Dupaty Say Pattay Tak

دوپٹے سے پٹے تک

منگل فروری

Dupaty Say Pattay Tak
سرور جمال
اے ہے! یہ نگوڑا مارے دو ڈھائی گز کے دوپٹے تم سے نہیں سنبھلتے؟’’

‘‘غضب خدا کا، تمام مردوں کا سامنا ہورہا ہے اور تمھارے سر پر دوپٹہ تک نہیں ٹکتا!’’

‘‘الہیٰ خیر! یہ دوپٹہ ہے یا گلے کا ہار؟’’

‘‘ارے بی بی سر پر دوپٹہ تو ڈالو!!’’

یہ تیر ان جملوں میں چند ہیں، جو ہم بچپن سے لے کر آج تک دوپٹہ اوڑھنے کے سلسلے میں بطور ہدایت، تنبیہ اور سرزنش کے گھر کی بڑی بوڑھیوں سے کھاتے چلے آرہے ہیں، اس لئے یہ تیر بھی بچپن ہی سے دو پٹے کی طرح چمٹ کر ہمیشہ ہمارے گلے کا ہار بنے رہے، خاص کردادی اماں کی کڑی نظریں ہر وقت ہمارے دوپٹے کی نگرانی کرتی رہتیں۔

(جاری ہے)

یہ دوسری بات ہے کہ ہم نے دادی اماں کا دوپٹہ ہمیشہ ان کے سر ہانے رکھا پایا، جس کے ایک کونے سے وہ ‘‘پرس’’کا کام لیتی تھیں اور خود عام طور پر دوپٹے سے بے نیاز صحن، آنگن یا لان میں گھوما کرتیں۔

گھرکی بزرگ خواتین کی نزدیک دوپٹےکا واحد مقصد سرپوشی ہے،اوراس کے تحت وہ احکامات صادر کرتی رہتی ہیں، لیکن جوں جوں ہماری عمر بڑھتی گئی اس کے دوسرے مقاصد بھی معلوم ہوتے گئے۔

دوپٹے کے نت نئے فوائد کے آگے ہم نے اس کے اصل مقصد کو نظر انداز کردیا، جسے ہماری نالائقی اور سرکشی سمجھا گیا۔

اب
آپ ہی بتائیے، جب ان ہی بزرگوں نے ہمیں دوپٹے کے اتنے سارے مصرف سکھادئیے ہوں، تو پھر اس سے محض ایک ہی کام سر ڈھانکنا، جس سے بظاہر کوئی خاص تو کیا، عام فائدہ بھی نظر نہیں آتا، کیوں لیں۔

دوپٹے کا نام سنتے ہی آپ کی نظروں میں رنگ برنگے دوپٹے لہرانے لگے ہوں گے، نیلے پیلے، اودے ہرے، سرخ و سبز، زرد و دھانی دوپٹے۔

شانوں سے ڈھلکتے، سروں سے پھسلتے ریشمی دوپٹے، کسی کے رخ روشن کے گرد ہالہ کئے پاکیزہ دوپٹے آپ ہوں، ہم ہوں یا کوئی اور، دوپٹے کی مقبولیت سے انکار نہیں کر سکتا مجھے یقین ہے کہ میرؔ کے زمانے میں بھی اگر دوپٹے اس طرح مقبول ہوتے تو ان کا شعر یوں ہوتا

ہم ہوئے تم ہوئے کہ میر ہوئے

ان دوپٹوں کے سب اسیر ہوئے

آج کل تو اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ گلیوں، سڑکوں، بازاروں، کلبوں، ہوٹلوں، کالجوں، سنیماگھروں اور کافی ہاؤسوں غرضیکہ ہر جگہ لہراتے، سرسراتے، اور جادو جگاتے نظرآتے ہیں۔

بعض اوقات تو آدمی چکرا جاتا ہے کہ ترقی لڑکیوں نے زیادہ کی ہے، یا دوپٹوں نے، اور مقبول لڑکیاں زیادہ ہیں یا دوپٹے۔

دوپٹہ مکمل کا بھی ہوتا ہےاور آب رواں کا بھی، نائلون کا بھی ہوتا ہے اور ڈیکرون، ٹیریلین اور شیفون کا بھی ہوتا ہے اور جالی کا بھی، چھینٹ کا بھی ہوتا ہے اور پاپلین کا بھی، غرضیکہ دنیا کے ہر کپڑے کا دوپٹہ بنایا جا سکتا ہے۔

اس کے لئے کوئی خاص کپڑا مخصوص نہیں ہوتا ہے، گھر میں رکھی ہوئی مچھر دانی کی جالی کا بھی دوپٹہ بنا سکتی ہیں، اور پائجامہ قمیص کے کپڑے کو بھی کام میں لا سکتی ہیں، بلکہ کھادی تک کا دوپٹہ بنا سکتی ہیں۔

اس سلسلے میں انار کلی لیلیٰ مجنوں آنکھ کا نشہ اور جھنک جھنک پائل باجے قسم کے دوپٹوں کا ذکر دل چسپی سے خالی نہ ہوگا۔

اول الذکر دوپٹوں کا ہونا توکچھ سمجھ میں آنے والی بات ہے بھی کہ شاید انار کلی نے اس کپڑے کا دوپٹہ اوڑھا ہو یا مجنوں نے لیلیٰ کو اس خاص کپڑے کا دوپٹہ بطور تحفہ پیش کیا ہو، لیکن آنکھ کا نشہ اور جھنک جھنک پائل باجے مارکہ دوپٹوں کی بات دل کو نہیں لگی۔

خیر، ناموں میں کیا رکھا ہے، کام دیکھئے، تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ دوپٹہ اپنے اندر وحدت میں کثرت کا اثر رکھتا ہے یعنی یہ ڈھائی تین گز کا ٹکڑا سینکڑوں کام سرانجام دیتا ہے، اس کا ایک فائدہ تو بہت پرانا ہے کہ یہ سر کندھے اور جسم کے بالائی حصے کو اچھی طرح ڈھک سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسے چادر کی طرح اوڑھ کر گھر سے بھی نکلا جا سکتا ہے۔

دن میں مکھیوں سے اور رات میں مچھروں سے بچنے کے لئے اسے اوڑھ کر سویا جا سکتا ہے۔

ہوشیار خواتین باورچی خانہ میں صفائی کے لئے صافی رکھنے کی زحمت نہیں کرتیں، اور یہ کام بھی دوپٹہ سے پتیلی اتار لی۔

ہاتھ منہ دھونے کے بعد اب کون تولیہ تلاش کرتا پھرے، جھٹ دوپٹہ سے پونچھ لیا۔

ننھے کی ناک بہہ رہی ہو تو اسے صاف کرنے کے لئے کوئی میلا یا صاف کپڑا تلاش کرنے سے آسمان ان کے لئے دوپٹے ہی سے ان کی ناک پونچھ دیتی ہے۔

پلٹیں دوپٹے سے بہت آسانی سے پونچھی جاسکتی ہیں۔ شربت بنانے جلدی میں باریک کپڑا نہ ملے تو دوپٹے کے کونے سے فوراً شکر چھان لی۔

اس دوپٹہ کا ایک کونہ آپ کی چلتی پھرتی صندوقچی (پیسہ رکھنے والی) کا کام بھی دیتا ہے، جس میں پیسوں کے علاوہ چھوٹے موٹے ضروری کاغذات، بل اور سودے کا حساب وغیرہ گرہ میں بندھا ہوتا ہے، اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ نہ چوری کا اس کو کھٹکا، نہ چابی کھونے کا ڈر، نہ صندوقچی غائب ہونے کا خوف۔

چابی کی بات پر یاد آیا، کہ چابیاں کھویا بہت کرتی ہیں، اس لئے اسے بھی ایک کونے میں باندھ لیا جائے تو وہ محفوظ بھی رہیں گی، اور دوپٹے کی افادیت میں چار چاند لگ جائیں گے۔

دوپٹے کا آنچل جھاڑن کا کام بھی خوب دیتا ہے۔ گھر گر ہست خواتین دوپٹے سے میز کرسیاں اور ان کے شوہر اپنے چشمے کو شیشے صاف کرلیا کرتے ہیں، کبھی کبھی یہ بزرگوں کی ڈانٹ پھٹکار سے بچانے میں بڑی مدددیتا ہے، مثلاً بڑوں کے سامنے اگر ہنسی روکے نہ رکے تو منہ میں دوپٹہ ٹھونس کر کھن کھن..... کی آواز کو بخوبی روکا جاسکتا ہے اس طرح جواب نہیں سوچتے وقت اگر اس کا کونہ منہ میں دبالیا جائے تو دماغ تیزی سے کام کرنے لگتاہے۔

دو دلوں کو باندھنے کے لیے بھی دوپٹہ کی گرہ حرف آخر سمجھی گئی ہے آپ نے بھی مار دھاڑ والی فلموں میں دیکھا ہوگا یا کہانو ں میں پڑھا ہوگا کہ کس طرح کسی نوجوان اجنبی کے ذخمی ہونے پر اچانک پردۂ غیب سے ایک حسینہ نمودار ہوتی ہے اور بلاکچھ سوچے سمجھے دوپٹہ کی ایک لمبی چٹ پھاڑ کر اس کے پٹی باندھ دیتی ہے پٹی کی گانٹھ کے ساتھ دو دل بھی بندھ جاتے ہیں۔

دوپٹہ بدل کر بہن بنانے کارواج پہلے بہت تھا، مگر خراب دوپٹے کے بدلے اچھے دوپٹے اینٹھ لینے کی وجہ سے یہ رسم دن بہ دن کم ہوتی جارہی ہے۔

دوپٹہ کی ایک قسم اور بھی ہوتی ہے اور وہ ہے رسی کی طرح بٹی ہوئی اوڑھنی جسے عرف عام میں چنا ہوا دوپٹہ کہتے ہیں، یہ دوپٹہ گلے کا ہار بنا رہتا ہے۔

اس سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ اس سے کسی طرح کی لاپروہی نہیں برتی جاسکتی، کیوں کہ گلے کا ہار جو ٹھہرا۔

یہ ہار ضرورت پڑ ے پر پھانسی کے پھندے کا کام بھی دے سکتا ہے، اس کی اس خصوصیت کا ہمیں پچھلے ہفتے پتہ لگا جب پڑوس کی ایک ناکام محبت لڑکی نے اپنے دوپٹے سے پھانسی لگا کر اپنی محبت کے افسانے کو اچھا خاصا اسکینڈل بنا دیا۔

امتحان

Your Thoughts and Comments