Miss Management

مِس مینجمنٹ

منگل نومبر

Miss Management
امجدمحمودچشتی
خاندان کئی افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔ مگر ہر خاندان کسی نہ کسی مِس مینجمنٹ کے بَل بوتے پہ ہی چل رہا ہوتا ہے۔ یہ مِس مینجمنٹ ماں، بہن، بھابی یا بیوی کی صورت میں ہوتی ہے۔ اس کے بغیر خوشحال اور منظم فیملی کا تصور نہ ہے۔ اس تمہید کا مقصد عورت کا معاشرے میں کردار و اہمیت بیان کرنا ہے۔


اگر ہم غیر جانبداری سے انسانی رشتوں کا تجزیہ کریں تو عورت کو ہی روحِ رواں دیکھیں گے۔ اقبال نے ایسے ہی نہیں ”وجودِ زن سے تصویر ِ کائنات میں رنگ“ کی بات کی ہے۔ حفیظ جالندھری نے تو قوموں کی عزت عورت کی مرہون منت قرار دی جبکہ مجاز آنچل سے پرچم بنانے کی کہانی بھی سناتے ہیں۔۔کیوں نہ ہو کہ اشرف المخلوقات کا دل جنت میں نہ بہل پایا جہاں عورت کے سوا ہر نعمت تھی مگر با با ، اماّں کے بغیر اداس تھا اور جنت سونی نظر آتی تھی۔

(جاری ہے)

لہٰذا اس خواہش کے بدلے الله نے مرد کو عورت کا دائمی ساتھ سونپ دیا اور تھوڑے عرصے بعداس باغ بہشت سے حکم سفر بھی دے ڈالا ۔ آدم و حوّا تو عبث بدنام ہوئے سب کچھ مشیت ایزدی کے عین مطابق ہوا۔ زمین پہ آمد کے بعد ہابیل کے قتل کی بنیاد عورت بنی مگر کیا قابیل خود عقل نہ رکھتا تھا۔ مگر ماننا ہو گا کہ مادہ رشتوں میں سب سے پہلا رشتہ بیوی کا ہی تخلیق ہوا۔

اس کے بعد ماں کی حیثیت ملی۔عورت اپنی، اپنے گھر، اپنے گھر والے ، اپنے بچوں اور باقی اہل خانہ کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہے۔ ہر کامیاب اور ہر ناکام شخص کے پیچھے کسی نہ کسی عورت کا کردار ضرور شامل ہوتا ہے۔ فیملی اور معاشرہ کے استحکام اور بگاڑ دونوں میں عورت کے روّیوں کو اوّلیت حاصل ہے۔ اس لئے کہیں پر یہ iss Management M ہے تو کہیں پر Mismangementبھی ہے۔

تاہم ایک بات مسلم ہے کہ زیادہ مِسوں پر مشتمل مینجمنٹ ، اکثر ہی مس مینجمنٹ کا شکار ہی رہتی ہے۔
 دیہاتی اور پس ماندہ علاقوں میں جہالت اور تعلیم کی کمی کے باعث بیویاں محض رسماً اور گھریلو کام کاج کے لئے مختص ہوتی ہیں۔ یہ بیویوں کی مظلوم ترین قسم ہے۔ ان کے شوہر اکثر اُن سے پندرہ سال بڑے یا چھوٹے ہوتے ہیں۔ ویسے تو خاوند مجازی خدا ہوتا ہے۔

مگر ایسے معاشروں میں سادہ منش بیویاں انہیں”اپنے بندے“ کے نام سے موسوم کرتی ہیں۔ خاوند کے ساتھ مزدوری اور کھیتی باڑی میں معاونت، گھریلو ملازمہ کے جُملہ امور، خاوند کی درجن بھر فیملی کی خدمت کے ساتھ ساتھ خاوند کے ازدواجی حقوق کا تحفظ اِ ن کی معمول کی سرگرمیاں ہیں۔ ان تمام کٹھن حالات کے باوجود بچے جننے کی قدرتی صلاحیتوں سے مالا مال ہوتی ہے۔

اسی لئے اپنی طبعی عمر سے قبل ہی ضعیف و نحیف ہوکر ملک ِ عدم سدھار جاتی ہیں۔کام کی زیادتی کے باعث صفائی کا عنصر کم پایا جاتا ہے۔ دیسی گھی سے سر کا مساج کرتی ہیں اور خالص لسی سے سر کی دھلائی ہوتی ہے۔ جس سے گھر کا ہر کونہ معطر رہتا ہے۔ شادی و مرگ کی تقریبات پر اچھا لباس اور جوتے بھی پہنے جاتے ہیں۔ ایسی بیویاں اپنے شوہروں کے اضافی معاشقوں سے دل برداشتہ ہرگر نہیں ہوتیں۔

گویا یہاں خاوندگی اور نا خاوندگی میں خاص فرق نہیں رہتا اور شرح ِ خاوندگی کا تعین بھی جان جوکھوں کا کام ہے۔ان کے ہاں ذاتی زندگی اور پرائی ویسی کا تصور نہیں ہوتا ۔خاص کرمشترکہ خاندانی نظام میں کھانے پینے کی رسد کومتعدد ناکوں کے باوجود بیگم تک سلامت پہنچانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہوتا۔
مڈل کلاس معاشروں میں بیویاں قدرے حقوق سے آگاہ ہوتی ہیں۔

ان کی نظریں ہمیشہ بلند رہتی ہیں۔ زندگی کی دوڑ میں دوسروں سے بڑھنے کا جنون رکھتی ہیں۔ اُن کے شوہراکثر مقروض رہتے ہیں۔ میاں کے کپڑوں کی معہ جیب، دھلائی کا خاص خیال رکھتی ہیں۔ ان کے شوہر بڑی آسانی سے ”تھلے“ لگ جاتے ہیں مگر کہیں کہیں شوہروں کے ہاں شجاعت اور ثابت قدمی بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ اکثر شوہر فارغ البال اور معنک ہوتے ہیں۔ مگر کہیں پر شوہر ،اتوار والے دن ساس کا کردار بھی ادا کرتا نظر آتا ہے۔

ہمارے معاشرے میں اِک ہائی کلاس یا برگر کلاس بھی موجود ہے۔ جن میں شوہروں کو سماجی و معاشرتی ضرورت کے تحت رکھا جاتا ہے۔ ان کی مصروفیات میں سیاسی و سماجی خدمات ، تقریبات اورپارلرز نمایاں ہوتے ہیں۔ اُن کے شوہر زن مریدی کی معراج پہ متمکن ہوتے ہیں۔ ان کی پسندیدہ خوراک چنے سمجھی جاتی ہے۔
ایسے شوہر نہایت نیک، فرمانبردار، مالدار اور قدرے احمق ہوتے ہیں۔

ملازموں کی چھٹی سے گھریلو امور زیادہ متاثر نہیں ہوپاتے۔ یہ بیویاں اکثر اکیلے سفر کرتی ہیں اور ہنی مون بھی اکیلے ہی منالیتی ہیں کیونکہ اِن کے شوہر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے باعث وقت نکالنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ بجلی، فون ، گیس اور بیگم کے کثیر بلز صبر و شکر کے ساتھ بغیر بِلبلائے ادا کرتے ہیں۔ ایسے شوہر یقینا جنتی ہیں مگر مرنا شرط ہے۔

ایسے شوہروں کی حیثیت وقت کے ساتھ ساتھ ”قانونِ تقلیل افادہ مختتم“ کے تحت کم ہوتی جاتی ہے۔ حال ہی میں ایک عرب خاتون کی دل چسپ منطق سامنے آئی کہ اس نے شوہر سے حد سے زیادہ وفادار اور خوش خصال ہونے کے جرم میں طلاق مانگ لی ۔ فرمایا کہ نہ کبھی مجھ سے لڑتا ہے نہ کسی بات پہ اختلاف کرتا ہے ۔ گھر کا کام وقت سے پہلے کرلیتا ہے ۔ یہ اس قدر اچھا ہے کہ اس کی خوبیوں کے باعث گھر جہنم بن گیا ہے اور زندگی بے کیف ہو چکی ہے ۔

اسی لئے کہتے ہیں کہ اچھی بیویاں اپنے شوہروں کو اچھی طرح اور بری بیویاں بری طرح پریشان کرتی ہیں ۔ ایسی بیویوں کے شوہر شکل سے ہی مقتول لگتے ہیں ۔ ا سی طبقہ سے متعلق خواتین ہر سال آٹھ مارچ کو اپنے باپ،بھائی اور شوہر کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرواتی ہیں اور کھانا خود گرم کرنے کی دھمکی بھی لگاتی ہیں۔ایسے شوہر اکثر امراض ِ دل میں مبتلا ہوتے ہیں۔

کیونکہ حواّ کو آدم کی پسلی سے پیدا کیا گیا جو دل کے بہت قریب ہوتی ہے۔ خواتین پہ ذوقِ جمالیات کے ساتھ ساتھ ذوق ِ باتونیت کی تہمت بھی لگائی جاتی ہے ۔دلیل دی جاتی ہے کہ اردو صرَف میں الف سے پہلے آیا واؤ ساکن ٹھہرتا ہے مگر خواتین میں آیا واؤ بول اُٹھتا ہے۔کچھ حضرات اس بات پہ نہال ہیں کہ عورتوں کی اکثریت جنت کے لئے کوالیفائیڈ نہ ہوگی۔

جہاں تک سسرال کا تعلق ہے تو سسرال میں صرف دو روائیتی آلات پائے جاتے ہیں۔ دلہن کی خوبیوں کو ٹیلی سکوپ اور خامیوں کو مائیکرو سکوپ سے دیکھا جاتا ہے۔ سسرالی نظریں دلہن کے آداب اور سگھڑ پن کی متلاشی رہتی ہیں۔ مگر اپنی اداؤں پہ غور کا رواج نہیں۔ چند برس بعد دلہن ساس بن کر تاریخ دہراتی ہے لہٰذا ایک بار پھر سسرال، سسرائیل نظر آتا ہے۔دیکھا جائے تو کم عمری کی شادی سسرال میں چائلڈ لیبر ہی تو ہے۔

کسی مرد سے کہیئے کہ سسرال یا کہیں اور خصوصاََ کسی جوائنٹ فیملی میں چند دن گزار کر دکھائے۔یہ عورت ہی ہے کہ اپنا بچپن،بہن بھائی،ماں باپ اور گڑیاکھلونے چھوڑ کر کسی کا گھر ایسے بسائے کہ چار کہار ہی لے جائیں۔ بانو قدسیہ نے خوب لکھا کہ وہ بچی جو پسند کے کپڑے نہ ہونے پہ عید نہیں مناتی مگراقدار کی خاطر ایک ناپسندیدہ شخص کے ساتھ پوری زندگی گزار دیتی ہے۔

سچ ہے کہ بیٹے جائیدادیں اور بیٹیاں دکھ بانٹتی ہیں۔ہمارے سماج میں کہیں کہیں عورت کو پاؤں کی جوتی بھی سمجھا جاتا ہے ۔مگر یہ سوچ رکھنے والوں کو خود کو پاؤں سمجھنا ہوگا۔جو خود کو انسان اور بادشاہ سمجھے اس کیلئے عورت سر کا تاج ہے۔سب سے بڑھ کر یہ کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کا لباس ہیں ۔ عورت کے لباس سے مرد کی غیرت اور مرد کے لباس سے عورت کی نفاست کا اظہار ہوتا ہے ۔

کچھ لوگ ہر روپ میں عورت کے کردار کو سراہتے ہیں۔دیکھئیے تو بات دل کو لگتی ہے۔ جب انسان بچہ ہوتا ہے تو علی الصبح ماں جگاتی ہے،، اُٹھو بیٹا سکول جانا ہے۔ایسے ہی بہن بھائی کو جگاتی ہے۔شادی ہوئی تو بیوی نے یہی کہا ،،اُٹھو جی دفتر کا وقت ہونے والا ہے۔جب باپ بنا تو ننھی بیٹی نے جگایا،،اُٹھو بابا مجھے سکول نہیں چھوڑنا،،۔اور جب بیٹے کا بیاہ کردیا تو سویرے بہو کی آواز کانوں میں گونجتی ہے ،،پاپا اُٹھئیے ناشتے کا وقت ہوا ہے اور دوائی بھی لینی ہے ،،۔اب آپ ہی بتائیں کہ دنیا میں عورت مس مینجمنٹ ہے یا مسمینجمنٹ۔۔۔؟؟؟

Your Thoughts and Comments