Oont ALLAH Ki Aik Nishani

Oont ALLAH Ki Aik Nishani

اونٹ۔ اللہ کی ایک نشانی

اللہ تعالیٰ نے اونٹ کو ایسا حرت انگیز اور اتنا فرماں بردار بنایا ہے کہ چوہیا بھی اس کی رسی پکڑے تو وہ چل پڑے۔ اونٹ ایک ایسا صحرائی جانور ہے جو ایک مہینے سے زیادہ بغیر پانی پیے صحرا میں چل سکتا ہے۔

زاہد حمید:
اللہ تعالیٰ نے اونٹ کو ایسا حرت انگیز اور اتنا فرماں بردار بنایا ہے کہ چوہیا بھی اس کی رسی پکڑے تو وہ چل پڑے۔ اونٹ ایک ایسا صحرائی جانور ہے جو ایک مہینے سے زیادہ بغیر پانی پیے صحرا میں چل سکتا ہے۔ اس کی پُشت پر اتنی گنجائش ہوتی ہے کہ انسان اپنے کھانے پینے اور بستر وغیرہ کے ساتھ یوں سفر کا لطف اُٹھاتا ہے جیسے وہ اپنے گھر میں بیٹھا ہو۔

کوہان:
اونٹ کا کوہان چربی سے بنتا ہے جو اس کو خوراک نہ ملنے کی صورت میں غذا فراہم کرتا ہے۔ اس قدرتی نظام کے ساتھ یہ تین ہفتوں تک پانی کے بغیر زندہ رہ سکتاہے۔ مگر اتنے عرصے میں اس کا وزن 33 فی صد کم ہوجاتا ہے۔
اس کے برعکس انسان کو اگر غذا اور پانی نہ ملے تو وہ اپنا 8 فیصد وزن کھونے کے ساتھ 36 گھنٹوں میں موت کے منھ میں پہنچ جاتا ہے کیوں کہ اس عرصے میں اس کے جسم کا سارا پانی ختم ہو جاتا ہے۔

(جاری ہے)


قرآن پاک میں اونٹ کا ذکر:
”سورہٴ یوسف“ میں بغیر کسی عنوان سے بھی اونٹ کا تذکرہ موجود ہے جو حضرت یوسف کے قصے اور بار برداری کے تعلق سے ہے۔


حضرت صالح علیہ السلام کی دعا:
ایک دن ثمود نامی قوم کے لوگوں نے حضرت صالح علیہ السلام سے بڑی عجیب و غریب فرمائش کی کہ ہمیں ایک معجزہ ایسا دکھائیں کہ ان کے سامنے والی چٹانوں سے ایک اونٹنی نمودار ہو اور اس وقت ایک بچے کو بھی جنم دے دے۔
لہٰذا حضرت صالح علیہ السلام نے اللہ کے حضور دعا مانگی۔ اللہ نے خوب صورت جسم والی اونٹنی کو بھیجا، جس نے سب کے سامنے آکر ایک خوب صورت سابچہ بھی دے دیا۔ اللہ نے حضرت صالح علیہ السلام کی دعا رد نہیں کی۔
احادیث میں اونٹ اور اونٹنی کا ذکر:
ایک مرتبہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اونٹ نظر آیا۔
حضور ﷺ نے اس کی طرف دیکھا تو اونٹ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ آپﷺ نے اس کے مالک سے فرمایا:” تو خدا سے نہیں ڈرتا۔ اس اونٹ نے مجھے سے شکایت کی ہے کہ تو اسے بھوکا رکھتا ہے۔“
تپش سے محفوظ رکھنے والی جلد:
اونٹ کی جلد اُون جیسے گھنے اور گچھے دار بالوں سے بنتی ہے جو اس جانور کو سخت سردی اور جلا دینے والی گرمی سے محفوظ رکھتی ہے او ر اسے پانی کمی سے بچاتی ہے ۔
سعودی عرب اور شمالی افریقا کا اونٹ اپنے جس کے درجہ حرارت کو 41 ڈگری سینٹی گریڈ تک بڑھا لیتا ہے۔
اپنی اس خصوصیات کی بنا پر اونٹ ایشیا میں موسمِ گرما میں زیادہ سے زیادہ گرمی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور سردی کے موسم میں بھی اونٹ اپنے آپ کو کافی حد تک محفوظ کر لیتا ہے۔

ریت سے محفوظ سر:
قدرت نے اونٹ کی پلکوں میں ایسا نظام رکھا ہے کہ جیسے ہی خطرے کا پتا چلتا ہے تو خود بخود اس کی آنکھیں بند ہو جاتی ہیں تاکہ مٹی کے ذرات اس کی آنکھوں کو نقصان نہ پہنچاسکیں۔اونٹ کی لمبی گردن پتوں کو خوراک بنانے کے لئے زمین سے 3 میٹر بلندی تک پہنچ جاتی ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اونٹ کانٹے دار پودوں کو بھی بڑے مزے سے کھاتا ہے اور اسے ہضم کرنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی، کیوں کہ اس کی زبان کی مضبوطی خاردار چیزوں کو چپانے اور ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے۔

Your Thoughts and Comments