Raah e Amal

Raah E Amal

راہ عمل

بچوں کی تیاریاں عروج پر تھیں

عشرت جہاں:
جولائی کا مہینہ گزرا اگست کے مہینے کی پہلی اور دوسری تاریخ بھی دبے پاؤں گزر گئی۔ 3اگست سے کچھ ہلچل سی مچی۔سلمان ،ضامن آنے ولی 14 اگست کے حوالے سے کچھ بات کررہے تھے دادا جان بھی وہیں موجود تھے اور کسی کتاب کے مطالعہ میں مصروف تھے۔
14 اگست اور یوم آزادی کے نام پر وہ کچھ چوکنا ہوکر بیٹھ گئے اور بچوں کی باتیں سننے لگے۔ 4 اور 5 اگست کو فواد،نور،روشان بھی جوش وخروش سے سلمان اور ضامن کے ساتھ بحث میں شامل ہوگئے ۔ دادا جان یون آزادی کے حوالے سے پھیلنے والی ہلچل کو محسوس کررہے تھے۔
یوں جیسے جھیل میں پتھر مارا جائے اور دائرے بنتے چلے جائیں۔ روز بروز یہ دائرے وسیع ہورہے تھے۔ سب بچے چاہتے تھے کہ اس بار 14 اگست ذرامنفرد طریقے سے منائی جائے۔

(جاری ہے)

آخر کار 6 اگست کو ناہید آپی نے ایک خوبصورت سا پروگرام سب کے سامنے رکھا اور سب بچے اش اش کر اٹھے۔

7 اور 8 اگست کو پروگرام کو حتمی شکل دی گئی اور 9 اگست سے عملی کام شروع ہوگیا۔
باغ میں اسٹیج بنانے کے لئے عملی کام شروع ہوگیا۔ سفید اورہرے رنگ کی نیٹ سے اسٹیج کو سجایا جانا تھا ۔ نرسری سے خوبصورت بڑے بڑے گملے منگوائے گئے۔
ناہید آپی اور سنبل نے مل کر ان پر گیرو پھیرا جس سے گملے اور بھی خوبصورت لگنے لگے، ہرے بھرے پودے جھومنے لگے۔
سلمان ،ضامن،نور اورروشان ملی نغموں کی تیاری کررہے تھے یوم آزادی کے حوالے سے تقریری مقابلوں کی تیاری بھی جاری تھی۔
اسد، فیضان اور حرا دادا جی سے تقریر لکھنے کی ٹپس لے رہے تھے۔ سنبل نے تحریک آزادی کے حوالے سے خوبصورت پینٹنگز بنائیں اور دلوں کو گرما دینے والے شعر بھی خوشخط لکھے۔ ناہید آپی کی ساتھی ٹیچرز نے بھی تقریب میں آنا تھا اس لئے سب بچے بھرپور تیاری میں مصروف تھے۔
اپنے اپنے طور پر سب ہی نے خوبصورت بیجز بھی خرید رکھے تھے۔ امی اور عائشہ پھوپھو نے کھانے کا مینیو تیار کیا۔ گھر میں خوب رونق لگی تھی۔
10اگست کو سب کے مشورے سے داداجان کو مہمان خصوصی کے طور پر مدعو کیا گیا۔ دادا جان نے ہی مقابوں کے نتائج کا فیصلہ کرنا تھا اور انعامات دینے تھے۔

11 اگست کو یوم آزادی کے حوالے سے ذہنی آزمائش کے مقابلے کی تیاری کی گئی۔ بچوں کی بھر پور تیاری دیکھ کر گھر کے سب افراد خوش اور حیران تھے۔ 12 اگست کو ملی نغموں کے مقابلے کی ریہرسل کی گئی:
میں بھی پاکستان ہوں
تو بھی پاکستان ہے
سلمان نے ملی نغمے کے خوبصورت بول پڑھے۔

کہتی ہے یہ راہ عمل آؤ ہم سب ساتھ چلیں
مشکل ہو یا آسانی ہاتھ میں ڈالیں ہاتھ چلیں
دادا جان غور سے سن رہے تھے۔
سورج ہے سرحد کی زمین چاند بلوچستان ہے
میں بھی پاکستان ہوں تو بھی پاکستان ہے
13 اگست کو تقریری مقابلے کی فائنل تیاری کی گئی۔

”لے کے رہیں گے پاکستان․․․بن کر رہے گا پاکستان“اسد نے تقریر کے دوران پُر جوش نعرہ لگایا۔
”قائم رہے گا پاکستان“․․․دادا جان نے زیر لب کہا اور پھر خود ہی مسکرادیئے۔

Your Thoughts and Comments