رحمان اردو اور بنگالی فلموں میں یکساں مقبول تھے

کئی ہیروئنز کے ساتھ کام کیا مگر شبنم کے ساتھ جوڑی زیادہ پسند کی گئی

بدھ جولائی

Rehman Urdu Or Bengali Filmoon Main Yaksaan Maqbool Thay
وقار اشرف
پاکستان فلم انڈسٹری کے معروف اداکار رحمان کو مداحوں سے بچھڑے پندرہ برس بیت گئے مگر انہیں ان کے کام کی وجہ سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔رحمان 18جولائی 2005ء کو ڈھاکا میں انتقال کر گئے تھے اور وہیں سپرد خاک ہیں،انہوں نے اپنے فلمی کیریئر کے دوران کبھی معیار پر سمجھوتہ نہیں کیا اور فحش فلموں میں کام نہیں کیا،پورا نام تو ان کا عبدالرحمن تھا لیکن فلموں میں رحمان کے نام سے ہی شہرت حاصل کی، پاکستان اور بھارت میں رحمان نام کے دو اداکاروں نے شہرت حاصل کی تھی۔

بھارتی اداکار رحمان پاکستان کے معروف اداکار فیصل رحمان کے چچا تھے،وہ پہلے ہیرو اور پھر کریکٹر ایکٹنگ کرتے رہے،پاکستانی اداکار رحمان پاکستان اور بنگلہ دیش دونوں ملکوں کے اداکار تھے، 27 فروری 1937ء کو مشرقی پاکستان (موجودہ بنگلہ دیش)پنج گڑھ کے گاؤں روزیا میں پیدا ہونے والے رحمان نے بنگالی اور اردو دونوں زبانوں کی فلموں میں کام کیا،سب سے پہلے انہوں نے ہدایت کار احتشام کی بنگالی فلم”ایہہ دیش تمارامر“میں ولن کا کردار نبھایا تھا جو 1959ء میں نمائش کے لئے پیش ہوئی لیکن اس کے بعد وہ بنگالی اور اردو فلموں میں ہیرو کے طور پر جلوہ گر ہوئے۔

(جاری ہے)

انہوں نے مجموعی طور پر 25 فلموں میں کام کیا جن میں ملن،ایندھن،درشن،جہاں باجے شہنائی،لگن،چلومان گئے،چاہت،بہانہ،دو ساتھی اور گوری شامل تھیں۔ ”ہنڈرڈائفلز“ان کی آخری فلم تھی جو 1981ء میں ریلیز ہوئی۔
انہوں نے اگر چہ دوسری ہیروئنز کے ساتھ بھی کام کیا لیکن اداکارہ شبنم کے ساتھ ان کی جوڑی بہت پسند کی گئی 1958ء سے 1970ء کے آخر تک انہوں نے کراچی ،ڈھاکہ اور لاہور کی فلموں میں کام کیا،کچھ فلموں کی ہدایت کاری بھی کی۔

ان کی سپرہٹ اردو فلموں میں چندا (1962)،تلاش(1963)،بہانہ (1965)،درشن (1967)، دوستی (1971) اور چاہت (1974) شامل ہیں۔وہ مشرقی اور مغربی پاکستان میں یکساں طور پر مقبول تھے،انہوں نے ایسے دور میں خود کو منوایا جب محمد علی،وحید مراد اور ندیم کا طوطی بولتا تھا۔رحمان نے ایکشن فلموں کی بجائے رومانوی اور میوزیکل فلموں میں کام کیا،احمد رشدی اور افلاق احمد کے شاہکار گیت ان پر عکس بند ہوئے،وہ خود بھی موسیقی کے اسرار درموز سے واقف تھے یہی وجہ ہے کہ ان کی فلموں کے گیت بہت متاثر کن ہوتے تھے،ان کی بیشتر فلموں کی موسیقی روبن گھوش کی ہوتی تھی جن کا تعلق بھی مشرقی پاکستان سے تھا۔


1974ء میں رحمان نے ایک سسپنس فلم ”دھماکہ“میں بھی کام کیا جو ابن صغی کے ناول سے ماخوذ تھی اس میں جاوید شیخ نے بھی کام کیا تھا،یہ فلم بری طرح فلاپ ہوئی اور ثابت ہو گیا کہ رحمان صرف رومانوی اور میوزیکل فلموں کے لئے ہی موزوں ہیں۔60ء کی دہائی میں جب وہ بطور اداکار اور ہدایت کار کام کر رہے تھے تو انہیں ایک حادچے سے دو چار ہونا پڑا،فلم”پریت نہ جانے ریت“کی شوٹنگ کے دوران وہ حادثے میں اپنی ایک ٹانگ سے محروم ہو گئے جس کے بعد انہوں نے مصنوعی ٹانگ لگوائی اور پھر سے فلموں میں کام شروع کر دیا۔

1971ء میں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد رحمان نے بھی شبنم کی طرح پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی۔رحمان نے کیریئر کے دوران نامور ہدایت کاروں کے ساتھ کام کیا جن میں شریف نیئر (دوستی)،نذرالسلام(پیاسا)،احتشام(چندا)،ظہیر رحمان(بہانہ)،اختر یوسف(ساون آیا تم نہیں آئے)اور اقبال اختر (نادان)شامل ہیں۔رحمان کی اداکاری میں فطری پن تھا،وہ بڑے دھیمے انداز میں مکالمے بولتے تھے،شاید ہی کسی فلم میں انہوں نے اونچی آواز میں مکالمہ بولا ہو،ان کی فلم دیکھ کر محسوس ہی نہیں ہوتا تھا کہ وہ اداکاری کر رہے ہیں،وہ گانے بھی بڑی عمدگی سے عکس بند کراتے تھے،ان کی فلموں کے جتنے گیت ہٹ ہوئے شاید ہی کسی اور اداکار کے ہوئے ہوں۔

ان پر فلمائے گئے یادگار نغمات کا ذکر کیا جا رہا ہے۔
یہ موسم یہ مست نظارے(درشن)
دن رات خیالوں میں(درشن)
چل دیے تم جو دل توڑ کر(درشن)
تمہارے لئے اس دل میں(درشن)
اچھا کیا دل نہ دیا(پیاسا)
پیار بھرے دو شرمیلے نین (چاہت)
ایسے وہ شرمائے(دو ساتھی)
دیکھو یہ کون آگیا (دو ساتھی)
1975ء میں ان کی فلم”دو ساتھی“ ریلیز ہوئی جس کے گیتوں نے تو دھوم مچائی لیکن فلم باکس آفس پر کامیاب نہ ہو سکی جس کا رحمان کو بہت دکھ ہوا،اس سے پہلے 1974 میں ان کی فلم ”چاہت“سپرہٹ ہو چکی تھی، 90ء کی دہائی میں انہوں نے واپس بنگلہ دیش جا کر بنگالی فلموں میں کام کرنا شروع کر دیا اور وہیں وہ 20جولائی 2005ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے تھے۔

ان کے انتقال سے نہ صرف پاکستان کی فلمی صنعت کو نقصان پہنچا بلکہ بنگلہ دیشی فلمیں صنعت بھی ایک اچھے اداکار سے محروم ہو گئی۔

Your Thoughts and Comments