میرے منتخب کردہ رنگ باتیں کرتے ہیں

مقابلے کی فضا میں نام پیدا کرنا آسان کام نہیں جنوبی پنجاب کی معروف فیشن ڈیزائنر حنا منصور کی باتیں

جمعہ مئی

Mere Muntakhib Karda Rang Batain Karte Hain
 گلناز نواب
پاکستانی فیشن انڈسٹری میں ایک معروف نام جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والی حنا منصور کا ہے۔برائیڈل اور عام ملبوسات ان کی خاص پہچان ہیں اور خواتین ان کی نئی کولیکشن کی بیتابی سے منتظر رہتی ہیں۔ وہ آرٹسٹک مائنڈڈتو ہیں ہی لیکن ان کی مسکراتی آنکھیں خوبصورت لب ولہجہ اور انسان دوستی ان کی شخصیت کو مزید نکھار دیتی ہے ۔حنا منصور کے کام کی خاص بات یہ ہے کہ انہوں نے نجی ٹی وی چینل کے معروف مارننگ شو کی میزبان ”شائستہ لودھی“کیلئے بھی کپڑے ڈیزائن کیے یوں ان کے کام اور نا م کا ڈنکا ہر طرف بجنے لگا۔


کہنے کو تو بڑی عید بڑوں کا اور چھوٹی عید چھوٹوں کا تہوار ہے لیکن تہوار خواہ کوئی بھی ہو اور کسی کا بھی ہو لڑکیوں کی تیاری اور سج دھج اس کا لازمی حصہ ہوتی ہے ۔

(جاری ہے)

لڑکیوں کے سجنے سنورنے کے شوق کو بام عروج تک پہنچانے کا سہرافیشن ڈیزائنرز کے سر ہے۔پاکستان میں عید کے بعد چونکہ شادیوں کا سیزن شروع ہورہا ہے اور ایسے میں عروسی ملبوسات کا انتخاب ایک اہم مرحلہ ہوتا ہے اور اس مرحلہ کو آسا ن بنانے میں سب سے اہم کردار فیشن ڈیزائنرز ادا کرتے ہیں۔

حنا منصور کے تیار کردہ ملبوسات کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اپنی مشرقی روایات اور کلچر سے جُڑی ہوئی ہیں۔
گزشتہ دنوں عید کی آمد کے حوالے سے ان کے ساتھ ایک نشست میں ان کے کام،شوق اور نجی زندگی کے حوالے سے گفتگو کا موقع ملا تو انہوں نے بتایا:
”برائیڈل ملبوسات چونکہ ہماری خاص پہچان ہیں اسلئے میری خواہش ہوتی ہے کہ میں ایسے رنگوں کا انتخاب کروں جو بولیں اور باتیں کریں ،میں اس میں کسی حد تک کامیاب بھی ہوں ۔

اس سال میں نے عروسی ملبوسات کی تیاری کیلئے روایتی اور ہاتھ سے بنے ہوئے سلک اور ٹشو فیبرک پر زردوزی، گوٹے اور زری کے خوبصورت اور نفیس کام کی ورائٹی متعارف کروائی۔اس پر ماڈلز کے خوبصورت میک اپ ،ہےئر سٹائلنگ اور نفیس کندن جیولری بھی ملبوسات کی طرح نرالی اور منفرد کھائی دی۔ان کے تیار کردہ ملبوسات ہر دلہن کا خواب بننے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔


ڈیزائن تیار کرتے وقت بعض اوقات ایک ہی چیز یا رنگ سے انسپائریشن مل جاتی ہے ۔کئی بار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ رنگوں اور ڈیزائن سے مل کر ہی جوڑا تیار ہوتا ہے ۔اب یہ ایک تخلیق کار پر منحصر ہے کہ وہ کسی بھی چیز سے نیا آئیڈیا کیسے نکال کر پبلک کے سامنے لاتا ہے ،اگر وہی آئیڈیا پبلک کو پسند آجائے تو پھر وہ فیشن بن جاتا ہے ۔حنا منصور سمجھتی ہیں،”ہر پاکستانی فیشن ڈیزائنرکانام ''Trend Setters'' میں سر فہرست ہے۔


ایک سوال کے جواب میں حنا منصور نے بتایا کہ اس فیلڈ میں آنے کے بعد میرے سینئر سمیت ہر کسی نے میری حوصلہ افزائی کی۔میں اس لحاظ سے اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتی ہوں کہ میرے اچھے کام کو لوگ سراہتے ہی ہیں۔
جہاں تک آئیڈیاز کی بات ہے تو زندگی میں خواہ کوئی بھی شوق ہوں، پڑھنا ،لکھنا ،میوزک سننا،آرٹ سمیت غرض ہر چیز میں آئیڈیا ہے ۔اب یہ ایک تخلیق کار پر منحصر ہے کہ وہ کسی بھی چیز سے نیا آئیڈیا کیسے نکال کر پبلک کے سامنے لاتا ہے ،اگر وہی آئیڈیا پبلک کو پسند آجائے تو وہ فیشن بن جاتا ہے ۔

ڈیزائن تیار کرتے وقت بعض اوقات ایک ہی چیزیا رنگ سے انسپائریشن مل جاتی ہے ۔کئی بار تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ رنگوں اور ڈیزائن سے مل کر ہی جوڑا تیار ہوتاہے اور ڈیزائن بولتاہے۔
رواں سال سنگل اور ملٹی کلرز پر کام کررہے ہیں اس وقت رنگوں میں ڈارک ،جیول،ڈیپ ربڑ،ایمبر ائد
گرین ،ڈیپ پرپل اور گوٹے کاکام کافی اِن ہے ۔کئی کلرز کا کمبی نیشن بھی فیشن کا حصہ ہے۔

اس وقت شارٹ شرٹ ،شرارے،غرارے،شارٹ اور لانگ جیکٹس کی ورائٹی دستیاب ہے۔ملبوسات میں ہم ایک طرز کی بجائے مختلف ورائٹی دکھاتے ہیں۔“
عروسی ملبوسات کی تیاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے حنا منصور نے کہا:”دراصل شادی کا دن ہر لڑکی کی زندگی میں یاد گار اور خاص اہمیت رکھتا ہے ۔اس دن وہ مرکز نگاہ ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہر لڑکی چاہتی ہے کہ وہ دلہن بن کر سب سے منفرد اور دلکش نظر آئے۔

آج کے دور میں فیشن ڈیزائنرز کی مانگ نے لڑکیوں کی یہ مشکل حل کردی ہے۔اب لڑکیاں اپنے عروسی جوڑے کیلئے بہت زیادہ سوچ بچار کرنے کے بجائے ڈیزائنرز کے آؤٹ لیٹس پر جا کر اپنی پسند کے جوڑے کا آرڈر دے دیتی ہیں۔اس طرح انہیں اس بارے میں آگہی بھی ہوجاتی ہے کہ آج کل کیا”اِن“اور کیا ”آؤٹ“ ہے۔
ہم فیشن ورلڈ آرڈر کے مطابق بھی عروسی ملبوسات تیار کرتے ہیں ۔

ہمارے ہاں ہر طرح کا کام کیا جاتا ہے ۔ہر کسی کی خواہش ہوتی ہے کہ عروسی جوڑا سلیک اور سمارٹ نظر آئے۔عروسی جوڑے پر سٹونز‘برونز ‘دھاگے سے کڑھائی کی جاتی ہے ۔اس وقت بنیادی طور پر لہنگے،غرارے ،شرارے کا فیشن ہے اور ہم مختلف میٹریل استعمال کرکے اس پر اڈے کاکام بھی کرواتے ہیں۔ آج کل کی دلہنیں روایتی اور جدید دونوں طرز کے ملبوسات پسند کررہی ہیں ۔

آج کل ولیمہ ڈریسز میں سلور،گولڈبے بی پنک کلر،
اولیوگرین،آئس گرین اور پیچ کلر”ان“ہے اب چونکہ موسم بھی کروٹ لے رہا ہے اس لئے زیادہ تر ”Cool Colours“ولیمہ ڈریسز کا حصہ ہیں۔میرے تیار کردہ ڈریسز منفرد ہوتے ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ میں کسی کو کاپی نہیں کرتی اور نہ ہی کسی اور برانڈ کا ڈیزائن کوئی کلائنٹ لے کر آئے تو ہم اسے ویسا بنا کر دیتے ہیں۔


مجھے چونکہ نیچر سے بہت پیارہے مجھے پھولوں اور ان کی پتیوں سے عشق ہے،اسلئے میرے کپڑوں میں بھی وہی چیزیں زیادہ تر نظر آتی ہے ،ہمارا کام بہت باریک Embelishmentکا ہے۔کسی فیشن ڈیزائنرز سے متاثر ہیں ،اس کے جواب حنا کہنے لگیں،سب اپنی اپنی جگہ بہت اچھا کام کررہے ہیں لیکن میں ”Oprah Winfrey“سے سب سے زیادہ متاثر ہوں۔آئیڈیاز کہاں سے لیتی ہیں؟یہ سن کر حنانے کہا،آئیڈیاز تو بیٹھے بیٹھے آجاتے ہیں ،پھر جب پوری کولیکشن بنانی ہوتو دماغ میں پہلے سے چیزیں موجود ہوتی ہیں کہ آئندہ سیزن میں کیا کیا کرنا ہے ۔

میں تو باہر لان میں بیٹھی ہوں تو پھولوں اور پتیوں سے بھی آئیڈیا ز آجاتے ہیں۔
عید چونکہ شدید گرمی کے موسم میں آرہی ہے ،تو موسم کی شدت کو مد نظر رکھتے ہوئے آپ نے اپنی عید
 کو لیکشن میں کونسے رنگ ،فیبرک اور کٹس متعارف کروائے ہیں؟
اس کے جواب میں حنا منصور کہنے لگیں ہم نے عید کے حوالے سے کولیکشن ”کیف“کے نام سے بنائی ہے ۔ہم ہمیشہ ''International Colour Palette Summer 2019کو ہی فالوکرتے ہیں۔

کیونکہ اس میں ہمارے پاس رنگوں کی ورائٹی ہوتی ہے ،ہمارے پاس اس میں عید کیلئے اور خاص طور پر عید کے موقع پر شام کی تقریبات کیلئے ریڈ،اورنج اور پنک کلرز کو ہم نے اپنی کولیکشن میں شامل کیا ہے ،چونکہ عید بہت گرمی میں آرہی ہے اس کے لئے ہم نے لائٹWeightگوسما لان ٹائپ فیبرک متعارف کروایا ہے،اس کے علاوہ پتلی سلک لان ،کاٹن نیٹ اور Schiffliزیادہ تر استعمال کیا ہے ۔

کچھ لوگوں کی ڈیمانڈ پر میں نے سلک کولیکشن بھی تیار کی ہے کیونکہ لوگوں کا خیال ہے کہ عید کیلئے صرف لان کاسوٹ کافی نہیں ہے ،اس لئے میری کولیکشن میں آپ کو سلک بیس اور Breathable Fabricپر گوٹا،شیشہ اور ہلکی پھلکی کڑھائیاں کی ہیں ۔جہاں تک کٹس کی بات ہے تو ہم نے لانگ اور شارٹ شرٹس کے ساتھ ساتھ ریگولرکٹس بھی کولیکشن میں شامل کیا ہے ۔تاکہ ہر کسی کو اپنے ذوق کے لحاظ سے ورائٹی دستیاب ہو۔


برائیڈل ملبوسات کی تیاری کے حوالے سے حنا منصور کا کہنا تھا کہ وہ میں آرڈ پر ہی تیاری کرتی ہوں۔
فیشن ڈیزائننگ کے بارے میں عام رائے یہی ہے کہ اس کام میں اچھا خاصا پیسہ ہے،آپ اس حوالے سے کیا کہیں گی ۔یہ سن کر حنا منصور ہنس کرکہنے لگیں۔میرے ریٹس اتنے ہائی نہیں ہیں لیکن ملتان کے لحاظ سے شاید میں مہنگی ڈیزائنرہوں۔لیکن میری اپنی بھر پور کوشش ہوتی ہے کہ کسی کو غیر معقول چارج نہ کروں ۔

دیکھیں ایک جوڑے کی سلائی میں ہی دو اڑھائی دن درکار ہوتے ہیں ۔اس میں اتنے اخراجات آجاتے ہیں کہ ہم نے ان سب کو شامل کرنا ہوتا ہے ۔جو روٹین میں کام کرواتے ہیں ،ان کو آئیڈیا ہے کہ ہم کیسے اور کیوں زیادہ چارج کررہے ہیں لیکن میری اپنی بھی یہی کوشش ہوتی ہے کہ میں کسی کو Rip offنہ کروں۔
حنا منصور نے مزید بتایا مجھے کپڑوں کی بچپن سے ہی قدر بہت زیادہ ہے آپ اس کا اندازہ اس واقعہ سے لگا لیں کہ میں بہت چھوٹی تھی اور میری والدہ کی یوں تو تمام ساڑھیاں بہت خوبصورت تھیں لیکن ایک ساڑھی میں شاید میری جان اٹکی ہوئی تھی ۔

امی کی ایک بنارسی ساڑھی بہت ہی خوبصورت تھی اور ویسی مجھے آج تک کہیں دوبارہ نظر نہیں آئی لیکن افسوس یہ تھا کہ امی نے اس کاٹ کر پشواز بنوالی اور پھر تھوڑے عرصے بعد کسی کو دے بھی دی ۔اس میں اس قدر نفیس تلہ کاکام تھا کہ مجھے دوبارہ کہیں نظر نہیں آیا ۔آپ یہاں سے اندازہ لگا لیں کہ مجھے کپڑوں کی کتنی قدر ہے۔لوگوں کے نام پیغام دیتے ہوئے حنا منصور کا کہنا تھا کہ”آپ دوسروں کے لئے اچھا ،اللہ آپ کیلئے بہت اچھا کرے گا۔“

مزید فیشن کے مضامین :

Your Thoughts and Comments