پاک فوج، مقامی افراد اور ماہرین کی 12 گھنٹے کی جدوجہد، بٹگرام واقعے پر فلم تیار

جمعہ 4 ستمبر 2026 22:12

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 04 ستمبر2026ء) بٹگرام کے سنسنی خیز چئیر لفٹ ریسکیو آپریشن پر بننے والی ڈاکومنٹری فلم ’ہینگنگ بائی اے وائر‘ رواں سال پاکستان کے سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔یہ ڈاکومنٹری 2023 میں خیبر پختونخوا کے ضلع بٹگرام میں پیش آنے والے اس دل دہلا دینے والے واقعے پر مبنی ہے، جب 8 افراد کو لے جانے والی چئیر لفٹ کی 2 تاریں ٹوٹ گئیں اور لفٹ تقریباً 900 فٹ کی بلندی پر صرف ایک تار کے سہارے لٹک گئی تھی۔

فلم میں نہ صرف اس تاریخی ریسکیو آپریشن کو دکھایا گیا ہے بلکہ وادی الائی کی پسماندگی، ناقص انفراسٹرکچر اور مقامی لوگوں کی غیر معمولی بہادری کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ ڈاکومنٹری کے پروڈیوسر، ہدایتکار اور رائٹر محمد علی نقوی، المعروف مو نقوی، نے بتایا کہ ان کی کوشش تھی کہ اس واقعے میں شامل مقامی افراد کی جرات اور مہارت کو دنیا کے سامنے لایا جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ ریسکیو آپریشن کے دوران پاک فوج، ضلعی انتظامیہ اور مقامی افراد نے مل کر چئیر لفٹ میں پھنسے 8 افراد کی جان بچانے کے لیے کوششیں کیں۔ مو نقوی کے مطابق یہ ایک پسماندہ علاقہ ہے، جہاں بنیادی سہولیات اور انفراسٹرکچر کے مسائل موجود ہیں، تاہم مقامی افراد نے جس مہارت اور بہادری کا مظاہرہ کیا، وہ قابل تعریف تھا۔ انہوں نے کہا کہ فلم کے ذریعے دنیا کو پاکستانیوں کی ہمت، بہادری اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کے جذبے سے آگاہ کرنا مقصود تھا۔

ڈاکومنٹری کے ذریعے علاقے میں موجود ناقص چئیر لفٹ نظام اور بنیادی ڈھانچے کے مسائل کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ فلم سازوں کو امید ہے کہ اس کہانی کے بعد متعلقہ اداروں اور تنظیموں کی توجہ علاقے کے انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی جانب مبذول ہوگی۔مو نقوی نے بتایا کہ فلم میں شامل بیشتر مناظر اور فوٹیج اصل واقعے کے دوران ریکارڈ کی گئی تھی۔ ڈرون سے بنائی گئی ویڈیوز سمیت کئی مناظر مقامی افراد نے ریکارڈ کیے اور بعد میں ڈاکومنٹری ٹیم کو فراہم کیے۔

فلم کے پروڈیوسر اور رائٹر بلال سمی کے مطابق پاکستان کے مقامی ہیروز کی ایسی کہانیاں اکثر عالمی سطح پر سامنے نہیں آتیں، اسی لیے انہوں نے اس واقعے کو فلم کی شکل دینے کا فیصلہ کیا۔ ہینگنگ بائی اے وائراس وقت امریکا اور برطانیہ کے سینما گھروں میں پیش کی جا رہی ہے اور ڈاکومنٹری سنڈینس فلم فیسٹیول میں بھی پیش کی جا چکی ہے۔ یاد رہے کہ 23 اگست 2023 کو بٹگرام کے علاقے الائی میں ایک چئیر لفٹ کی 2 تاریں ٹوٹنے کے بعد اس میں سوار 8 افراد ہوا میں معلق ہوگئے تھے۔

پاک فوج کے ہیلی کاپٹر نے ابتدائی مرحلے میں ایک شخص کو ریسکیو کیا، جبکہ بعد میں زپ لائن ماہرین اور مقامی افراد کی مدد سے طویل اور پیچیدہ آپریشن کے بعد تقریباً 12 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد تمام افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا۔تاہم مقامی افراد کے مطابق اس واقعے کے بعد بھی علاقے کے انفراسٹرکچر میں خاطر خواہ بہتری نہیں آسکی اور کئی مقامات پر لوگ اب بھی آمدورفت کے لیے خطرناک اور پرانے چئیر لفٹ نظام پر انحصار کر رہے ہیں۔ ایک تار کے سہارے 900 فٹ کی بلندی پر لٹکی چئیر لفٹ، 8 زندگیاں اور 12 گھنٹے طویل ریسکیو آپریشن، اب یہ پوری کہانی بڑے پردے پر دکھائی جائے گی۔
وقت اشاعت : 04/09/2026 - 22:12:34

مزید متعلقہ خبریں پڑھئیے‎ :