بند کریں
بدھ دسمبر

مزید موسم کی خبریں

وقت اشاعت: 11/12/2018 - 22:43:14 وقت اشاعت: 11/12/2018 - 22:16:32 وقت اشاعت: 11/12/2018 - 17:03:30 وقت اشاعت: 11/12/2018 - 16:57:14 وقت اشاعت: 11/12/2018 - 14:49:55 وقت اشاعت: 11/12/2018 - 14:11:18 وقت اشاعت: 11/12/2018 - 14:11:18 وقت اشاعت: 11/12/2018 - 13:44:03 وقت اشاعت: 11/12/2018 - 13:39:35 وقت اشاعت: 10/12/2018 - 16:43:44 وقت اشاعت: 10/12/2018 - 15:28:11 وقت اشاعت: 10/12/2018 - 15:20:42

موسمیاتی تبدیلی پاکستانی معیشت کے لئے ایک بری خبر ہے، ماہرین موسمیات

, 2ڈگری درجہ حرارت دنیا کی 37فیصد آبادی کو سخت گرمی کی لہروں، 44ملین شہری آبادی کو خشک سالی اور 80ملین آبادی کو سیلاب اور سمندر کی بلند سطح جیسے مسائل کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے، ملک امین اسلم

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 دسمبر2018ء)موسمیاتی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی درجہ حرارت 1.5ڈگری یا اس سے بھی زیادہ 2.0ڈگری تک بڑھنے سے نہ صرف موسم پر تباہ کن اثرات مرتب ہونگے بلکہ یہ پاکستانی معیشت، خوراک، سیکیورٹی، پانی کی سپلائی، سماجی بہبود اور ماحولیاتی نظام کی صحت کو بھی براہ راست متاثر کرے گا۔ان خیالات کا اظہار ماہرین نے ایک روزہ قومی مشاورت سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا انعقاد لیڈ پاکستان اور موسمیات کی وزارت نے کیا تھا۔

ماہرین نے موسمیاتی تبدیلی سے جڑے خطرات سے نمٹنے کے لئے منصوبہ بندی کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ اس پر عمل کرنے کی ضرورت اب پہلے سے کہیں ذیادہ ہے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے ماحولیات ملک امین اسلم کے کہا کہ ماحول اور موسمیاتی تبدیلی ایسے اہم مسائل ہیں جو کہ نہ صرف پاکستان بلکہ دوسرے ممالک کی بقاء پر بھی اثرانداز ہونگے ۔

انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے جاری ایک حالیہ رپورٹ جس نے عالمی درجہ حرارت کو 1.5ڈگری پر محدود کرنے پر زور دیا ہے، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنا چاہتے ہیں، تو ہمیں ماحولیاتی تبدیلی کو سماجی اور اقتصادی ترقی اور منصوبہ بندی کی پالیسیوں کا حصہ بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ 2ڈگری درجہ حرارت دنیا کی 37فیصد آبادی کو سخت گرمی کی لہروں، 44ملین شہری آبادی کو خشک سالی اور 80ملین آبادی کو سیلاب اور سمندر کی بلند سطح جیسے مسائل کا سامناکرنا پڑ سکتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینٹ کی ماحولیاتی کمیٹی کے ممبر سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ پاکستان پہلے سے ہی موسمی تبدیلوں کے منفی اثرات سے دنیا کے سب سے متاثر ترین ممالک میں آتا ہے اور اگر درجہ حرارت میں مزید اضافہ ہوا تو ہمارے پانی کے وسائل، صحت، زمین اور ماحولیاتی نظام پر مزید دبائو بڑھے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیاء کے ممالک کو تقریبا ایک جیسے ماحولیاتی مسائل کا سامنا ہے، لہذا ان مسائل سے نمٹنے کے لئے کم از کم جنوبی ایشیائی ممالک میں مشترکہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات و کفایت شعاری ڈاکٹر عشرت حسین نے کہا کہ قومی اور صوبائی حکام، سول سوسائٹی، نجی اداروں کی آب و ہوا کے عمل کو مضبوط بنانے سے عالمی درجہ حرارت کو 1.5ڈگری تک محدود کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پولینڈ کے سفیر پیٹر اے او پلانسکی کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے آئندہ ماہ پولینڈ میں منعقد ہونے والی کانفرنس COP24سے پولینڈ اور پاکستان کے درمیان تعلقات کو فروغ ملے گا اور ماہرین کو جدید ماحول دوست ٹیکنالوجی کے بارے میں آگاہی ملے گی۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لیڈ پاکستان کے سی ای او علی توقیر شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی سے ایک بہت بڑی آبادی متاثر ہے اور درجہ حرارت بڑھنے سے موسمیاتی تبدیلی کے مسائل میں اضافہ ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ درجہ حرارت اور جی ڈی پی کا آپس میں گہرا تعلق ہے اس کے بڑھنے کے سب سے زیادہ اثرات زراعت پر ہونگے اور اگر ماحولیاتی تبدیلی اور درجہ حرارت کو روکنے کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو یہ اقتصادی ترقی کو نا قابل براداشت نقصان پہنچائیں گے۔ زیادقاضی
01/12/2018 - 22:38:45 :وقت اشاعت