Hum Be Murawwat Hain

ہم بے مروت ہیں

مروّت اچھی چیز ہے ،لیکن کبھی کبھار اس سے اچھا خاصا نقصان بھی ہو جاتا ہے ۔بھئی،سچ پوچھیں تو ہم مروت کا زیادہ خیال نہیں رکھتے،

بدھ فروری

hum be murawwat hain

ہم بے مروّت ہیں
عفان احمد خان
مروّت اچھی چیز ہے ،لیکن کبھی کبھار اس سے اچھا خاصا نقصان بھی ہو جاتا ہے ۔بھئی،سچ پوچھیں تو ہم مروت کا زیادہ خیال نہیں رکھتے،دعوت ،شادی ،عید،بقرعید ،پکنگ غرض ہر موقعے پر ہم میزبان کی مروت کا بھر پور فائدہ اُٹھاتے ہیں ۔

اب خود ہی فیصلہ کریں میزبان بے چارہ ”اور لیں نا“کی گردان کررہا ہے ،اس موقع پر اچھا تو نہیں لگتا کہ ہم ”اور نہ “لیں۔
جہاں تک بات ہے کہ ہم اپنے مہمان کے ساتھ زیادہ مروت نہیں کرتے ۔ہمارا اُصول ہے کہ اگر کوئی مہمان بھنویں نیچے اور آنکھیں اوپر کرکے کہے:”ارے کڑاہی گوشت تو ہماری بسمہ کھاتی ہی نہیں ہے ۔

ہم ایسے موقعوں پر دو پہر کے بچے ہوئے ٹنڈے بسمہ کو کھلا دینے کے قائل ہیں ‘پھر ضرور بسمہ کو کڑاہی گوشت اچھا لگنے لگے گا۔

(جاری ہے)

اس کے علاوہ اگر ”غلطی “سے کسی دوست کے گھر پھل وغیرہ لے کر چلے جائیں اور وہ مروت کی غلطی کر بیٹھے اور کہہ دے :”بھئی،اس کی کیا ضرورت تھی؟“
تو ہم یہ کہنے میں دیر نہیں لگا ئیں گے :”کوئی بات نہیں ،جاتے ہوئے واپس لے جاؤں گا۔


اب بے چارہ میزبان کچھ بول بھی نہیں سکتا اور واپسی میں ہم تھیلا اُٹھائے واپس آجاتے ہیں ۔ہمیں نہیں معلوم کہ بعد میں وہ خود کو کیسے تسلی دیتے ہوں گے۔
آپ یہ نہ سمجھیے گا کہ ہم خاندان میں ”بے مروت “مشہور ہیں ،بالکل نہیں ۔
بلکہ ہم تو ”بامروّت “مشہور ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں جو مہمان آتا ہے ،وہ بھی اپنی مروّت کو باہر چھوڑ کر آتا ہے اور ہم بھی اس کی بھر پور مہمان نوازی کرتے ہیں ۔
ہماری بامروّتی کی صرف کھانوں اور دعوتوں ہی میں نہیں ،بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں ہم مروّت کو پاؤں کی ٹھو کر پر رکھتے ہیں۔

وہ شاید میٹرک کا پرچہ تھا۔ہمارے پرانے دوست شہر یار نے دورانِ پیپر ہم سے کچھ پوچھا۔ہم پر چہ چھوڑ کر اس کی طرف متوجہ ہوئے،مگر بندئہ خدا نہایت ہی آہستہ بول رہا تھا۔کچھ وقت تو میں نے انتظار کیا ،لیکن پھر میری آواز جماعت میں گونجی :”بھئی شہریار! جو پوچھنا ہے ،خدارا ،اونچی آواز میں پوچھو۔

اب اس بے چارے کو کچھ پوچھنا یادہی نہیں رہا اوروہ سٹپٹا کرپر چہ حل کرنے لگا۔شادی میں جانے سے قبل جب گھر میں بڑی بہن عاجزی سے پوچھتی ہیں :”عفان!ذرا بتانا،میں کیسی لگ رہی ہوں؟“
”بس ٹھیک ہی ہیں ،میک اپ اچھا تو نہیں ہوا۔
“ہم برجستہ کہہ دیتے ہیں ۔اس کے بعد ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے ،یہ راز کی بات ہے۔
آدمی میں خود اعتمادی ہونی چاہیے۔جیسی کہ ہماری خالہ میں ہے ،اپنی شادی کی تصویر دکھاتے ہوئے پوچھتی ہیں:”اس ہیروئن کو جانتے ہو؟“نہ کہ ایسا کہ دو گھنٹے تیار ہونے کے بعد عاجزی سے پوچھا جائے کہ میں کیسی لگ رہی ہوں ۔

بعض لوگ بالکل ہی”بے مروّت “ہوتے ہیں ۔یقین مانیے،ہم ان میں سے بالکل نہیں ۔ان لوگوں میں ہماری بہن صاحبہ شامل ہیں ۔ہمارے سامنے بیٹھ کر چاکلیٹ ، بسکٹ وغیرہ کھاتی جائیں گی اور بتاتی بھی جائیں گی :”اشعر! تو آج کل ڈائٹنگ پر ہے ۔
سعد بازار کی چیزیں نہیں کھاتا ،عفان بھائی! یہ لیں ۔“
یہ کہتے ہوئے بسکٹ کا ایک ہزارواں حصہ مجھے ایسے دیتی ہیں جیسے کسی بنگلے کی چابی دے رہی ہیں ۔
ہم بھی اس کے دوسرے ہاتھ میں پکڑے بسکٹ کا پیکٹ چھین کر بھاگ کھڑے ہو تے ہیں ،کیوں کہ ہم بے مروّت جو ہیں ۔

Your Thoughts and Comments