سابق قیدی نے دوبارہ جیل جانے کےلیے بنک لوٹ لیا

سابق قیدی نے دوبارہ جیل جانے کےلیے بنک لوٹ لیا

ایک عادی مجرم 68 سالہ ولیم جے گیلاہر نے  20 سال بعد جیل سے رہا  ہو کر صرف جیل واپس جانے کےلیے دوبارہ سے وسکونسن کا ایک  بنک لوٹ لیا۔
ولیم 20 سال سے نیوجرسی کے اصلاحی قید خانے میں اقدام قتل کے جرم کی سزا کاٹ رہے تھے۔ انہیں 6 ماہ پہلے ہی رہا گیا ہے۔ وہ امٹراک ٹرین سے شکاگو آئے۔ اس کے بعد وہ دوسری ٹرین سے وسکونسن میں ملواکی آئے۔ یہاں وہ سیدھے بنک لوٹنے چیز بنک پہنچ گئے۔

لیکن یہ عام بنک ڈکیتی نہیں تھی کہ زیادہ سے زیادہ رقم حاصل کرکے پولیس کی آمد سے پہلے فرار ہونا ہے۔ ولیم نے بنک کے کیشیئر سے 100 ڈالر کے نوٹوں کا مطالبہ کیا، پھر خود پولیس کو بلانے کا کہا۔ اس کے بعد ولیم نے سکون سے پولیس کے آنے کا انتظار کیا۔ ولیم کا مقصد موقع سے فرار ہونا نہیں تھا بلکہ وہ تو گرفتار ہو کر واپس جیل جانا چاہتے تھے۔

(جاری ہے)


نیو یارک کے رہائشی ولیم نے جیل میں اتنا زیادہ وقت گزارا تھا کہ اب وہ باہر کی دنیا سے اپنی زندگی ہم آہنگ نہیں کر سکتے تھے۔

قید کے دوران انہوں نے ایک ساتھی قیدی سے سنا تھا کہ وسکونسن کی جیلیں امریکا بھر میں بہترین ہیں۔ اسی لیے انہوں نے وہاں کا سفر کرکے جرم کا ارتکاب کرنے اور جیل جانے کا فیصلہ کیا تاکہ اپنی بقیہ عمر سکون سے گزار سکیں۔
عدالتی کاغذات کے مطابق ولیم نے بیان دیا کہ 48 سال پہلے جیل میں وہ ایک 72 سالہ قیدی کے ساتھ بیٹھے تھے جو ملک کی تقریباً ہر جیل میں وقت گزار چکے تھے۔

72 سالہ قیدی وسکونسن کے حوالے سے شرط لگاتے تھے کہ یہاں کی جیلوں کا کھانا اور دیگر سہولت امریکا بھر میں بہترین ہیں۔
وسکونسن کی جیل میں رہنے کا ایک فائدہ بہترین علاج کی سہولت تھی۔ یہاں علاج کی سہولیات یو ایس ڈیپارٹمنٹ آف ویٹرنز افئیرز کی جانب سے فراہم کی جاتی ہیں۔ ویتنام کی جنگ میں لڑنے والے ولیم کی کمر میں کینسر زدہ رسولی کو ویٹرینز افیئرز کے ڈاکٹر ختم کر چکے ہیں لیکن اب معلوم ہوا ہے کہ کینسر ان کے پیٹ اور پھیپھڑے تک پھیل چکا ہے۔

ولیم کو یقین ہے کہ اس کا بہترین علاج جیل جا کر ہی ممکن ہے۔ جیل واپس جانے کی سب سے بڑی وجوہات یہ ہیں کہ ولیم خود کو باہر کی زندگی سے ہم آہنگ نہیں کر پا رہے اور اپنے بچوں پر بوجھ بننا بھی نہیں چاہتے۔
ولیم نے مقدمے کے دوران جج ڈیوڈ ہنشر سے کہا کہ وہ پاگل نہیں ہیں، وہ 68 سال کے ہیں، وہ اپنی زندگی وہیں سے شروع کرنے کی سوچ رہے ہیں،جہاں سے یہ چھُوٹی تھی۔


ولیم کی وضاحت سے حیران جج نے اُن سے پوچھا کہ کیا انہوں نے 1994 کی فلم دی شاشنک ریڈیمپشن دیکھی ہے؟ جج نے فلم میں لائبریرین کے کردار بروکس ہاٹلن کا حوالہ دیا تھا۔ بروکس طویل عرصے جیل میں رہنے کی وجہ سے رہا ہونے کے بعد باہر کی زندگی سے ہم آہنگ نہ ہوپاتے اور اپنی جان لے لیتے ہیں۔
ولیم نے جواب دیا کہ وہ لائبریرین میں ہی تھا، جو باہر کی دنیا سے ہم آہنگ نہ ہوپایا، اس نے خود کو پھانسی دے لی تھی جبکہ وہ ایسا نہیں کر سکے۔


ولیم کے خلاف پیش ہونے والے ڈسٹرکٹ اٹارنی جیمز گرفن بھی اُن کی وضاحت پر حیران ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ انہوں نے صحت کی سہولیات حاصل کرنے کے لیے بنک لوٹ کر جیل جانے والے کے خلاف کبھی نہیں سنا۔ انہوں نے امریکا میں صحت کی سہولیات پر افسوس کا اظہار کیا جہاں ایک شخص کو صحت کی سہولیات حاصل کرنے کے لیے بنک لوٹ کر جیل جانا پڑ رہا ہے۔
ولیم نے جج سے خود کو 10 سال قید کی سزا سنانے کی استدعا کی ہےتاہم جج نے ابھی تک انہیں کوئی سزا نہیں سنائی۔

جج نے اس حوالے سے مزید تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ مقدمے کی اگلی پیشی 13 فروری کو ہوگی۔
ولیم کی 10 سال سزا کی درخواست نے اُن کے وکیل چارلس روزن کو بھی مشکل میں ڈال دیا ہے۔ عام طور پر وکیل اپنے موکل کو بچاتے یا اُن کی سزا کم سے کم کراتے ہیں لیکن اسی دوران انہیں اپنے موکل کی خواہش کو بھی پورا کرنا پڑتا ہے۔ چارلس کا کہنا ہے کہ یہ اُن کے کام سے بالکل الٹ ہے۔
جیل جانے کے لیے بنک لوٹنے کا یہ پہلا کیس نہیں۔ چند سال پہلے ایک بوڑھے شخص نے اپنی بیوی سے دور رہنے اور جیل جانے کے لیے بنک لوٹا تھا(تفصیلات اس صفحے پر).

وقت اشاعت : 06/02/2019 - 23:52:17

Your Thoughts and Comments