سعودی راز افشا کرنے والا ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال

سعودی راز افشا کرنے والا ٹوئٹر اکاؤنٹ بحال

ریاض(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔12مارچ۔2015ء) سعودی عرب میں شاہی خاندان کے افراد کی جانب سے اعلی سطح پر بدعنوانی سے متعلق دستاویزات افشا کرنے والے بلاگر کا ٹوئٹر اکاؤنٹ نامعلوم وجوہات کی بنا پر بند کر دیے جانے کے بعد اب دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ وہ ٹوئٹر پر سب سے زیادہ با اثر سعودی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ کچھ لوگ انھیں سعودی ’جولین اسانژ‘ پکارتے ہیں لیکن کوئی بھی ان کی اصل شناخت نہیں جانتا۔

اب بھی سعودی عرب میں 17 لاکھ افراد ان کو فالو کر رہے ہیں۔ Mujtahidd@ کے نام سے اس ٹوئٹر اکاؤنٹ کے 17 لاکھ فالوور تھے جو ان کا اکاؤنٹ بند کیے جانے کے بعد ضائع ہو گئے تھے۔ اس اکاؤنٹ کو شاہی خاندان کے افراد کی جانب سے کی جانے والی مبینہ بدعنوانیوں سے متعلق دستاویزات افشا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔

(جاری ہے)

ان شاہی افراد میں موجودہ سعودی شاہ اور ولی عہد بھی شامل ہیں۔

سعودی عرب میں شاہی خاندان اور مذہبی رہنماؤں کے خلاف تنقید کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ قوانین کے تحت ایسے افراد پر ریاست کے حکمران سے غداری اور آن لائن جرائم سے متعلق الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق انہی قوانین کے تحت سعودی حکام اصلاحات کا مطالبہ کرنے والے انسانی حقوق کے درجنوں کارکنوں کو قید کر چکے ہیں۔

سنہ 2014 میں اطلاعات کے مطابق مذہبی پولیس نے مذہبی اور اخلاقی خلاف ورزیوں کی الزام میں دس ہزار کے قریب ٹوئٹر اکاؤنٹس بند کروائے۔ جولائی سنہ 2011 میں ریاست میں عرب سپرنگ کی ناکامی کے بعد اب تک صرف یہی اکاؤنٹ Mujtahidd@ سزا سے بچ سکا ہے۔ یا کم سے کم گذشہ ہفتے تک جب اس کا اکاؤنٹ چند روز کے لیے بند کر دیا گیا۔ کیا یہ حکام کے کہنے پر کیا گیا؟ یہ جاننے کے لیے بی بی سی نے ٹوئٹر سے رابطہ کیا تو ٹوئٹر کا جواب تھا کہ پرائیویسی اور سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کمپنی کسی انفرادی اکاؤنٹ کے بارے میں بات نہیں کرتی۔ سعودی حکام سے بھی رابطہ کیا گیا لیکن انھوں نے بھی کوئی بیان نہیں دیا۔

وقت اشاعت : 12/03/2015 - 19:39:49

متعلقہ عنوان :

Your Thoughts and Comments