں۔
جووٴں پر ٹوٹنے والی اس قیامت سے بے نیاز سکینہ کی ماں سکینہ کے سر میں کنگھی کیے جا رہی تھی ۔ سکینہ کی کمر پر ایک ہلکی سی چپت لگاتے ہوئے وہ بولیں، لے تیرے سر کی ساری جوئیں ختم ہو گئیں کمبخت ! کتنی بار کہا ہے سر دھویا کر اور روز کنگھی کیا کر۔ سارا سر جووٴں سے بھرا پڑا تھا۔“
اور سکینہ منھ بسورتی اُٹھ کر چل دی۔

Your Thoughts and Comments