Begum Ki Grammar

بیگم کی گرامر

ہفتہ نومبر

Begum Ki Grammar
 کرنل محمد خان
اتفاقاً میرے ہاتھ سے گلاس چھوٹ گیا اور فرش پر گر کر ٹوٹ گیا۔بیگم نے تیر کی طرح الزام کھینچ مارا”آپ ہمیشہ گلاس توڑ دیتے ہیں۔“
حالانکہ اس سے پہلے مجھ سے فقط ایک گلاس ٹوٹا تھا اور وہ بھی ہماری شادی کے ابتدائی دنوں میں یعنی آج سے کوئی پندرہ سال پہلے۔کیا پندرہ سالوں میں کوئی واقعہ دو دفعہ ظہور پذیر ہوتو اسے ”ہمیشہ کہا جا سکتاہے؟لیکن زنانہ منطق کا اپنا ناپ تول ہوتاہے“پھر یہ ہمیشگی کا الزام مجھ پر گلاس شکنی کے سلسلے میں ہی عائد نہیں کیا گیا۔

یہی فرد جرم مجھ پر کئی دوسری ‘خاصی معصومانہ حرکات کے ضمن میں بھی لگ چکی ہے۔
”آپ غسل خانے کا نلکا ہمیشہ کھلا چھوڑ دیتے ہیں“․․․․․حالانکہ یہ غلطی پندرہ سالوں میں شائد تین یا چار مرتبہ ہوئی ہوگی۔

(جاری ہے)


”آپ ہمیشہ الماری کی چابی گم کر دیتے ہیں“․․․․․․یہ جرم فقط ایک دفعہ سر زد ہوا تھا۔
”آپ ہمیشہ کار میں پٹرول ڈلوانا بھول جاتے ہیں“․․․․․․یہ حادثہ ایک دفعہ بھی نہیں ہوا۔

محض پٹرول رک جانے پربیگم صاحبہ کو شبہ ہوا کہ پٹرول ختم ہو گیا ہے۔
یہ تو ایسا ہی تھا کہ میں بچے کی پیدائش پر ماں بیٹے کو ہسپتال میں دیکھنے جاتا تو کہہ دیتیں :
”جایئے․․․․․آپ تو ہمیشہ بچے ہی پیدا کرتے رہتے ہیں“․․․․․․حالانکہ سوال صرف ایک دفعہ اورایک بچے کا تھا۔
لیکن نہیں ‘محترمہ ہمیشہ کا لفظ محض عادتاً استعمال نہیں کرتیں۔

ایسا ہوتا تو چند ایسے مواقع بھی ہیں جہاں یہ لفظ جائز طور پر استعمال ہو سکتا ہے اور استعمال کرنا چاہئے۔مگر مجال ہے جو بیگم صاحبہ اسے نوک زبان پر لائیں․․․․مثلاً ہر مہینے پہلی تاریخ کو پوری تنخواہ بیگم کے حوالے کر دیتاہوں لیکن آج تک اس شریف زادی کے منہ سے ․․․․․تعریف نہ سہی الزاماً ہی سہی․․․․․یہ نہیں نکلا کہ آپ ہمیشہ تنخواہ لاکر میرے ہاتھ پر رکھ دیتے ہیں۔

بلکہ اس ضمن میں کچھ فرماتی ہیں تو یہ کہ ”خدایا “کب مہینہ گزرے اور چند ٹکوں کا منہ دیکھنے کو ملے۔“
اسی طرح میرا معمول رہا ہے کہ بیگم کو ہر ہفتہ ایک نئی فلم دکھانے سینما لے جاتاہوں‘مگر مجال ہے جو اس ہمیشگی کا انہیں خیال تک آیا ہو۔بلکہ الٹی شکایت کرتی ہیں:
”ہائے ‘فلم دیکھے پورا ہفتہ ہونے کو ہے“
خداجانے اس موضو ع پر اپنے مرغوب لفظ․․․․ہمیشہ․․․․کو کیسے پی جاتی ہیں!
اگلے روز ہم اسلام آباد میں ایک دوست کو ملنے گئے۔

اسلام آباد میں پہلی مرتبہ مکان آسانی سے نہیں ڈھونڈا جا سکتا۔چنانچہ مکان تلاش کرتے ہوئے کچھ وقت گزر گیا تو بیگم صاحبہ نے حسب عادت فتویٰ دیا۔
”عجیب بات ہے۔آپ ہمیشہ راستہ بھول جاتے ہیں۔“
مجھ سے نہ رہا گیا۔میں نے پوچھا:
”کیا کہا ہمیشہ؟“
”ہاں تو اور کیا؟“
”تو پیاری بیگم صاحبہ’مجھے یہ بتائیں کہ اس سے پہلے چار مرتبہ کہاں کہاں راستہ بھولا تھا؟“
”چار مرتبہ؟“(لفظ چار پر زور )
”چلو،ایک مرتبہ سہی۔


”اب مجھے زبانی تھوڑا ہی یاد ہے۔“
”تو کیا کوئی تاریخ کی کتاب دیکھنا پڑے گی؟“
”ہاں یاد آیا پچھلے سال آپ مجھے سنار کی دکان کی بجائے سبزی فروش کی دکان پر لے گئے تھے۔یاد ہے ناں؟“
”جی ہاں‘ بالکل یاد ہے ۔ہوا یہ تھا کہ آپ اپنے بُندے خریدنے کے لئے مجھے سنار کی دکان پر لے گئی تھیں۔لیکن وہاں جا کر معلوم ہوا کہ سنار اپنی دکان کسی سبزی فروش کے ہاتھ بیچ کر مری روڈ پر چلا گیا ہے۔

لہٰذا قصور سنار کا تھا یا آپ کا ،میرا کیسے ہوا؟“
”ارے جانے بھی دیں۔آپ تو ہمیشہ بال کی کھال اتارتے رہتے ہیں۔“
لیجئے‘پھر ہمیشہ! اور جہاں تک کھال اتارنے کا سوال ہے‘خدا گواہ ہے کہ کھال اتارنے کی حرکت میں نے زندگی بھر نہیں کی۔نہ بال کی اور نہ بکرے کی۔
اگلے روز ہمارا ڈائریکٹر ریٹائر ہوا تو دفتر والوں نے اسے الوداعی پارٹی دینے کا اہتمام کیا‘یہ خالص مردانہ پارٹی تھی۔

میں نے بیگم کو کسی قدر معذرت آمیز لہجے میں بتایاکہ مجھے اس پارٹی میں اکیلے ہی
 جانا پڑے گا۔کہنے لگیں:
”ٹھیک ہے مگر آپ کا باہر جانا اورمجھے ہمیشہ اکیلے چھوڑ جانا اچھا نہیں لگتا“
”لیکن بیگم“میں نے احتجاجاً کہا:
”پچھلی دفعہ جب میں تمہیں اکیلا چھوڑ کر باہر گیا تھا‘کوئی دس سال پہلے کی بات ہے اور گیا بھی اس لئے تھا کہ بند ٹوٹ جانے کی وجہ سے آدھی رات کو تمام مردوں کو شہر بچانے کے لئے سیلاب کا مقابلہ کرنا پڑا تھا۔

ظاہرہے اس تقریب میں آپ کی شرکت مناسب نہ ہوتی“
جواب میں ارشاد ہوا:
”آپ ہمیشہ کوئی نہ کوئی بہانہ ڈھونڈلیتے ہیں“
دیکھا آپ نے؟پھر ہمیشہ !پھر بہانہ!
اگلے روز ڈرائنگ روم میں بیٹھا سگریٹ پی رہا تھا کہ اتفاقاً تھوڑی سی راکھ قالین پر گر گئی۔بیگم نے جھٹ الزام تراشی کی:
”آپ ہمیشہ قالین پر راکھ جھاڑ دیتے ہیں“
 میں نے کہا”کبھی کبھی راکھ گر جانے سے تو مجھے انکار نہیں لیکن اگر میں ہمیشہ اپنے چالیس سگریٹ روزانہ کی راکھ قالین پر جھاڑتا تو گزشتہ پندرہ سالوں میں اس ڈرائنگ روم میں تقریباً گیارہ ٹن راکھ کا ڈھیر لگ چکا ہوتا اور اس صورت میں یہ ڈرائنگ روم کی بجائے کوئلہ سینٹر نظرآتا“
لیکن بجائے اس کے کہ اپنی غلطی کا احساس کرتے ہوئے کوئی معذرت کرتیں یا سیدھی سادی معافی مانگتیں ‘کہنے لگیں:
تو سچ مچ اتنی راکھ جمع ہو جاتی؟پھر تو اچھا ہوا‘میں جوں توں کرکے ہر روز قالین صاف کرتی رہی“․․․․․گویا محترمہ نے گیارہ ٹن فرضی راکھ ڈھونے کا کریڈٹ بھی اپنی جھولی میں ڈال لیا ۔


چند روز ہوئے ‘دفتر بند ہوا تو میں گھر جانے کی نیت سے کار میں بیٹھا۔مگر انجن نے جواب دے دیا۔نا چار کا ر کو دفتر ہی میں چھوڑا اور بس سے گھر روانہ ہوا۔بس سٹاپ سے گھرپہنچا لیکن جو نہی اندر قدم رکھا‘بیگم چلائی۔
”آپ ہمیشہ کیچڑ سے لتھڑے ہوئے جوتے پہنے ڈرائنگ روم میں داخل ہو جاتے ہیں“یہ میری پیٹھ پر آخری تنکاتھا۔میں نے اسی لمحہ ایک فیصلہ کر لیا اور اس فیصلے کی رو سے اب

ہمیشہ اپنا سگریٹ قالین پر جھاڑ تاہوں․․․․اور بیگم صاحبہ کو سچ مچ یہ راکھ چننا پڑتی ہے۔جس سے انہیں
 درد کمر کی مستقل شکایت ہے۔
2۔غسل خانے کا نلکا ہر روز کھلا چھوڑ تاہوں․․․اور بیگم اسے بھاگم بھاگ بند کرتی رہتی ہیں۔
3۔جب بھی بیگم میرے ساتھ کار میں نکلتی ہیں‘میں ہمیشہ غلط راستے پر ہو لیتا ہوں۔بیگم چلاتی رہتی ہیں کہ”یہ ہے صحیح راستہ‘ادھر مڑیئے آخر مڑتا تو ہوں لیکن بیگم صاحبہ کو ذرا تڑپا کر!

ہر روز عارضی طور پر چابیاں گم کر دیتاہوں تاکہ بیگم صاحبہ تھوڑی دیر کے لئے سٹپٹائیں اور سٹپٹاتی رہیں۔
5۔جہاں کہیں کیچڑ ملے‘جوتوں پر مل کر ڈرائنگ روم میں آجاتاہوں․․․․․بیگم پاؤں پڑتی ہیں کہ خدارا ایسا نہ کیجئے۔میں تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کرکے لطف اٹھاتاہوں۔
الغرض اب بیگم نے ان ”ہمیشہ“والے الزامی جملوں کا استعمال تر ک کر دیا ہے۔

اب ان کا مرغوب فقرہ ہے”آپ پہلے تو ایسا نہیں کرتے تھے۔میرے چاند !اس پر بھی میں تھوڑی دیر کے لئے آنکھیں بند کرکے لطف اٹھاتاہوں․․․․․ویسے میں یہ حرکتیں کرنا چھوڑتو دوں گا لیکن ابھی نہیں تاکہ یہ سبق بیگم صاحبہ کو اچھی طرح ذہن نشین ہو جائے کہ ایک یاد وکو”ہمیشہ “کہنا درست نہیں نہ حقیقت کے طور پر اور نہ گرامر کی رو سے
آخری خبریہ ہے کہ بیگم صاحبہ کی گرامر بڑی تیزی سے سدھر رہی ہے۔

Your Thoughts and Comments