Kiya Internet Se Mutalye Ka Shouq Kaam Ho Raha Hai

Kiya Internet Se Mutalye Ka Shouq Kaam Ho Raha Hai

کیا انٹرنیٹ سے مطالعے کا شوق کم ہو رہا ہے ؟

اگر آپ کو مطالعے کا شوق نہیں ہے اور آپ اخبارات ،رسائل اور کتاب نہیں پڑھنے تو آپ کبھی صحافی نہیں بن سکتے۔ وہ طالب علم جنھیں ادب سے لگاوٴ ہوتا ہے وہ مطالعہ ضرور کرتے ہیں۔ بہر حال اگر کسی کو لکھنے کا شوق ہے

اگر آپ کو مطالعے کا شوق نہیں ہے اور آپ اخبارات ،رسائل اور کتاب نہیں پڑھنے تو آپ کبھی صحافی نہیں بن سکتے۔ وہ طالب علم جنھیں ادب سے لگاوٴ ہوتا ہے وہ مطالعہ ضرور کرتے ہیں۔ بہر حال اگر کسی کو لکھنے کا شوق ہے تو اس مختلف موضوعات پر کتابیں پڑھنی چاہئیں۔

حقیقت یہ ہے کہ جس میں انٹرنیٹ کا عمل دخل ہے امریکا کے تعلیمی ماہرین اس بات پر متفکر ہیں کہ اسکول کے طلبہ کتا ب ہاتھ میں لینے کے بجائے انٹرنیٹ پر بیٹھے رہتے ہیں۔ وہ مختلف اوقات میں پڑھتے ہیں اور ایسی معلومات جمع کرلیتے ہیں۔
جو ان سے پہلے والی نسلیں نہیں کرپاتی تھیں۔ انٹرنیٹ سے ملنے والی معلومات مختلف قسم کی ہوتی ہیں جب کہ کتاب کا موضوع ایک ہوتا ہے اور اس کے توسط سے حاصل ہونے والی معلومات ایک ہی قسم کی ہوتی ہیں۔

(جاری ہے)


انٹرنیٹ سے حاصل ہونے والی معلومات تازہ ترین اور ہر اعتبار سے مکمل ہوتی ہے۔

کتاب کی نسبت یہ معلومات جلد اور آسانی سے حاصل کی جاسکتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کتاب ان معلومات اور موضوعات کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
ماہرین کو اس بات پر بھی تشویش ہے کہ طلبہ انٹرنیٹ استعمال کر کے تنہائی کا شکار ہو گے ہیں۔
وہ اب اجتماعی مطالعہ کرنے کے بجائے اکیلے بیٹھے مانیٹر کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ طلبہ کی تخیلاتی اور تخلیفی صاحیتیں دم توڑ رہی ہیں اس لئے کہ انٹرنیٹ نہایت سہولت سے الفاظ، ویڈیو اور آڈیو سب کچھ ناظرین کو مہیا کر دیتا ہے نیٹ دیکھنے والے کو اپنے ذہن کو زحمت نہیں دینی پڑتی۔

انٹرنیٹ سے فائدہ حاصل کرنے والا ایک طبقہ اس سے بہت خو ش ہے مشاہدات سے معلوم ہوا ہے کہ ایسے طلبہ کے امتحانات میں نمبر زیادہ آتے ہیں جو پابندی سے نیٹ پر تحقیق کرتے ہیں اس لئے کہ وہ اس سے بہت کچھ سیکھ جاتے ہیں ۔ کم از کم وہ اپنی زبان کی غلطیوں کو درست کر لیتے ہیں۔

اب نیٹ پر کتابیں بھی دست یاب ہیں جو آسانی سے کمپیوٹر پر ڈاوٴن لوڈ کی جا سکتی ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ ان کے لئے قیمت ادا نہیں کرنی پڑتی۔ وہ افراد جنھیں روایتی انداز میں کتابیں پڑھنے میں دل چسپی نہیں ہے نیٹ نے ان کتابوں کے ساتھ متحرک فلمیں بھی منسلک کر دی ہیں تاکہ وہ جو کچھ پڑھ رہے ہیں اسے تصویری شکل میں بھی دیکھ سکیں۔

مختصر یہ کہ انٹرنیٹ کی بنا پر مطالعے کا طریقہ تبدیل ہو گیا ہے۔ آپ کو اپنی تمام تر توجہ کتاب کے صفحات پر مرکوز کرنے کے بجائے کمپیوٹر کی اسکرین پر نظریں جمانی پڑتی ہیں۔ عمر رسیدہ افراد جو انٹرنیٹ استعمال نہیں کرتے ایک ہاتھ میں کتاب اور دوسرے میں کافی کا مگ تھام کربھی مطالعہ کرتے ہیں۔

Your Thoughts and Comments