Mosaam e Garma Ki Chuttiyoon Main Bachoon K Mashagil

Mosaam E Garma Ki Chuttiyoon Main Bachoon K Mashagil

موسم گرما کی چھٹیوں میں بچوں کے مشاغل

ضروری مشاغل میں ہر وہ کھیل شامل ہیں جو بچوں کی جسمانی وذہنی نشو ونما میں اضافہ کرتے ہیں،جبکہ غیر ضروری مشاغل میں وہ کھیل ہیں جس میں صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہے اب خود سوچیں کہ آپ کون کون سے غیر ضروری مشاغل میں دلچسپی لیتے ہیں؟

مظہر حسین شیخ:
موسم گرما کی چھٹیاں جاری ہیں اور بچوں کے ضروری و غیر ضروری مشاغل کا سلسلہ بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے، ضروری مشاغل میں ہر وہ کھیل شامل ہیں جو بچوں کی جسمانی وذہنی نشو ونما میں اضافہ کرتے ہیں،جبکہ غیر ضروری مشاغل میں وہ کھیل ہیں جس میں صرف اور صرف وقت کا ضیاع ہے اب خود سوچیں کہ آپ کون کون سے غیر ضروری مشاغل میں دلچسپی لیتے ہیں؟ان چھٹیوں میں رات دیر تک جاگنا اور صبح تاخیر سے اْٹھنا بچوں کا معمول بن چکا ہے ، ایسے میں یقیناً ہوم ورک میں دشواری پیش آتی ہو گی،جو کام صْبح سویرے اْٹھنے کے بعد ابتدائی دو یا تین گھنٹوں میں احسن طریقہ سے ہو جاتا ہے، تاخیر سے جاگنے کے بعد نہیں ہو سکتا اور سستی بھی طاری رہتی ہے۔
یوں تو ہر بچہ یہی چاہتا ہے کہ چھٹیوں کا کام جلد از جلد مکمل کرلیا جائے تاکہ باقی چھٹیاں خوب ہلہ گلہ اور موج مستی میں گزاریں ، جوکہ درست نہیں ،ابتدائی دنوں میں اپنا ہوم ورک مکمل کرنے کی بجائے روزانہ کی بنیاد پر یہ سلسلہ جاری رکھیں گے تو جو بھی ہوم ورک کیا ہو ذہن نشین رہے گا۔

(جاری ہے)

موسم گرما کی چھٹیوں میں بچوں کے لیے سب سے ضروری کام یہ ہے کہ پانچوں وقت کی نماز باجماعت ادا کریں،تاکہ نماز پڑھنے کی عادت پختہ ہو جائے، روزانہ اپنے ہوم ورک کا مطالعہ کریں جو بچوں کے لیے گھنٹوں نہیں منٹوں کا کام ہے۔ بچے ہوم ورک کے دوران ساتھ ساتھ اپنے مشاغل بھی جاری رکھ سکتے ہیں وہ اس طرح کہ چھٹیوں کے کام میں سارا دن صرف مت کریں اور اس کے لیے ایک ٹائم ٹیبل بنائیں اسی ٹائم ٹیبل کے مطابق اپنے کام سر انجام دیں اس میں باجماعت نماز ادا کرنا سب سے افضل اورضروری ہے۔
کیونکہ نماز ہی دنیا و آخرت میں کامیابی کا راز ہے۔ایک بات کا خاص خیال رکھیں کہ رات کو سونے اور صبح سویرے اْٹھنے میں تاخیر نہ کریں وقت پر سونا اور وقت پر جاگنا بھی ایک قسم کی ورزش ہے۔ رات کو جلد سونے اور صبح سویرے اٹھنے والے بچوں کی صحت اچھی رہتی ہے۔

موسم گرما کی چھٹیوں میں بچے سیر و تفریح کے لئے شمالی علاقہ جات پر جانے کا پروگرام بڑے شوق سے بناتے ہیں ہر بچے کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ قدرت کے حسین مناظر اور نظاروں سے لطف اندوز ہولیکن کچھ طالب علم ایسے بھی ہیں جوان مقامات کی سیر کرناتو چاہتے ہیں لیکن کچھ مجبوریوں کی بناپران کی وہاں تک رسائی مشکل ہے اور یہ بھی ممکن ہے بعض بچے اپنے پا پا کی کاروباری مصروفیات کی وجہ سے وہاں نہیں جا سکتے ،ان مقامات کی سیر بچے اکیلے نہیں کر سکتے اس کے لیے والدین کا جانا بہت ضروری ہے۔
دوسری بات یہ کہ ان مقامات پر جانے کے لیے بعض والدین اس لیے انکار کر دیتے ہیں کہ وہ اتنا خرچہ برداشت نہیں کر سکتے لیکن ایسا بہت کم دیکھنے میں آیا ہے۔ آج کے بچے بڑے خوش قسمت ہیں کیونکہ والدین بچوں کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں اس کے لیے چاہے انہیں ادھار ہی کیوں نہ لینا پڑے وہ بچوں کی ہر خواہش کا احترام کرتے ہوئے ان کی جائز و ناجائز ضد پوری کر دیتے ہیں۔
بچوں کو بھی چاہیے کہ وہ والدین کی امیدوں پر پانی نہ پھیریں بلکہ پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بننے کی کوشش کریں اور یہ اسی صورت ممکن ہے جب زیر تعلیم طالب علم پڑھائی میں خصوصی دلچسپی لیں گے۔
آج کل کے بچے بڑی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔
انٹرنیٹ اور موبائل فون کو آپریٹ کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ بڑے اتنی تیزی سے اسے آپریٹ نہیں کر سکتے جتنی جلدی بچے کرتے ہیں اگر وہ غیر ضروری مشاغل میں اوّل نمبر پر ہیں تو پڑھائی میں کیونکر پیچھے رہ سکتے ہیں۔ بات دلچسپی کی ہے جس کام میں بچے دلچسپی لی جائے گی وہ پایہ تکمیل تک ضرور پہنچے گا۔
کسی بھی کام کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے عقل اور ذہانت تو استعمال ہوتی ہے لیکن کام میں نکھار پیدا کرنے کے لیے محنت اشد ضروری ہے اور یہ بھی حقیقت ہے کہ محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ اس لیے بچوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ غیر ضروری کاموں کی بجائے پڑھائی میں زیادہ دلچسپی لیں۔
یہ نہیں کہ آپ اپنے مشاغل ترک کر دیں۔ کھیل کود میں دلچسپی نہ لیں، سیر و تفریح کے پروگرام نہ بنائیں تعلیم اور تفریح ساتھ ساتھ ہونی چاہئے،لیکن پڑھائی پر کسی کو ترجیح نہ دیں۔
بات ہو رہی تھی موسم گرما کی چھٹیوں میں تفریحی مقامات کی سیر کی، بعض اوقات تفریحی مقامات پر جانے والے بچے خطروں سے کھیلتے ہیں، دوران سفر گاڑی یا ٹرین سے ہاتھ باہر نکالتے ہیں، بس کی چھتوں پر بیٹھتے ہیں۔
بات یہاں ختم نہیں ہوتی، خطرناک راستوں کے ذریعے سفر طے کرنے کے بعد جب شمالی علاقہ جات پہنچتے ہیں تو وہاں بھی شرارتوں اور اچھل کود کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ شرارت اور اچھل کود بچوں کا حق ہے اور یہ حق ہم ان سے نہیں چھین سکتے لیکن پہاڑی مقامات پر ایک ایک قدم بڑی احتیاط سے رکھنے کی ضرورت ہے۔ وہاں کسی قیمت پر بھی شرارت یا جلد بازی نہیں کرنی چاہے۔ ایسا کرنے سے ناخوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔

Your Thoughts and Comments