Phool Sathion K Naam

Phool Sathion K Naam

پھول ساتھیوں کے نام

آج وطن ہمیں پکاررہاہے یوم آزادی تجدید عہد کا دن

مریم اعجاز :
عالم اسلام کی حالت دیکھ کربالعموم جبکہ ملک کی حالت دیکھ کر بالخصوص دل خون کے آنسو روتا ہے۔ ہم کیا تھے․․․․․ کون تھے․․․․․ ہماری حیثیت کیا تھی․․․․․․ ہماری طاقت کا انحصار کس پر ہوتا تھا․․․․․ آج ہم ان تمام باتوں سے بے خبر ہیں گویا غفلت کی نیند سورہے ہیں۔

تاریخ عالم میں مسلمانوں کے زوال کی جووجوہات ملتی ہیں ان میں سے کچھ وجوہات ہی پاکستان کی تنزلی کا باعث ہیں۔ ان میں سے ایک وجہ تو ملک کے اندر موجودغداروں کا پھوٹ ڈلوانا ہے۔ آج ملک کے اندر موجودغداروں کا پھوٹ ڈلوانا ہے۔
آج ملک عزیز مفادپرست حکمران قابض ہیں جو ملک کو ڈوبتا تو دیکھ سکتے ہیں لیکن عیش وآرام سے دوری برداشت کرنا ان کیلئے محال ہے۔ دوسری طرف ہم عوام کا شمار بھی انہیں غداروں میں ہوتا ہے۔

(جاری ہے)

جو اپنے ہی ہاتھوں سے ملک کی جڑیں کاٹنے میں ملوث ہیں اور یہ ہم ہی توہیں جنہوں نے ملک کی باگ ڈور ایسے لوگوں کے سپرد کی جو اس کے اہل نہ تھے۔


وہ ملک کس طرح ترقی کرسکتا ہے جس کے قابل ہووہونہار طالب علم دوسرے ممالک کو سدھارجائیں ا ور ملک کو ان سے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو․․․․․․ تقریباََ لاکھ پاکستانی اس وقت غیر ممالک میں اپنے اچھے مستقبل کی خاطر کام کررہے ہیں اور افسوس کہ ان سے ملک کوکوئی فائدہ نہیں ہورہا۔
یہ بات ٹھیک ہے کہ پاکستان میں روشن مستقبل کے مواقع کم ہیں۔ اگر تمام پاکستانیوں سے وطن عزیز کو صحیح معنوں میں فائدہ حاصل ہو تو جلد ہی ہمارا وطن کامیابیوں کو چھوتا نظر آئے گا۔ جب الوطنی کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ تمام تر صلاحتیں ملک کے لئے وقف کردی جائیں۔

ہمارے ملک کی کچھ اہم شخصیات ایسی ہیں جنہوں نے جب الوطنی کے تقاضے کو پورا کرتے پوئے ملک کی پکار پر اپنی تمام ترصلاحتیں ملک کے لئے پیش کردیں اور آج ان کی اس محنت کے ثمرات نوجوان نسل حاصل کررہی ہے۔ دوسری طرف ہم کیسے محب وطن ہیں کہ ہمارے کانوں میں ملک کی پکارگونج رہی ہے اس کے باوجود ہم غفلت سے بیٹھے ہیں۔
اگر ڈاکٹر عبدالقدیرخان اور ثمرمبارک مند صاحبان بھی وطن کی پکار پرکان نہ دھرتے تو آج شاید پاکستان ایٹمی طاقت کا حامل واحد اسلامی ملک نہ ہوتا۔ اگرہم بھی اپنا تن من دھن دین وملت کے لئے وقف کردیں تو انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب خوشیاں اور راحتیں ہمارے گھروں کی چوکھٹ پر ہوں گی۔

ہماری شکست کی دوسری وجہ اسلامی احکامات سے دوری ہے۔ جیسے جیسے مسلمانوں نے اسلامی تعلیمات کو بھلانا شروع کردیا ویسے ویسے ناکامی ہمارامقدر بنتی گئی اور تنزلی ترقی پر غالب آتی گئی۔ وہ مسلمان جنہوں نے صدیوں حکومت کی تھی آج وہی مسلمان دوسروں کے زیر تسلط ہیں۔
آج ہم تنزلی کے اس گورکھ دھندے میں بھٹک رہے ہیں جہاں سے نکلنا بہت مشکل ہے۔ لیکن اپنے حصے کا فرض ادا کر کے ہم ترقی کی راہ میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔ مختلف شعبوں سے وابستہ لوگ اپنے شعبوں میں دیانتداری سے کام لیں تو پاکستان کی حالت یکسر بدل جائے۔
پاکستان کو اللہ نے گراں بہا اور حسن وجمیل کی پیکر نعمتوں سے نوازا ہے جو کسی شمار میں نہیں آسکتیں۔ ہماری فوج کو جو طاقت اور دہشت عطا کی اس کا مقابلہ کرنے کے لئے کسی اور فوج میں اتنی سکت نہیں۔ فوج کے جوانوں میں آج بھی وہ جذبے پائے جاتے ہیں جو آج سے ستمبر کی جنگ میں دیکھنے کو ملے تھے۔
ستمبر کی جنگ میں نوجوانوں کے جوش اور دلولے کی تعریف غیرمسلم لوگوں نے بھی کی تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ایک مرتبہ پھر محمد بن قاسم ‘ طارق بن زیاد، صلاح الدین ایوبی اور عظیم سپہ سالار میدان میں کود پڑے ہوں۔ جن کی بہادری آج بھی ضرب المثل ہے۔
دنیا نے ایک مرتبہ پھر خیرالدین باربروسا کو سمندر میں آگ لگاتے دیکھا۔
دور حاضر میں فوج نے جس مہارت سے آپریشن ضرب عضب سرانجام دیا اس کے کیا کہنے۔ وہ دشمن جو عرصہ دراز سے ملک کے ایک حصے میں قابض تھے انہیں پاکستانی فوج نے چنددنوں میں شکست سے دو چار کیا۔
ہماری فوج کے ہر جوان غازی اور شہید کے کارنامے قابل تحسین ہیں۔ انہیں خراج عقیدت اور ان کی عظمت کو سلام۔
اللہ کی عطا کردہ نعمتوں کی قدرکریں اپنے محب وطن ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اپنی تمام ترصلاحتیں ملک کے لئے وقف کریں۔
دوسری بات یہ کہ مسلمان ہونے کے ناطے اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں جوکہ ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اسلام کو تعلیمات پر عمل کرکے دنیا اور آخرت کی کامیابیاں ہماری قدموں میں ہوں گی۔ اسلام ایک مسلمان کے لئے آب حیات ہے۔
تو آئیے ہم مل کر عہد کریں ا ور اپنے وطن کو خوشیوں اور کامیابیوں کا مسکن بنائیں۔

Your Thoughts and Comments