Baap

Baap

باپ

باپ کو اپنا ہیرو اور اپنا قائد اور اپنا محافظ سمجھیں۔والدین کی ذات وہ ٹھنڈی چھاؤں ہے جس کے تلے بچہ خود کو تمام قسم کی آفات اراضی سے محفوظ سمجھتے ہیں،اور باپ پر خصوصیت سے بچوں کو بڑا مان ہوتا ہے

باپ:
باپ کا رویہ کچھ اس قسم کا ہونا چاہیے کہ وہ باپ کو اپنا ہیرو اور اپنا قائد اور اپنا محافظ سمجھیں۔والدین کی ذات وہ ٹھنڈی چھاؤں ہے جس کے تلے بچہ خود کو تمام قسم کی آفات اراضی سے محفوظ سمجھتے ہیں،اور باپ پر خصوصیت سے بچوں کو بڑا مان ہوتا ہے،آپ نے اس قسم کے فقرے بچوں کی زبانی اکثر سنے ہوں گے،”میرے ابو بہادر ہیں انہوں نے کتوں کو چھری سے مارا تھا“ہمارے ابو کراچی سے گاڑی لائے ہیں“یہ کھلونے اور ٹافیاں میرے ابو نے مجھے لاکر دی ہیں“ہمارے ابو ہر روز ہمیں سیر پر لے کے لیے لے جاتے ہیں“وغیرہ وغیرہ۔
باپ کا رویہ بچوں سے کسی قدر دوستانہ قسم کاہونا چاہیے تاکہ وہ بیجا خوف کا شکار نہ رہیں لیکن ساتھ ہی باپ کو ہر لحظہ اس بات کی احتیاط رکھنی چاہیے کہ کہیں بھی اس کے رویے میں ایسا جھول نہ پیدا ہو جس سے اس بزرگانہ وقار کوٹھیس پہنچے،وہ گھر کا سردار ہے اور اسے اپنے رتبے اور اپنے وقار کا بہر حال لحاظ رکھنا چاہیے مختصراً اس کا رویہ ایک مشفق بادشاہ کا سا ہونا چاہیے جو اپنی رعیت سے محبت رکھنا ہے،اس کی فلاح کے کام کرتا ہے اور جس کے سائے تلے رعایا خود کو بالکل محفوظ و مامون تصور کرتی ہیں لیکن ساتھ ہی اس کے دبدبہ اور رعب کے باعث رعایا کہ یہ مجال نہیں ہوتی کہ کوئی غلط کام کرجائے،سنجیدگی،ٹھہراؤ،تدبر،شفقت اور حکمت باپ کے کردار کی نمایاں خصوصیات ہونا چاہییں۔

(جاری ہے)


بچوں میں جذبہ رشک و رقابت:عام مشاہدہ ہے کہ جہاں گھر میں چھوٹا بچہ پیدا ہوا، بڑے بچے بدمزاج اور چڑ چڑے ہوجاتے ہیں چھوٹا بھائی بہن ان کا کھیل کا ساتھی یا کھلونا تو بعد میں بنتا ہے لیکن پیدائش کے وقت سے شیر خواری کے زمانے تک یعنی اس وقت تک جب تک وہ ماں سے زیادہ وابستہ رہتا ہے،ان کی عداوت اور رشک و رقابت کا نشانہ رہتا ہے،جس اقلیم میں وہ کبھی تنہا راج کیا کرتے تھے اس میں اب ان کا ایک اور شریک پیدا ہوجاتا ہے اب تک وہ ماں باپ کے پیار کی سلطنت کے تنہا شہزادے تھے،اب یہ ننھا سا مدمقابل ہر لحظہ انہیں مقابلے کی دعوت دیتا ہے کہ دیکھیں کون ماں کے پیار اور اس کی توجہ کو زیادہ اپنی طرف کھینچتا ہے۔
ماں جس کے پیار کی دولت کے وہ اب تک تنہاوارث تھے،اب اپنے رویے میں قدرے بے توجہی کا مظاہرہ کرتی ہے اور چھوٹے بچے کی طرف زیادہ مائل نظر آتی ہیں،بچے پیار کی اس کمی کو اس محرومی کو اس شدت سے محسوس کرتے ہیں کہ وہ ضدی چڑچڑے،زور رنج،مضمحل ور حتیٰ کہ بیمار ہوجاتے ہیں بعض اوقات یہ جذبہ بڑھتے بڑھتے ان میں تشدد پسندی پیدا کردیتا ہے ،ماں کی نظر جونہی بچتی ہے وہ اس معصوم دشمن کو سزا دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں،اُس کے بال نوچتے ہیں گال کھینچتے ہیں اُسے مارتے پیٹتے ہیں ایسے موقعوں پر اکثر مائیں جلدی سے آکر چھوٹے بچے کو ان کے ہاتھ سے چھڑا کر گود میں لیتی ا ور گلے سے لگا لیتی ہیں اور بڑے بچے کو ڈانٹتی برا بھلا کہتی اور مارتی پیٹتی ہیں۔
یہ چیز بچوں کے ذہن میں رشک و رقابت کی آگ کو اور ہوا دیتی ہے اور سب سے زیادہ غم و غصہ انہیں ماں کے رویے پر ہوتا ہے۔چنانچہ وہ بلک بلک کر رونے لگتے ہیں ،اور کاملاً اپنے اس ننھے دشمن سے بدگمان ہوجاتے ہیں ان کا غم و غصہ اس وقت سب سے زیادہ شام کو نہایت مزے سے ماں کے پہلو میں سونے کے لیے لیٹ جاتا ہے اور وہ خود دادی،نانی یا ابو کے پاس سلائے جاتے ہیں،ایسے حالات میں ماؤں کو چاہیے کہ چھوٹے بچے کے ساتھ ہی خود کو مکمل طور پر مشغول نہ کرلیں بلکہ بڑے بچے کو بھی اپنے ساتھ وابستہ رکھیں اور اپنے سے علیحدہ نہ ہونے دیں بلکہ اپنے ساتھ ہی پلنگ پر سلائیں تاکہ وہ محبت کی کمی کو محسوس کرکے آزردہب خاطر اور پریشان نہ ہوں،نئے بچے کی آمد بچے کی جذباتی زندگی میں ایک زلزلے کی حیثیت رکھتی ہیں۔
اور اس زمانے میں جب کہ گھر میں نومولود کی آمد پر سب خوش و خرم اور اسی کے ساتھ مشغول ہوں یہ نہ بھولیے کہ ہر بار جب آپ چھوٹے بچے کے گال پیار سے تھپتھپاتے ہیں کوئی ننھاسا دل دھڑدھڑکرنےلگتاہے۔جہاں تک ہوسکے اس زمانے میں بڑے بچے کو ہر ممکن دل دہی اور دل داری کیجیے اور اسے بے آسرا اور ہراساں نہ ہونے دیجیے،باپ کو خاص طور پر اس زمانے میں اپنی پوری توجہ اور کوشش و کاوش کو بڑے بچے کی دل دہی اور دلار کے لیے وقف رکھنا چاہیے تاکہ پیار کی اس کمی کی کچھ بڑے بچے کے لیے ہوجاتی ہیں باپ کو چاہیے کہ اس زمانے بڑے بچے کو خوبصورت کپڑے کھلونے،مٹھائی،ٹافی اور اس کی پسند کی اشیا زیادہ سے زیادہ مقدار میں لاکر دے تاکہ اس کا ذہن ان چیزوں میں لگارہے اور یوں دھیان بٹا رہے۔

Your Thoughts and Comments