Rozay Aur Bachay

روزے دار بچے

رمضان المبارک انتظار بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی ہوتا ہے۔ رمضان بھر افطاری کے لیے ان کی من پسند چیزیں تیارکی جاتی ہیں۔

جمعرات جون

Rozay Aur Bachay
نسرین شاہین:
رمضان المبارک انتظار بڑوں کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی ہوتا ہے۔ رمضان بھر افطاری کے لیے ان کی من پسند چیزیں تیارکی جاتی ہیں۔ دہی بڑے ،چنا چاٹ، فروٹ چاٹ، سموسے، رول ، پکوڑے، طرح طرح کے پھل اور مزے مزے کے شرپتوں سے دسترخوان سجائے جاتے ہیں۔
یہ سب چیزیں بچے بڑے شوق سے کھاتے ہیں۔
گھر کے بڑوں کو صبح سحری شام کوا فطاری کااہتمام کرتا دیکھ کرکم سن بچوں میں بھی یہ خواہش پیدا ہوتی ہے روزہ بھی ایسی عبادت ہے، جس کی عادت تو بچپن سے ہی ڈالنی چاہیے، جو بچے ابھی چھوٹے ہیں اور ان پر عبادت فرض نہیں، انھیں روزے سے متعلق مفید باتیں بتائی جائیں، تاکہ وہ روزہ رکھنے کے لیے پہلے سے تیار رہیں ۔

بچوں کے لیے یہ بات شاید دل چپ ہوکہ برسوں پہلے چھوٹے بچوں کو بہلانے کے لیے کہہ دیتے تھے کہ اچھی بھئی ایک داڑھ کاروزہ رکھ لو۔

(جاری ہے)

روایت یہ ہے کہ ایک داڑھ کے روزے میں کم سن بچے سحری کے بعد دن بھرایک داڑھ سے کھاتے پیتے بھی رہتے اور پھر پورے اہتمام سے بڑوں کے ساتھ افطار بھی کرتے اس طرح کے روزے کے ذریعے وہ کھانا پینا جاری رکھتے اور انھیں یہ احساس بھی ہوتاکہ ان کاروزہ ہے، اس لیے انھیں کوئی برا کام نہ کرنا چاہیے۔

پھر جیسے جیسے بچے میں سمجھ آتی جاتی ہے، وہ حقیقی روزے کے قریب آنے لگتے ہیں ا ور جلد ہی روزے رکھنے شروع کردیتے ہیں۔
اس رمضان میں جو بچے اپنا پہلا روزہ رکھیں گے، وہ مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ساتھ ہی سراہے جانے کے قابل بھی ہیں کہ وہ روزے جیسی عبادت کاآغاز کررہے ہیں، لیکن روزہ رکھنے سے پہلے وہ نماز کی پابندی اپنالیں۔
اگر نماز پڑھنی آتی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے، لیکن زیادہ ا چھی بات یہ ہوگی کہ لڑکے اپنے بڑوں کے ساتھ مسجد میں اور لڑکیاں گھر پر اپنی امی اور بہنوں کے ساتھ پانچ وقت نماز ادا کریں۔
نماز کے عادی بچوں کو روزے میں نماز ادا کرنے میں مشکل پیش نہیں آئے گی، بلکہ وہ روزے میں نماز ادا کرکے خوشی اطمینان محسوس کریں گے ۔
نماز کے ساتھ ساتھ قرآن پاک کی تلاوت بھی کریں۔ جن بچوں نے قرآن مجید ختم کرلیا ہے، وہ رمضان میں اپنا پورا قرآن دہرالیں۔ جن بچوں نے ابھی قرآن مجید ختم نہیں کیا ہے، وہ بھی روزانہ پڑھے ہوئے پارے دوبارہ پڑھ لیں تو انھیں قرآن خوب اچھی طرح یاد ہوجائے گا اور پڑھنے میں روانی آجائے گی۔

وہ بچے جوروزے رکھتے ہیں، انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ روزے کی حالت میں ہر برے کام سے بچنا ضروری ہے۔ برے اور ناپسندیدہ کام توویسے بھی نہیں کرنے چاہییں، لیکن روزہ رکھ کر ان سے بچنا زیادہ ضروری ہوجاتا ہے۔ جھوٹ بولنا، غیب کرنا، چغلی کرنا، براکہنا، گالی دینا، مارپیٹ کرنا، غصہ کرنا چوری کرنا، سب برے کام ہیں۔
روزہ انسان کوناپسندیدہ کاموں سے روکتا ہے۔ بچے دین کی اچھی باتیں سیکھیں اور رمضان المبارک کے بعد بھی ان پر عمل کرتے رہیں۔ س
اس سال بھی رمضان میں اسکول کی چھٹیاں ہوں گی اور گرمی بھی خوب ہوگی ۔ روزہ رکھنے والے بچے غیر ضروری گھر سے باہر نہ نکلیں۔
دوپہر میں آرام ضرور کریں اور دھوپ میں ہرگز نہ کھیلیں۔ باہر نکلنے اور کھیلنے کودنے سے تھکن ہوجائے گی اور پیاس بھی شدت سے لگے گی۔ اس پریشانی سے بچنے کے لیے گھر میں زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں۔ اس طرح آرام بھی ملے گا اور روزہ بھی ا چھا گزرے گا۔

جن بچوں کی روزہ کشائی ہے، ان کے پہلے روزے کااہتمام بھی ہوگا۔ افطار کے موقع پر قریبی رشتے دار بھی آئیں گے اور بچے کے رشتے کے بہن بھائی بھی شامل ہوں گے۔ اس کا مقصد روزہ رکھنے والے بچے کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ ساتھ ہی دوسرے بچوں میں بھی یہ تحریک ہوتی ہے وہ بھی جلد سے جلد روزے رکھنا شروع کریں۔

پہلا روزہ رکھنے والے بچوں کو روزے کی حقیقی روح سے آشنا کرانا بھی ضروری ہے کہ روزہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے رکھا جاتا ہے۔ اچھے کاموں سے اللہ خوش ہوتا ہے۔ آپ بھی اچھے کام کریں۔ اپنی روزہ کشائی ،میں اپنے ان دوستوں اور پڑوسیوں کو بھی شامل کریں، جو غریب ہیں ان کو افطار میں شامل ہونے کی دعوت دے دیں یاان کے گھر افطاری بھجوادی۔
روزہ رکھنے کی خوشی کے ساتھ ہونے کی دعوت دے دیں یاان کے گھر افطاری بھجوادیں۔ روزہ رکھنے کی خوشی کے ساتھ، دوسروں کو خوشی دینے کی خوشی بھی آپ کو ملے گی، کیوں کہ روزہ رحمت ہی رحمت ہے۔

Your Thoughts and Comments