ڈائنو سار کا صفایا کرنے والے شہاب ثاقب کے ساتھ آنے والی غیر ارضی دھات کینسر کے مرض کا علاج کر سکتی ہے

ڈائنو سار کا صفایا کرنے والے شہاب ثاقب کے ساتھ آنے والی غیر ارضی دھات ..

ایک نئی تحقیق کے مطابق ڈائنو سار کا صفایا کرنے والے شہاب ثاقب کے ساتھ زمین پر آنے والی غیر ارضی دھات سے کینسر کا علاج کیا جا سکےگا۔
اریڈیم نامی یہ عنصر دنیا کا نایاب ترین عنصر سمجھا جاتا ہے۔ اس پر لیزر بیم چلائی جائے تو یہ انتہائی زہریلی آکسیجن پیدا کرتا ہے، جو ٹیومر کے خلیوں کے لیے تباہ کن ہوتی ہے لیکن صحت مند اجسام کو اس سے نقصان نہیں پہنچتا۔


برطانوی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ یہ جان لیوا بیماری کا انقلابی علاج ہو سکتا ہے۔ یہ زہریلا اس وقت بنتا ہے، جب اس پر روشنی پڑے۔ فوٹو ڈائنامک تھراپی نام کا طریقہ علاج اب بھی استعمال ہو رہا ہے۔
یہ دھات کو اس طرح فعال کرتا ہے کہ یہ آکسیڈیشن کے ذریعے ٹیومر کو ختم کرتا ہے، جہاں خلیوں کی اپنی آکسیجن زہریلی شکل اختیار کر لیتی ہے جبکہ صحت مند عضلات کو نقصان نہیں پہنچتا۔

(جاری ہے)


فوٹو ڈائنامک تھراپی کی بنیاد فوٹوسینسیٹائزرز(photosensitizers) نامی کیمیائی مرکبات پر ہے۔
یہ طریقہ پہلے ہی عام کینسر جیسے جلد، چھاتی اور پھیپھڑے کے کینسر کے علاج میں استعمال ہورہا ہے۔ جب فوٹوسینسیٹائزرز کو مخصوص ویولینتھ کی روشنی میں رکھا جاتا ہے تو ایک قسم کی آکسیجن پیدا ہوتی ہے جو اپنے قریبی خلیوں کو ختم کر دیتی ہے۔ انہیں آپٹیکل فائبرجیسی لچکدار ٹیوب کی مدد سے کینسر کے خلیوں کو ختم کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

نئی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ اریڈیم کے مرکبات بہترین قسم کے فوٹوسینسیٹائزرہیں۔
اریڈیم آج سے 66 ملین سال پہلے خلیج میکسیکو میں برسی تھی۔ یہ اس 7 میل چوڑے شہاب ثاقب کے ساتھ گری تھی، جس نے زمین پر سے ڈائنو سار سمیت 70 فیصد زندہ جانوروں کو ختم کر دیا تھا۔

وقت اشاعت : 04/02/2019 - 23:51:04

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments