بند کریں
خواتین مضامینعظیم بیویاںبی بی صاحب جی

مزید عظیم بیویاں

- مزید مضامین
بی بی صاحب جی
بی بی صاحب شاہ جہاں کے دور کے قندھار کے گورنرعلی مردان خان کی بیٹی تھی۔ اس کی شادی ایک دولتمند سردار امیر خان سے ہوئی چونکہ صاحب جی کی تعلیم وتربیت نہایت اعلیٰ طریقے سے کی گئی تھی۔۔۔
بی بی صاحب شاہ جہاں کے دور کے قندھار کے گورنرعلی مردان خان کی بیٹی تھی۔ اس کی شادی ایک دولتمند سردار امیر خان سے ہوئی چونکہ صاحب جی کی تعلیم وتربیت نہایت اعلیٰ طریقے سے کی گئی تھی اس لئے اس کا شوہر امیرخان اس کی بہت قدر کرتا تھا۔ وہ نہایت سلیقہ شعار، ہوش مند، خوبصورت اور خوب سیرت تھی۔ اس کا شوہر بھی اس کی بہت عزت کرتا تھا۔ ایک بار ہاتھی کے مچلنے پر صاحب جی نے ہاتھی پر سے چھلانگ لگا دی اور ایک دکان میں چھپ کر جان بچائی۔ اس بات پر اس کاشوہر امیر خان اس لئے ناراض ہو گیا کہ وہ بے پردہ کیوں ہوئیں۔جب اس بات کی شاہ جہاں کو خبر ہوئی تواس نے امیر خان کو بلا کر سمجھایا اور شاہ جہاں کے سمجھانے پر امیر خان دوبارہ اپنی زوجہ سے راضی ہو گیا۔
شاہ جہاں کے بعد اورنگ زیب عالمگیر کی حکومت آئی۔ اس دور میں امیر خان کو بہت عروج نصیب ہوا۔ بادشاہ نے امیر خان کو کابل کا گورنر مقرر کیا۔ اس نے کابل کے سرکش لوگوں کو اپنی بہادری اور ذہانت سے قابو میں رکھا اورکسی شورش پسند کر سر نہ اٹھانے دیا۔ اس کی بیدار مغزی کے پیچھے اس کی بیگم صاحب جی کا ہاتھ تھا۔ وہ امورِ سیاست میں زبردست مہارت رکھتی تھی۔ امیر خان حکومت کا تمام کاروبار اس کے مشوروں کے مطابق چلاتا تھا۔
ایک بار امیر خان کسی سفر پر روانہ ہو تو راستے میں اس کی وفات ہوگئی۔ صاحب جی نے اس قت نہایت ہوشیاری سے کام لیا۔وہ چونکہ پٹھانوں کی فطرت سے آگاہ تھی اس لئے اس نے امیر خان کے فوت ہونے کی خبر کو پھیلنے نہ دیا۔ وہ جانتی تھی کہ امیر خان کے فوت ہونے کی خبر سنتے ہی بغاوت ہو سکتی ہے ۔ اس نے ایک قابل اعتماد شخص کو امیر خان کا لباس پہنا کر اس کی پالکی میں بٹھا دیا اورسفر کے دوران عام فوجی اور سردار اس کو ہی امیر سمجھتے رہے۔
جب لشکر منزلِ مقصود کو پہنچ گیا تو صاحب جی امیر خان کی وفات کا اعلان کیا اور باقاعدہ سوگ منایا۔ تمام سردار ان قبائل نے اپنی بیگمات کو اس کے پاس تعزیت کے لئے بھیجا۔ اس نے ان کی خوب خاطر مدارت کی ۔اس نے تمام سرداروں کو ان کی بیگمات کے ذریعے وفا دار رہنے اور تمام واجبات ادا کرنے کے پیغامات بھجوائے اور کہا کہ اسی صورت میں وہ اپنے مراتب پر برقرار رہ سکتے ہیں۔صاحب جی نے نئے گورنر کے آنے تک دربار حکومت خود سنبھال لیا اور بغاوت کرنے والے کو سختی سے کچلنے کی دھمکی دی۔ اس کے حسن تدبیر سے کسی بھی افغان سردار نے حکومت کے خلاف سر نہ اٹھایا اور اس کے نتیجے میں مکمل امن قائم رہا۔
اورنگ زیب کو امیر خان کے بعد کابل کی بڑی فکرتھی کہ کہیں اس پر ایران یا کسی اور ملک کا قبضہ نہ ہوجائے۔ اس لئے اس نے بڑے غوروفکر اور امیر الامراء کے مشورے کے بعد صاحب جی کے پاس ہی کاروبارِ حکومت رہنے دیا اور کہا کہ وہ نئے گورنر کے آنے تک کام چلاتی رہے۔ صاحب جی نے دو سال تک بطریق احسن کام چلایا اور نئے گورنر کے آنے پر اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوشی حاصل کی۔
امیر خان کی صاحب جی سے کوئی اولاد نہ تھی،اسلئے اس نے خفیہ طور پر ایک اور شادی کر لی تھی ۔ امیر خان کے دوسری بیوی سے بچے بھی تھے۔ صاحب جی نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان بچوں کے اپنے بچے بنالیا اور ان کے ساتھ محبت اور شفقت کا سلو ک کیا۔کابل کر گورنری سے فارغ ہونے کے بعد اس نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ شریف مکہ اور حجازاس کا بہت احترام کرتے تھے۔ اس نے حاجیوں کی خوب خدمت کی اور حجاز میں قیام کے دوران بہت سا روپیہ راہِ خدا میں خرچ کیا۔ مغل دور کی عظیم ترین مسلم خواتین میں بی بی صاحب جی کا نام آتا ہے۔

(0) ووٹ وصول ہوئے