Shaadi Or Khana

Shaadi Or Khana

شادی اور کھانا

نونہالو! کل رات مجھے ایک شادی میں جانا تھا، مگر جب سوچا کہ وقت ساڑھے آٹھ بجے کا لکھا ہے ،مہمان ساڑھے نو بجے سے پہلے نہیں آئیں گے اور ساڑھے دس بجے تک آتے رہیں گے

نونہالو! کل رات مجھے ایک شادی میں جانا تھا، مگر جب سوچا کہ وقت ساڑھے آٹھ بجے کا لکھا ہے ،مہمان ساڑھے نو بجے سے پہلے نہیں آئیں گے اور ساڑھے دس بجے تک آتے رہیں گے۔ پھر سیر سے بارات آئے گی۔ نکا ح پڑھایا جائے گا۔ گیارہ بج یہ جائیں گے۔
کھانا کھلے گا اور پھر کھاتے کھاتے رات کے بارہ بج ہی جائیں گے۔ واپس ایک بجے تک آوٴں گا۔ سوتے سوتے اڈیڑھ بج ہی جائے گے۔میں ایسا ڈرا کہ شادی میں نہیں گیا۔ معذرت کر لی۔ میں نہ اپنی نیند برباد کر سکتا ہوں اور نہ اپنا وقت ضائع کر سکتا ہوں اور نہ رات دیر سے نہایت ثقیل زردہ، بریانی ،قورما، لال روٹیاں کھا کر اپنے ہضم کا نظام خراب کر سکتا ہوں اور نہ اپنی صحت کو داوٴ پر لگا سکتا ہوں۔
ایسی شادیوں کو سلام جو ہر طرح نقصان ہی نقصان پہنچائیں۔ کل رات میں شادی میں تو گیا نہیں مگر نہ جانے کیا دل میں آئی۔

(جاری ہے)

میں نے کھانا نہ کھانے کا فیصلہ کیا۔ خان نے کہا:مین نے کھانا اوپر ہی میز پر لگا دیا ہے۔“ میں نے کہا۔” آج بس دل نہیں چاہ رہا ہے۔

“ کھانا واپس چلا گیا۔میں جلد لیٹ گیا۔ رات کودو بجے ایسا لگاکہ پیٹ میں آگ لگی ہوئی ہے ۔میں بڑا پریشان ہوا کہ یہ کیسی آگ اورجلن ہے ۔یہ بھول گیا کہ رات کھانا نہیں کھایا تھا۔پیٹ خالی ہے۔ نونہالو! اللہ تعالیٰ کا نہایت عجیب انتظام ہے۔
ہمارے معدے میں ایک تیزابِ ہاضم پیدا ہوتا رہتا ہے ۔ یہ تیزاب کھانے کو ہضم کرتا ہے۔ تیزاب تو پیدا ہوتا ہی رہتا ہے اگر معدہ خالی ہو تو یہ تیزاب معدے میں جلن پیداکرتا ہے۔ اگر یہ تیزاب نہ وہ تو بھوک بھی نہ لگے۔ میرے معدے میں اگ اور جلن اس لیے تھی کہ پیٹ بالکل خالی تھا۔
مجھے اس قسم کی بے چینی کم ہی ہوتی ہے۔ میں نے اس جلن کو برداشت کیا تین بج کر 17 منٹ تھے کہ میں اُٹھ گیا۔ معدے میں بدستور آگ تھی۔میں نے فوراََ ٹھنڈا دودھ لیا اور نوش جان کیا۔ جلن ختم ہو گی۔ سکون سا پڑ گیا۔ میں تیاری میں لگ گیا۔
مگر میں برابر یہ غور کرتا رہا کہ اس کراچی میں ہزاروں انسان ایسے ہوں گے جن کو رات کاکھانا نہیں ملا ہو گا۔ ان کے معدوں میں جب آگ لگی ہو گئی تو انھوں نے کیا کیا ہوگا۔ نونہالو! جب تک پاکستان میں ایسے غریب ہیں کہ انہیں کھانے کو نہیں ملتا، جنہیں سونے کے لیے جگہ نہیں ملتی اور وہ گلیوں ، سڑکوں اور پارکوں میں رات گزارتے ہیں اور صبح اُٹھ کر بے چین اِدھر اُدھر بھاگتے ہیں اس وقت تک پاکستان ، پاکستان نہیں ہے۔
ذرا تم غور کرو میرے پیارے نونہالو! ایک طرف سیکڑوں شادی گھروں میں کھانے لُٹ رہے ہیں لوگ کھانے کھا رہے ہیں مگر ضائع زیادہ کر رہے ہیں اور دوسری طرف ہزار ہا لوگ ایک ایک نوالے کو ترس رہے ہیں۔مَعَاَذ اللہ۔ نونہالو! ہمارے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا۔
”تمہارے گھر کے دائیں بائیں اگر کوئی ایسا انسان ہے جسے کھانے کو نہیں ملتا تو تم نے پڑوسی کو حق ادا نہیں کیا۔ شادی گھروں کے اندر طرح طرح کے کھانے اور باہر گلیوں میں غریب پیٹ پکڑے بیٹھے ہیں۔ یہ کہاں کی انسانیت ہے۔

Your Thoughts and Comments