شمالی امریکہ کے پراسرارمڑے ہوئے درختوں کا اصل راز کیا ہے؟

شمالی امریکہ کے پراسرارمڑے ہوئے درختوں کا اصل راز کیا ہے؟
براعظم شمالی امریکہ میں پھیلے ایک ہی انداز میں ہزاروں مڑے ہوئے درختوں کو دیکھتے ہوئے  جہاں  ان کے قدرت کا  پراسرار مظہر  ہونے کا احساس ہوتا ہے ، وہیں ان کے بیماری زدہ ہونے کا بھی خیال آتا ہے۔ ایک محتاط تجزیے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ درخت 90 ڈگری کے زاویے پر زمین کے متوازی رخ جھکے ہوئے ہیں جس سے ایسا لگتا ہے کہ انہیں طویل عرصہ تک کسی نامعلوم وجہ کے تحت اسی شکل میں رکھا گیا تھا۔


جھکے یا مڑے ہوئے ہونا یا دوسری صورت میں بدنما درخت ہونا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے لیکن یہ درخت جنہیں ٹریل  درخت (trail trees) کا نام دیا گیا ہے،بہت سی امریکی ریاستوں میں تاحال موجود ہیں اور ایک بہت مخصوص شکل کے حامل ہیں۔ زمین سے تقریباً چار یا پانچ فٹ اوپر ان کے تنے زمین کے متوازی قائمہ زاویہ بناتے ہوئے جھک جاتے ہیں اور پھر ایک بار سیدھا اوپر کی طرف مڑ جاتے ہیں۔

(جاری ہے)

فطری طور پر اس طرح کی مخصوص شکل اختیار ہونے کی بہت سی وجوہات ہو سکتی ہیں لیکن ان پراسرار درختوں کی ایک اور امتیازی بات یہ ہے کہ یہ جس جگہ سے مڑے ہوتے ہیں اس پوری جگہ پر کسی قسم کا کوئی نشان یا داغ نہیں ہوتا، جس سے ایسا لگے کہ انہیں جان بوجھ کر موڑا گیا ہے۔
سائنسدانوں کی طرف سے ایک خیال یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ ان درختوں کو کسی خاص مقصد کے تحت صدیوں پہلے انسانوں نے اس خاص شکل میں رکھا تھا۔

یہ بھی کہا جاتا ہے کہ کبھی ان درختوں کو وسیع جنگل میں  راستے کی نشاندہی کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔
ڈینس ڈونس نامی ایک آرٹسٹ نے   بہت پہلے اس علاقے میں رہنے والے قبائل سے سنا تھا کہ  لوگ ان درختوں کو محفوظ راستے کی نشاندہی کے طور پریا  خفیہ پگڈنڈی تلاش کرنے کے لیے استعمال کرتے تھے۔ یہ بات درست معلوم ہوتی ہے۔ ڈینس نے اس حوالے سے مزید تحقیق کی تو انہیں ایک ماہر ارضیات ریمنڈ ای جینسن کی تحریری  دستاویزات ملیں جو الینوائے میں 1930 سے 1940 کی دہائیوں میں کام کرتے تھے۔

ڈینس کی طرح جینسن بھی جنگلوں میں اپنے دریافت کیے گئے ان خمیدہ درختوں کی ساخت کی حقیقت جاننے کے  خواہاں تھے۔انہوں  نے ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی غرض سے 13 ریاستوں کا سفر کیا جس کے بعد وہ آخرکار اس نتیجے پر پہنچے تھے  کہ یہ تمام درخت حادثاتی طور پر اس شکل میں نہیں آ گئے تھے بلکہ انہیں مصنوعی طریقے سے اس طرح کاشت کیا گیا ہے۔


اب مسئلہ یہ ہے کہ  چند دہائیوں سے یہ درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔بڑے شہروں میں فرنیچر کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انہیں کاٹ دیا جاتا ہے یا پھر کچھ درخت بہت عرصہ گزرنے کی بنا پر بوسیدہ ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا ان کی تعداد میں نمایاں کمی آنے لگی ہے۔لیکن خوش قسمتی سے کچھ درختوں کو مقامی کمیونٹی کی طرف سے  یادگار کے طور پر محفوظ رکھا گیا ہے اور امید ہے کہ انہیں کاٹا نہیں جائے گا۔ اس کے باوجود کسی بیماری سے ان کو محفوظ رکھنے یا وقت کے اثرات مرتب ہونے سے نہیں بچایا جا سکتا۔
وقت اشاعت : 08/06/2018 - 23:44:29

Your Thoughts and Comments