اپنے لئے جیتا ہوں

دا کار قیصر خان نظامانی کہتے ہیں میں نے اپنی شادی سے لے کر دو سال پہلے تک جا نور کی طرح کام کیا ،پھر خود پر تھوڑا کنٹر ول کرنا پڑا کہ بھائی آپ پچاس سال کے ہوچکے ہیں، اب اپنی زندگی بھی جئیں

منگل 31 جولائی 2018

زارا مصطفی
سندھی ڈراموں سے اداکار ی کا آغاز کرنے کے بعد 1990کی دہائی میں پاکستان ٹیلی ویژن کے شہر ہ آفاق اردوڈرامہ سیر یلز سے شہرت کی بلندیوں کوچھونے والے معروف ایکٹر ،ڈائر یکٹر اور پر وڈیو سر قیصر خان نظا مانی بارعب اور پُر وقارشخصیت کے مالک ہیں اور اپنی سادہ مزاجی اور دھیمے لہجے سے آج بھی اپنے پر ستاروں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں ۔قیصر کو پہلی شہرت ڈرامہ سیریل ”تپش “ سے ملی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ ”کسک ،ہوائیں ،ماروی اور آرزو“ جیسے مشہور زمانہ ڈرامہ سیر یلز سے پاکستان ٹیلی ویژن کا روشن ستارہ بن کر چمکنے لگے ۔قیصر نے 1995میں اپنا پروڈکشن ہاؤس بھی قائم کر لیا ،وہ اب تک ان گنت ڈرامہ سیر یلز اور ٹیلی فلمز بناچکے ہیں لیکن ان کی ٹیلی فلم ”تمہیں یاد ہوکہ نہ یاد ہو“ کو خاص پذیر ائی حاصل ہوئی ۔

(جاری ہے)

ان کے دیگر ڈرامہ سیریلز میں ”احساس ، مکان ،بری عورت ،زینت ،بنتِ سکینہ اورسات پر دوں میں “شامل ہیں جن کی وجہ سے قیصر 2000کی دہائی میں بھی ٹی وی پر چھائے رہے ۔1994 میں قیصر نے اپنی ساتھی اداکار ہ اور ماڈل فضیلہ قاضی سے شادی کرلی تھی ۔ان کے دو بیٹے ہیں جو وکالت کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں جبکہ چھو ٹے بیٹے زورین اداکار ی میں بھی دلچسپی رکھتے ہیں ۔رواں برس قیصرفلم پر وڈکشن کا آغاز بھی کر دیں گے۔
سوال : قیصر خان نظامانی اپنی اصل زندگی میں کیسے انسان ہیں ؟
قیصر خان نظامانی : ایک ایسا آدمی جسے اپنی گلی سانس کا بھی نہیں پتا ...
سوال : آپ نے وکالت کی تعلیم حاصل کی ،پھر اداکاری کی طرف کیسے آنا ہوا ؟
قیصر خان نظامانی : ڈگری کا پر وفیشن سے کوئی تعلق نہیں ہوتا کیونکہ ڈگری سے انسان روزگار نہیں کماتا ۔ تعلیمی ڈگری انسان کو انسانیت سِکھا سکتی ہے اور آپ مہذب زندگی گزارنے کے قابل بھی ہو جا تے ہیں لیکن جہاں تک روزی روٹی کی بات ہے تو وہ انسان اپنے ہنر سے ہی کماتا ہے ۔میڈیکل ،انجینئر نگ ،وکالت جیسی ڈگریاں تو ماہر انہ اور پیشہ ور ڈگریاں ہیں جبکہ ایم اے کی ڈگری بھی ماہرا نہ/ پیشہ ورانہ ڈگریاں نہیں حتیٰ کہ پی ایچ ڈی کی ڈگریاں بھی تب تک انسان کو ہنر مند نہیں بناتیں جب تک کسی ماہرانہ شعبے سے متعلق نہ ہو...اس لئے کوئی ڈاکٹر ہو،پنکچر لگانے والا یا کوئی مکینک ...سبھی اپنے ہنر سے روزی کماتے ہیں ۔میں نے اداکار ی کا آغاز وکالت پڑھنے سے پہلے کیا تھا اور میرا ہنر ادا کاری ہی ہے ۔
سوال: جب آپ نے اداکار ی کا آغاز کیا تو آپ کن لوگوں سے متا ثر تھے ؟
قیصر خان نظامانی : میں امتیا بھ بچن سے بہت متاثر تھا ،انہی دنوں شاہ رخ خان اور سلمان خان بھی بالی ووڈ میں قدم رکھ چکے تھے ،میں انہی کو آئیڈ یلائز کر تا تھا ۔ پاکستان میں ندیم بیگ صاحب میر ے پسند یدہ ترین اداکار ہیں لیکن انہیں قریب سے دیکھنے کا موقعہ نہیں ملتا تھا ،البتہ مرحوم شفیع محمد شاہ صاحب ہمارے پڑوسی تھے ،ان سے ایک عجیب سی انسانیت تھی ،میں ان کی آواز سے بہت متا ثر تھا ،ان میں جو محبت اور شفقت تھی ، وہ مجھے دوسرے لوگوں میں بہت کم نظر آتی ہے ۔ان کے علاوہ میں نے محمد بخش جو نیجو ،سا حرہ کا ظمی ،حیدر امام رضوی ،شاہد اقبال پا شااور سلطانہ صدیقی جیسے بڑے فنکاروں کے ڈراموں میں کام کیا
۔ان لوگوں نے مجھے پڑھا یا ،ادب سے متعلق ذوق پیدا کیا ،میرا اردو تلفظ سد ھا رنے میں بہت کر دار ادا کیا ۔فاطمہ ثریا بجیا صاحبہ کا نام نہ لینا بھی بہت بڑی زیادتی ہوگی ۔
سوال : شہرت ملتے آپ نے پردے پر آنا کم کیوں کر دیا ؟
قیصر خان نظامانی : میں سندھی ڈراموں کے بعد جلد ہی پی ٹی وی کے اردو ڈراموں کی طرف آگیا اوربے تحاشا کام کیا ۔2000میں ٹی وی پرسب سے زیادہ نظر آنے والے دس اداکاروں میں سر فہر ست میں ہی تھا ۔مجھے احساس ہوا کہ مجھے اتنا دیکھنے کے بعد لوگ گا لیاں دینا شروع کر دیں گے تو میں نے آہستہ آہستہ کام کر نا کم کر دیا اور چو نکہ میرا ذاتی پر وڈکشن ہاؤس بھی ہے تو مصر وفیا ت میں بتد ریج اضافہ ہوتا رہا ۔میں نے سر کاری اشتہارات ،ٹیلی فلمز اور ڈاکیو منٹر یز تک بنائیں ۔اسی دوران میں نے اپنی تعلیم پر بھی توجہ دی اور پو لیٹیکل سائنس میں ماسٹر ز اور الیکٹر یکل انجینئر نگ میں ڈپلومہ کیا ،پھر انہی دنوں وکالت میں دلچسپی بڑھنے لگی تو میں نے ایل ایل بی بھی کر لیا ۔یعنی یوں کہیں کہ اب تک میں بہت کچھ کر چکا ہوں ۔
سوال : صرف ایک فلم نہیں بنائی ؟
قیصر خان نظامانی : فلم کے بارے میں کیا کہوں ،بس یوں سمجھ لیں کہ ابھی مجھے فلم بنانے کے حوالے سے سر مایہ کاری کے معاملات سے متعلق مکمل آگہی نہیں ہو سکی ۔فلم میکنگ کے اخرا جات کا میرے پاس مکمل حساب کتا ب ہے مگر فلم کی ریلیز کے بعد ڈسٹری بیو ٹر ز اور میڈیا پار ٹنر کا کتنا شےئر ہوتا ہے ؟ پیسے کی ریکوری کیسے ممکن ہوتی ہے ؟ان معاملات کی زیادہ معلومات نہیں لیکن امید ہے جلد ہی فلم پر وڈکشن کا آغاز ہوجائے گا ۔
سوال : آج کل جن مو ضو عات پر ڈرامے بنائے جارہے ہیں ان کے بارے میں آپ کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں لیکن فلموں میں جو کلچر دکھا یا جا رہا ہے ،اس کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے ؟
قیصر خان نظامانی : فلم کا کلچر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ فلم کا مقصد محض تفریح ہے ۔ہمارے کلچر میں تو ملا نصیر الدین ،بابا بلہے شاہ  ، شاہ عبد اللطیف بھٹائی  ،اور سچل سر مست  جیسے لوگ ہیں ،وہاں اگر کوئی ڈائر یکٹر اور پر وڈیو سر فلم میں ثقا فت اجا گر کرنا چاہیں تو کوئی حرج بھی نہیں ...
سوال : فلموں اور ڈراموں کا لوگوں کے معاشرتی رویوں پر گہر ا اثر ہوتا ہے تو پھر ہم اسے کیسے نظر انداز کر سکتے ہیں ؟
قیصر خان نظامانی : آپ جو بات کر رہی ہیں اسے ابلاغ کہتے ہیں جیسے ٹی وی اور اخبارات ہیں جو ہماری نو جوان نسل کی تر بیت کرتے ہیں ،انہیں مختلف موضو عات سے متعلق آگہی اور معلومات دی جاتی ہے ۔ اس سے پہلے ” سٹریٹ تھیڑ “ ہوا کرتا تھا اور معا شرتی مسائل سے متعلق رائے عامہ ہموار کی جاتی تھی ۔کلچر ابلاغ سے آتا ہے جسے ماضی میں پی ٹی وی کے ذریعے بتا یا جاتاتھا کہ ہمارے کلچر کی برائی اور اچھائی کیا ہے ؟ آج بھی لوگوں کو پی ٹی وی کے ڈرامے کیوں یاد ہیں ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی وی پروڈیوسرز کم از کم تعلیمی قا بلیت ماسٹرز ہوتی تھی ،پھر انہیں پیشہ ورانہ مہارت حاصل کرنے کے لئے بیرونِ ملک خصوصی تر بیت دی جاتی تھی ۔اس کے بعد پروڈیوسر کا ذاتی رجحان دیکھا جاتا تھا کہ وہ میوزک میں ہے ،ڈرامے میں یا پھر ٹاک شو میں ،توا س کی دلچسپی کے مطابق اسے پر وڈکشن دی جاتی تھی ۔اس کے بر عکس آج کل جو ڈرامہ پر وڈکشن ہو رہی ہے ،اس میں پر وڈیوسرز اور ڈائر یکٹر ز اتنے مراحل سے کہاں گزرتے ہیں بلکہ کئی ڈائر یکٹرز تو میرے ہی اسسٹنٹ رہ چکے ہیں اور وہ میٹرک پاس بھی نہیں ہیں ۔یہاں میں ”کا نٹینٹ “ کی نہیں ٹیکنیک “ کی بات کر رہا ہوں ۔ہماری سکرین سج جاتی ہے مگر کانٹینٹ غیر معیاری ہوگیا ہے ...
سوال : آپ کے خیال میںآ ج کل سکرین سجانے پر زیادہ توجہ ہے ؟
قیصر خان نظامانی : بالکل ۔ ایک سیٹھ نے کروڑوں روپے لگا کر ایک چینل کھولا ہے وہ وہی چیز بیچے گا جو عام لوگوں میں بکے گی لیکن جوصاحبِ عقل ہیں یا جن کی ادب سے شنا سائی ہے ،و ہ ہمارے ڈرامے نہیں دیکھتے ....
سوال : ایسے میں معاشرتی اصلاح کیسے ہوگی ؟
قیصر خان نظامانی : اصلاح نہیں ہو سکتی کیونکہ معا شرتی کی اصلاح کا ٹھیکہ ٹی وی چینلز نے نہیں اٹھار رکھا ۔ معا شرتی اصلاح کی ذمہ داری شعراء ادیبوں اور دانشوروں کی ہے ۔ٹی وی چینلز اپنا بزنس کر رہے ہیں ،چینل کا مالک سینکڑوں لوگوں کی تنخواہوں سمیت ماہانہ کروڑوں روپے کے اخراجات پورے کر نے کے بعد مارکیٹ سے منافع کماتا ہے ۔
سوال : آپ کا ظاہری شخصی تا ثر کسی وڈیرے جیسا ہے ،ایسا کیوں ؟
قیصر خان نظامانی : دراصل ہم دیہاتی لوگ دیکھنے میں خوامخواہ ہی موٹے تازے لگتے ہین اور لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی بد تمیز قسم کا بندہ ہے لیکن ایسا نہیں ہے ۔ہمیں تو اگلے لمحے کی خبر نہیں ہے ،ہم کسی سے بد تمیز ی یا برے الفاظ میں بات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔
سوال : آپ اکثر شادی شدہ زندگی کی کامیابی کا راز معاشی خو شحا لی بتا تے ہیں ،آپ اس نکتے پر اتنا زور کیوں دیتے ہیں ؟
قیصر خان نظامانی : یہ سچ ہے ۔شادی شدہ خو شحال زندگی کا دارومدار کسی مرد کے معاشی حالات پر ہی ہے ۔جس گھر میں ضروریات ِزندگی پوری کرنے والا مرد ہوتو اس گھر کی عورت کمانے کے لئے گھر سے نہیں نکلتی ۔اگر مرد گھر چلانے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو وہ بد تمیز بھی ہو جاتا ہے اور ماں باپ اور بیوی سے بھی خوامخواہ الجھتا ہے اور جب مجبور اََ بیوی گھر سے نکلتی ہے تو اسے اور بھی برا لگتا ہے ، اسے مرد کی کمزوری
سمجھیں یا پریشانی ...نو بت طلاق تک پہنچ جاتی ہے ۔(شرارتاََ) چاہے بڈھاہی کیوں نہ ہو لیکن عو ر تیں امیر آدمی تلاش کرتی ہیں تا کہ وہ انہیں آسا ئشات ِ زندگی میسر کرنے کے قابل تو ہو...میرے گھر میں اللہ کی دی ہوئی ہر نعمت ہے لیکن میں کراچی میں واحد آدمی ہوں جس کے پاس کر یڈٹ کا رڈ نہیں ہے۔ میرے پاس کوئی ادھا ر کی چیز نہیں ہے ،الحمد اللہ میری زندگی بہت پُر سکون ہے ۔
سوا ل : آپ کے نزدیک آج کی عورت میں کیا تبدیلی آئی ہے ؟
قیصر خان نظامانی : دوباتیں قابلِ غور ہیں اگر آپ دینی اعتبار سے دیکھیں تو اللہ نے عورت کا خاص مقام رکھا ہے ۔مسلمان ،عیسائی یا یہودی ...ہر مذہب میں عورتیں سر ڈھانپتی ہیں لیکن آج کی عورت ایسا کرے تو انتہا پسندی کا لیبل لگا دیا جاتا ہے ۔دوسرا پہلویہ ہے کہ آج عورت مشرقی اور مغر بی روایات کے درمیا ن پھنسی ہوئی ہے ۔اکثر خو اتین کی کوشش ہوتی ہے کہ بھارتی کلچر کی نقل کی جائے ...یہ بھی برا نہیں لگتا جب تک آپ کے حلیے سے کسی کے ذہن میں کوئی غیر اخلاقی یا منفی بات نہ آئے ...آپ اگر کسی حلیے میں اپنے میاں ،باپ یابھائی کے سامنے جاسکتی ہیں تو اس سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے ۔اس کے باوجود میں یہ بھی کہتا ہوں کہ عورت ایک مظلوم طبقے کانام ہے ...اللہ نے مرد کو عورت پر ایک نسبت سے فوقیت دی ہے کہ وہ عورتوں کے محافظ ہیں اور جس عورت کا باپ ،بھائی یاشوہر با اثر ہے تو کسی کی جرات نہیں اس عورت کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھے لیکن جس عورت کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو ،اس پر ہر طرف سے شکر وں والی نظریں پڑتی ہیں ۔
سوال: اس ” مظلوم طبقے “کے لئے آپ کا مشورہ کیا ہوگا ؟
قیصر خان نظاما نی : میں متو سط گھر انوں کی لڑ کیوں سے ہمیشہ یہ کہتا ہوں ایم اے یاایم ایس سی کی ڈگری لینے کی بجائے بی اے ،بی ایس سی کرنے کے بعد وکالت پڑھ لو کیونکہ وکالت کے بعدنہ تمہارا شوہر تم سے بد تمیزی کر سکے گا ،نہ تمہارے گھر والے اور نہ ہی معاشرے کا کوئی عام آدمی ...جس عورت کو قانون کی سمجھ
بوجھ ہو،وہ عورت سماجی سطح پر مضبوط ہوجا تی ہے ۔
سوال : کیسا میوزک پسند کرتے ہیں ؟
قیصر خان نظامانی : آڈیو سسٹم اچھا ہوتو ہر طرح کا میوزک اچھا لگتا ہے میر ے پسند یدہ گلو کاروں میں خصوصاََ وائٹل سائنز ،عا لمگیر ،غلام علی صاحب ،عدنان سمیع ،محمد علی شیکی صاحب ،مہدی حسن صاحب ،میڈم نور جہاں اور شیر یا گھو شال شامل ہیں ۔
سوال : آپ نے ایک سیاحتی گروپ تشکیل دے رکھا ہے ،نئی نئی جگہیں گھومنے کے حوالے سے کچھ بتا ئیں ؟
قیصر خان نظامانی : یہ گروپ میرے قریبی دوستوں کا ہے ...پاکستان اور خصوصاََ سندھ میں بھی بہت خوبصورت اور تفریحی مقامات ہیں جہاں بہت کم لوگ آتے جاتے ہیں مثلا ہنگلاج ہنگول نیشنل پارک ،گورکھ ہلز جوکہ ساڑھے پانچ ہزار فٹ کی بلندی پر ہے ،آج کل وہاں بر فباری ہورہی ہے ۔اسی طرح تھر کا علاقہ ہے رن آف کچھ ،جم پیر ...جہان تک میری پسندیدہ جگہوں کی بات ہے تو مظفر آباد میں پیر چناسی کی پہاڑی بہت خوبصورت جگہ ہے ،میں جب کام سے بریک چاہتا ہوں تو اپنے گروپ کے ساتھ جنگلوں اور پہاڑوں میں چلا جاتا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب ٹھنڈے موسم میں میرا ناک بند ہوجاتا ہے تو مجھے کسی چیز میں مزانہیں آتا اس لئے عموماََ میری کوشش ہوتی ہے کہ ٹھنڈک سے دورر ہوں، متعدل درجہ حرارت میرے لئے باعثِ رحمت ہے ۔چونکہ میں گرم علاقے کا رہنے والا ہوں اس لئے میں اسی میں خوش رہتا ہوں ۔
سوال : زندگی کی کوئی ایسی خواہش جواب تک پوری نہیں ہوئی ؟
قیصر خان نظامانی : شاید میری ایسی کوئی خواہش نہیں ہے ...اگلے سال میرے دونوں بیٹوں کی ڈگری مکمل ہوجائے گی ،میرے پاس اپنا گھر اور اپنی گاڑیاں ہیں ، اللہ تعالیٰ روز گار بھی دے رہاہے ۔ ابھی ڈرامہ بنا
نہیں ہوتا کہ مالی معاملات سب کلےئر ہوجا تے ہیں ، میں تو ان حالات میں جتنا بھی اللہ کا شکر گزار ہوں
،کم ہوگا۔میں صرف یہ کہتا ہوں میں وہ جانور نہیں جو ہا نپتارہے کہ اور چاہیے اور چاہیے ،مہنیے میں میرے پاس اتنے پیسے آجائیں کہ گھر او رسفری اخراجات پورے ہوجائیں تو میں اس سے زیادہ کام ہی نہیں کرتا ۔میں ایسا انسان ہوں کہ اگر مجھے ایک مہینے میں ایک لاکھ روپے کی ضرورت ہے تو میں ایک لاکھ ہی کماؤں گا ،میں ایک لاکھ دس ہزار کمانے کی کوشش نہیں کروں گا ۔

مزید لالی ووڈ کے مضامین :