Jahan Quaid e Azam Paida Hue

Jahan Quaid E Azam Paida Hue

جہاں قائداعظم پیدا ہوئے

نونہالوں کو اس یادگار تاریخی عمارت کی سیر ضرورکرنی چاہیے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ بانی پاکستان جہاں پیدا ہوئے وہ عمارت کیسی ہے، اس میں کتنے کمرے ہیں اور کیسی روہ داریاں ہیں؟

نسرین شاہین :
بانیِ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 1876 کو پیر کے دن کراچی میں پیدا ہوئے۔جب قائداعظم سات دن کے تھے تو دہلی میں ملکہ وکٹوریہ کے قیصرِ ہند ہونے کا اعلان کیا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح اس سال پیدا ہوئے جب ہندوستان میں برطانوی سلطنت مستحکم ہوئی۔
تقریباََ 70 سال بعد اسی ملکہ وکٹوریہ کے پڑپوتے سے قوم کے رہنما قائداعظم نے مسلمانوں کی آزادی کے لئے فیصلہ کُن جدوجہد کی۔
قائداعظم کراچی کے قدیم علاقے کھارا در کے جس مکان میں پیداہوئے ،اس وزیر مینشن کے نام سے جانا جاتا ہے۔
کھارا در میں چھاگلہ اسٹریٹ پر واقع یہ عمارت جہاں قائداعظم پیدا ہوئے 1860 اور 1870 کے درمیان تعمیر ہوئی تھی تقریباََ ڈیڑھ سو سال پرانی ہے۔ اس تین منزلہ عمارت کا رقبہ 125 مربع گز ہے۔

(جاری ہے)

قائداعظم کے والدین کا ٹھیاواڑسے کراچی آکر اسی عمارت میں رہنے لگے۔

قائداعظم کے بزرگ کا ٹھیاواڑ کے رہنے والے تھے۔ وہاں جب ان کا کاروبار نہ چلا تو کراچی میں کھارادر کے قدیم علاقے میں آکر آباد ہوگئے۔ ان کے والد جناح پونجا چمڑے کا کاروبار کرتے تھے۔ محمد علی جناح کے علاوہ ان کی چھوٹی بہن فاطمہ جناح بھی وزیرمنیشن میں پیدا ہوئی تھیں۔

وزیرمنیشن کراچی کی قدیم ترین عمارتوں کے درمیان میں واقع ہے۔ 19 ویں صدی کی انوکھے طرز کی ان عمارتوں میں سے ایک وزیرمنیشن بھی ہے۔ محراب نما کھڑکیوں، دریچوں اور راہ داریوں والی اس تین منزلہ عمارت کی پہلی منزل پر دکانیں تھیں، اوپر کی منزلیں رہائش کے لئے وقف تھیں۔

وزیرمنیشن کو قائداعظم کا مقامِ پیدائش ہونے کی وجہ سے تاریخی اہمیت حاصل ہے ۔ عمارت کی اس اہمیت کی وجہ سے قائداعظم محمد علی جناح کی یاد میں حکومت نے وزیر مینشن کو یادگار اور قومی تاریخی ورثہ قرار دیتے ہوئے وہاں ایک لائبریری قائم کر دی ہے۔
اس تاریخی عمارت میں قائداعظم کے استعمال کی بعض نادر چیزیں بھی نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔
ورزمینشن اب قائداعظم کی یادگار کے طورپر حکومت پاکستان کے محکمہ آثار قدیمہ کی تحویل میں ہے۔اس عمار ت کی پہلی منزل پر قائداعظم کے زیر مطالعہ قانون کی 684 کتابیں بطور ریادگار محفوظ ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح جب چھ برس کے ہوئے تو انھیں کراچی کے مدرستہ الاطفال میں داخل کیا گیا۔ پھر 4جولائی 1887 کو کرسچین مشینری سوسائٹی ہائی اسکول میں داخل ہوئے۔ کچھ عرصے بعد قائداعظم بمبئی جا کر مدرسہ انجمنِ اسلام کی پہلی جماعت میں داخل ہوئے ۔
لیکن پھر چند ماہ بعد کراچی واپس آکر 23 دسمبر 1887 کوسندھ مدرستہ الااسلام میں داخلہ لیا۔ قائداعظم نے اپنے ابتدائی تعلیمی مراحل وزیرمینشن میں رہتے ہوئے طے کیے۔
چند سال پہلے وزیرمینشن کو نئے سرے سے آراستہ کیاگیا۔ جس کی وجہ سے عمارت میں دل کشی پیدا ہوگئی ہے۔
تاریخی اہمیت کی حامل یہ عمارت وزیر مینشن کراچی کے ایک ایسے علاقے میں واقعے ہے جو قدیم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت مشہور ہے۔
نونہالوں کو اس یادگار تاریخی عمارت کی سیر ضرورکرنی چاہیے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ بانی پاکستان جہاں پیدا ہوئے وہ عمارت کیسی ہے، اس میں کتنے کمرے ہیں اور کیسی روہ داریاں ہیں؟ اس قدیم عمارت کو دیکھنے کے بعد یہ بھی معلوم ہو سکے گا کہ پرانے وقتوں میں رہائشی عمارتیں کس انداز سے تعمیر ہوا کرتی تھیں اور ان میں روشنی اور ہوا کے گزرنے کا کیا بندوبست ہوا کرتا تھا۔

Your Thoughts and Comments