فیشن ملبو ُسات عصری مسلم

جب سے دُنیا وجود میں آئی ہے ،اس میں بتدریج بے شمار تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ۔انسان نے ہر شعبہ میں ترقی کی ہے ۔ترقی کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے ۔لیکن جب انسان

 غلام زہرا

جب سے دُنیا وجود میں آئی ہے ،اس میں بتدریج بے شمار تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور یہ سلسلہ ابھی بھی جاری ہے ۔انسان نے ہر شعبہ میں ترقی کی ہے ۔ترقی کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے ۔لیکن جب انسان کوئی بھی نئی چیز تخلیق کرتا ہے تو اس کے فوائد اور نقصان کو مد نظر رکھ کر کرتا ہے ۔انسان نے ہمیشہ اپنے فائدے کیلئے ہی کچھ نہ نہ تخلیق کیا ہے ۔جہاں انسان نے دیگر شعبوں میں ترقی کی منازل طے کی ہیں وہاں انسان نے فیشن میں بھی اپنا لوہا منوایا ہے ۔

ہردور میں فیشن میں تبدیلی رونما ہوئی ایک دور تھا لوگ بہت ہی سادہ تھے اور پتوں اور کجھو ر کی چھال سے اپنے جسم کو ڈھانپا کرتا تھا ۔کپڑوں کے استعمال سے دور دور تک واقف نہ تھا ۔بناؤ سنگھار کا پتہ نہیں تھا پھر جس طرح آبادی میں اضافہ ہوتا گیا مختلف قبیلوں کا لباس ان کی پہچان بن گیا ،اس قبیلے کی عورتوں کا بناؤسنگھار ان کا اوڑھنا بچھونا اس قبیلے کی پہچان بنا۔جیسے پاکستان میں رہنے والے باشندوں کی پہچان اس کے لباس سے ہو جاتی ہے ،اسی طرح عرب اورمغربی ممالک کے باشندوں کے لباس سے پتہ چلتا ہے کہ اس شخص کا تعلق کس قوم کس خطہ سے ہے ۔

کسی بھی ملک کا لباس اس شخص کی پہچان بنتا ہے ۔اس لےئے لباس ہماری زندگی میں بہت اہم ہے ۔لباس ہی ہمیں معاشرہ میں عزت ووقار دلانے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے ۔لباس اور بناؤ سنگھار ہماری زندگی میں بہت اہم ہے اچھا لباس پہننا اپنے آپ کو صاف ستھرا رکھنا اس میں کوئی ممانت نہیں ۔کیونکہ اچھا لگنا صاف ستھرا رہنا بناؤ سنگھار کرنا ہر ایک کا حق ہے ۔ایک مہذہب معاشرہ میں جینے کے لےئے یہ سب کرنا ایک ضروری عمل ہے ۔

لیکن ہر ملک کی ایک اپنی ثقافت ہے وہ اپنی ثقافت کے مطابق ہی بناؤ سنگھار کرتا ہے ،وہ اس لئے کہ اسے اپنی تقافت سے پیار ہوتا ہے اس لےئے وہ اپنی ثقافت سانچے میں خود کو ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے ۔جس قوم کی اپنی کوئی پہچان نہیں ہوتی اسے دوسری قوموں کے لباس اور ثقافت کی ضرورت درپیش آتی ہے اور اس قوم کی کوئی پہچان نہیں ہوتی ۔دین اسلام میں شرم وحیا کی اہمیت انسان کے لباس سے بھی ظاہر ہوتی ہے ۔مگر بیشن کے نام پر ایسے ایسے نمونے نظر آتے ہیں کہ انسان انگلیاں دانتوں میں دبانے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔

اسلام اور جدید طرز کی فیشن ،مغربی دنیا میں کئی حلقوں کی طرف سے اسے ایک متضاد بات قرار دیا جاتا ہے ۔اس موضوع پر امریکی شہر سان فرانسسکو کے ڈی ینگ میوزیم میں منعقد ہ نمائش 6جنوری تک جاری رہے گی ۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ڈی ینگ میوزیم میں رکھے گئے مسلم پہنا وے جدیدیت اور شائستگی کے عناصر کے حامل ہیں ۔مسلم ممالک میں مروج جدید فیشن کے ملبوسات ریشمی اور کرسٹل سے مزین ہیں ۔ان ملبوسات کی ڈیزائننگ ملائیشیا کے فیشن ڈیزائنر برنارڈ چند رن نے کی ہے ۔چند رن ملائیشیا کے ایک مقبول ومعروف ڈیزائنر ہیں ۔

ملائیشیا کے ڈیان پیلانگی نے بھی اپنے فیشن ملبوسات کو جکا رتہ سے نیویارک تک (مغرب)میں متعارف کرایا ہے ۔اس نوجوان ڈیزائنر کے ملبوسات کو پہن کر لندن ،میلان اور نیویارک کے فیشن شوز میں مرد اور خواتین ماڈل کیٹ واک کر چکے ہیں ۔

ڈی ینگ میوزیم کا فیشن شواصل میں ’اسلام سے خوف ‘سے جڑا ہوا ہے ۔ایک جیکٹ پر امریکی دستور کی پہلی شق کو عربی میں ترجمے کے ساتھ چسپاں کیا گیا ہے ۔امریکی آئین کی یہ شق آزادء مذہب کی ضامن ہے ۔یہ جیکٹ لبنانی ڈیزائنر سیلین سیمعن ورنون کی کاوش ہے ۔یہ لبنانی فیشن ڈیزائنر 1980کی دہائی میں کینیڈا بطور مہاجر پہنچی تھیں لیکن بعد میں وہ امریکا منتقل ہو گئی تھیں ۔

ٹرمپ کی ’مسلمانوں پر پابندی ‘کا ایک جواب دیتے ہوئے سیلین سیمعن نے اپنے ڈیزائن کردہ ملبوسات کو عصری سیاسی رویوں سے مزین کیا ہے ۔انہوں نے بین ‘یعنی پابندی کے لفظ کو اپنے سکارف پرواضح انداز میں استعمال کیا ہے ۔چند اسکارفس پر ایسے ممالک کی سیٹلائٹ تصاویر پرنٹ ہیں ،جو امریکی صدر ٹرمپ کی عائد کردہ پابندی سے متاثر ہوئے ۔اس تصویر میں نظر آنے والی ماڈل ایرانی نژ ادامریکی شہری ’ہدیٰ کا تبی ہیں ۔

اس نمائش میں ملبوسات ،جیکٹس اور اسکارفس کے علاوہ اسپورٹس فیشن سے جڑے لباس بھی رکھے گئے ہیں ۔ان میں نائکی کا حجاب اور احدہ زانیٹی کی متنازعہ برکینی بھ شامل ہیں ۔اس برکینی کو 2016میں فرانس میں عبوری مدت کے لیے پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا تھا ۔

ڈی ینگ میوزیم کے نمائشی ہال کو مشہور تعمیر اتی فرم حریری اینڈ حریری نے ڈیزائن کیا ہے ۔یہ تعمیراتی فرم دوایرانی نڑادامریکی بہنوں کی ہے ۔طرز تعمیر کی اس علامتی طاقت کو نمائش دیکھنے والے اس ہال کے سحر میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔یہ نمائش فرینکفرٹ اور میلان میں بھی کی جائے گی ۔

سوشل نیٹ ورکس :اظہار کے مقام

اس نمائش کو مسلم دنیا کے درجنوں بلا گرز ،فیشن جریدوں اور سر گرم کارکنوں سے معنون کیا گیا ہے ۔اس نمائش میں جدید عصری مسلم دنیا کے فیشن ملبوسات کے کئی پہلوؤں کو سمودیا گیا ہے ۔سان فرانسسکو میں یہ نمائش اگلے برس چھ جنوری تک جاری رہے گی ۔

ہر سال اقوام متحدہ کی چھتری تلے فیشن کا عالمی دن منایا گیا ۔اس کا مقصد عوام الناس کو فیشن کے جدید ترین رجحانات اور ٹیکنالوجی سے متعارف کروانا،نیز علاقائی مارکیٹوں میں بدیسی برانڈز کو متعارف کروانا وغیرہ تھا ۔لیکن اس سارے عمل کا نتیجہ عوام کا لا نعام کا ایک مادر پدر آزاد تہذیب کار سیا بننے کے سوا کچھ نہیں ۔ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں سادگی اختیا ر کریں ۔اپنے ہر ہر عمل میں اپنے مذہب ،ملک ،وطن اور تہذیب وثقافت کا خیال رکھیں ۔اس بارے میں والدین اور اساتذہ کرام کی ذمہ داری دگنی ہے کہ انہیں نئی نسل کی ایسی تربیت کرنی ہو گی جسے حاصل کرکے وہ دین کے سچے داعی ،وطن کے پکے سپاہی اور معاشرے کا ایک مفید فردبن سکیں نہ کہ مغرب کی اس تہذیب کے دلدادہ جسے مغرب واہلِ مغرب اب خودترک کر چکے ہیں ۔