انسانی حماقتوں سے تباہ ہونے والی تاریخی اہمیت کی حامل چیزیں

Ameen Akbar امین اکبر ہفتہ مئی 21:11

انسانی حماقتوں سے تباہ ہونے والی  تاریخی اہمیت کی حامل  چیزیں

البرٹ آئن سٹائن نے ایک بار کہا تھا” دو چیزیں لامحدود ہیں: کائنات اور  انسانی حماقت؛ اور میں کائنات کے بارے میں یقین سےنہیں کہہ سکتا“۔ انسانی حماقتوں کے تباہ کن ہونے کے حوالے سے ثبوت روز مرہ زندگی میں سامنے آتے رہتے ہیں۔ انسانی تاریخ بھی انسانی حماقتوں کی  تباہ کاریوں سے بھری ہوئی ہے۔ آج ہم آپ کو چند ایسی انسانی حماقتیں بتائیں گے، جنہوں نے تاریخی اہمیت کی حامل چیزوں کو تباہ کر کے رکھ دیا۔


1.    معبد آرتمیس:  ایک یونانی دیوی آرتمیس کے لیے وقف کیا گیا معبد تھا، جس کا شمار قدیم دنیا کے سات عجائبات عالم میں ہوتا ہے۔اس معبد کو ہیروستراتوس نامی شخص نے صرف اس وجہ سے جلا دیا کہ وہ مشہور ہو سکے۔ہیروستراتوس کے اس اقدام کی وجہ سے قدیم یونانیوں  نے اس کا نام لینا غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔

(جاری ہے)


2.    پارتھینون:  یونانی دیوی ایتھنا کا مندر ہے جسے موجودہ یونانی دار الحکومت ایتھنز کے مشہور زمانہ ایکروپولس میں 5 ویں صدی میں تعمیر کیا گیا۔

1687 تک یہ تقریباً اپنی اصل حالت میں تھا۔ اسی سال ویٹیکن نے  وہاں موجود سلطنت عثمانیہ کے  اسلحے کے ذخیرے پر حملہ کر دیا۔ ویٹیکن کی فوجوں نے اس مندر پر توپ کے 700 گولے فائر کیے۔ اتنی شدید گولہ باری سے مندر میں محفوظ  بارود کو آگ لگ گئی، جس سے مندر کوناقابل تلافی نقصان پہنچا۔
3.    امبر روم:  اسے دنیا کا آٹھواں عجوبہ بھی کہتے ہیں۔ یہ ایک کمرہ تھا، جسے عنبر، سونے کےورقوں، شیشوں اور کئی ٹن موتیوں سے سجایا گیا تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران اسے ہٹلر کے حکم پر اکھاڑ کر الگ الگ کیا گیا  اور صندوقوں میں کونگسبرگ بھیجا گیا۔  1945 میں کونگسبرگ کی جنگ کے بعد امبر روم کو دوبارہ نہیں دیکھا گیا۔
4.    مایا تہذیب کے نسخے:مایا تہذیب کی تحریری تاریخ ”مایا تہذیب کے نسخوں“کو 16 صدی میں ہسپانوی بشپ ڈیگو ڈی لانڈا نے  غیر خداؤں  کلام  کہتے  ہوئے  جلا دیا۔ اس سے مایا تہذیب، ثقافت، مذہب اور زبان کی معلومات مکمل طور پر ختم ہو گئیں۔


5.    اپالو 11 کی ٹیپس:ناسا کے پاس  انسان کے چاند پر قدم رکھنے کی  اصل فوٹیج موجود تھیں لیکن ناسا نے انہیں حذف کر دیا۔ اصل میں ناسا کے پاس ڈیٹا ٹیپس کی کمی تھی جسے پورا کرنے کےلیے انسان کے چاند پر قدم رکھنے کی فوٹیج کو صاف کر کے استعمال کیا گیا۔ اس وقت ہمارے پاس انسان کے چاند پر قدم رکھنے کی جو ویڈیو ہے وہ ڈی گریڈڈ ایس ایس ٹی وی بیک اپ سے لی گئیں ہیں۔


6.    ارشمیدس کا مسودہ: 13 ویں صدی کے دوران ایک راہب نے ارشمیدس  کی پرانی  کتاب  کے مواد کو صاف کیا اور اس پر  دعائیں تحریر کر دیں۔ صاف کیا گیا مسودہ اصل میں کیلکولیس کی جدید معلوما ت پر مبنی تھا۔ یہ نیوٹن اور لیبنیز سےصدیوں پہلے کا واقعہ ہے۔
7.    بیلیز میں ماین اہرام: بیلیز میں مایا دور کا اہرام 2300 سالوں سےموجود تھا۔ اسے ہاتھ سے بنائی گئی چونا پتھر کی اینٹوں سے بنایا گیا تھا۔

یہ اہرام 12 میل کے علاقے پر پھیلی 40 ہزار آبادی کا مرکز تھا۔ اس  اہرام کو بلڈوزر سے توڑ کر اس کا پتھر سٹرکوں کی تعمیر میں استعمال کیا گیا۔
8.    سنگا پور سٹون: یہ ایک بڑے پتھر کا حصہ ہے۔ یہ دریائے سنگا پور کے کنارے پر ایستادہ تھا۔ 19 فٹ اونچے اور 9 سے 10 فٹ چوڑے اس پتھر کو 13 ویں   صدی یا اس سےبھی پہلے نصب کیا گیاتھا۔اس پر 52 سطروں میں الفاظ کندہ تھے۔

یہ قدیم ترین جاوا یا سنسکرت  میں لکھے تھے۔ دریافت ہونے کے چند دہائیوں  کے بعد 1843 میں  اسے  راستہ بنانے کےلیے توڑ دیا گیا۔
9.    نامڈیمن:  ساؤتھ گیٹ آف سؤل، جنوبی کوریا میں  600 سال   سے موجود ایک دروازہ تھا۔ اسے فروری 2008 میں ایک شخص نے جلا دیا۔ اس شخص کو غصہ تھا کہ ڈویلپرز کو اس نے جو زمین فروخت کی ہے، اس کی مکمل رقم اسے ابھی تک نہیں ملی تھی۔
10.    نیو پیلس: ولیم شیکسپیئر کی آخری رہائشی محل نیو پیلس کو 1756  ایک نئے خریدار نے خریدا اور 1759 میں توڑ دیا۔ یہ شخص محل میں سیاحوں کی آمد سے تنگ آگیا تھا۔ اس حرکت کی وجہ سے اس شخص کو ٹاؤن سے باہر نکال دیا گیا۔

وقت اشاعت : 11/05/2019 - 21:11:17

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments