پانچ سال سے کیموتھراپی کرانے والے شخص کو حقیقت میں کینسر ہی نہیں تھا

پانچ سال سے کیموتھراپی  کرانے والے شخص کو حقیقت میں کینسر ہی نہیں تھا

کولوراڈو سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا دعویٰ ہے کہ کئی ڈاکٹروں کی تشخیص کے بعد  وہ پچھلے پانچ سالوں سے کیموتھراپی کرانے  اور درد کش ادویات لینے پر مجبور  تھے ۔ اب معلوم ہوا ہے کہ انہیں   کینسر ہی نہیں تھا۔
مونٹروز سے تعلق رکھنے والے جیمز سالازبغل میں شدید درد کی وجہ سے ہسپتال گئے جہاں ڈاکٹروں نے جیمز کے پھیپھڑوں کے نیچے دو خرابیاں دریافت کیں۔

بائیوپسی کے بعد ڈاکٹروں نے جیمز کو Langerhans Cell Histiocytosis تشخیص کیا۔ یہ کینسر کی ایک نایاب قسم جو ٹشوز کو متاثر کرتی ہے۔ جیمز نے پریشان ہو کر مونٹروز، ڈیلٹا، گرینڈ جنکشن اور ڈینور کے ڈاکٹروں کو دکھایا۔ سب نے ہی کینسر کی تصدیق کی۔ ڈاکٹروں نے جیمز کو بتایا کہ پورے کولوراڈو میں وہ واحد شخص ہیں، جنہیں یہ نایاب کینسر لاحق ہے۔

(جاری ہے)

اپنی زندگی بچانے کے لیے جیمز کیمو تھراپی کراتے اور درد کش گولیاں کھاتے رہے۔


پچھلے سال جیمز مینٹروز ہوسپیٹل میں اپنے ڈاکٹر، ڈاکٹر چون کی لی کو دکھانے گئے۔ وہ پوچھنا چاہتے تھے کہ اب تک ان کی حالت بہتر کیوں نہیں ہوئی۔ ہسپتال پہنچ کر انہیں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر چون کو کچھ وجوہات کی بنا پر ہٹا دیا گیا۔ یہ خبر سن کر وہ پریشان تو ہوئے لیکن ڈاکٹر چون کی برطرفی نے ہی ان کی زندگی بدل دی۔ ڈاکٹر چون کی جگہ آنے والی نئی ڈاکٹر نے انہیں اطلاع دی کہ انہیں تو کبھی کینسر تھا ہی نہیں۔

ڈاکٹر نے انہیں بتایا کہ انہیں کینسر نہیں ورید کی سوزش تھی، جس کا علاج پانچ سال پہلے کیا جاتا تو وہ صحت مند ہو چکے ہوتے لیکن اب یہ بیماری مزید بڑھ گئی ہے۔
غلط تشخیص کرنے پر جیمز نے ڈاکٹر چون پر مقدمہ کر دیا ہے۔ ڈاکٹر چون نے مقدمے کی وجہ سے اس کیس پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

 

وقت اشاعت : 27/11/2018 - 23:42:38

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments