بند کریں
خواتین مضامینعظیم مائیںاماں بی رقیہ بیگم

مزید عظیم مائیں

-
اماں بی رقیہ بیگم
اماں بی رقیہ بیگم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی والدہ تھیں اور مرزا غالب کے ہمعصر شاعر مرزا قربان علی بیگ سالک کی بیٹی تھیں۔

اماں بی رقیہ بیگم
اماں بی رقیہ بیگم مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی والدہ تھیں اور مرزا غالب کے ہمعصر شاعر مرزا قربان علی بیگ سالک کی بیٹی تھیں۔ آپ 1872 میں پیدا ہوئیں اور 1890 کے عشرہ میں آپ کی شادی احمد حسن مودودی کے ساتھ ہوئی۔ اس وقت رقیہ بیگم نوجوان تھیں جبکہ ان کے شوہر سید احمد حسن مودودی چالیس برس کے تھے۔ احمد حسن کے پہلی بیوی سے تین بچے تھے۔ امام بی نے ان کو ماں کا پیار دیا۔ اماں بی مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ شادی کے بعد انہیں بڑے سخت حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ان کے شوہر احمد حسن نازک مزاج مگر سخت تھے۔ معمولی معمولی بات پر غصہ میں آجاتے۔اماں بی ان کے مزاج کو سمجھ گئیں اور اپنے آپ کو ان کے مزاج میں ڈھالنا شروع کر دیا۔ اللہ نے پہلا فرزند دیا تو اس کا نام ابولخیر رکھا ۔ 25 ستمبر 1903 کو دوسرا فرزند دیا تو اس کا نام ابوالاعلیٰ رکھا۔ اس وقت تک احمد حسن اور نگ آباد(دکن) میں وکالت کرتے تھے مگر مجاہدہاور ریاضت کی طرف راغب ہو گئے۔ دلی سے کچھ فاصلے پر عرب سرائے میں ڈیرا جما لیا۔ زندہ رہنے کے لیے تین سال تک صرف خشک روٹی اور ابلے ہوئے ساگ پر گزارا کیا۔ تمام دنیا سے منہ موڑلیا پر مرشد کی نصیحت پر دہلی میں دوبارہ وکالت شروع کی مگر کبھی بھی جھوٹا مقدمہ نہ لیتے تھے۔ اس وجہ سے وہ صرف گزارا کرتے رہے ۔ ان حالات میں اماں بی نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ ویسے بھی وہ فطرتاََ سادہ مزاج تھیں۔ اگر ان کے پاس گھر کے خرچ کے لئے رقم آجاتی تو وہ بھی محلے کے غریبوں اور حاجت مندوں میں تقسیم کر دیتیں۔ انہوں نے خوشحالی اور غریب دنون ہی دیکھیں اور ہر حال میں صابر وشاکر رہیں۔عبادت گزارتھیں اور اولیاء اللہ سے ان کو خاص عقیدت تھی۔ نماز ،روزے کی آخری عمر تک پابندی کرتی رہیں اور ورودو وظائف کو کبھی بھی ترک نہ کیا ۔ آپ راتوں کو بھی اٹھ اٹھ کر عبادت کیا کرتی تھی۔
سید احمد حسن 1920 میں فوت ہو گئے تو انہوں نے اس کے بعد37 سال بیوگی کے گزارے۔ اس عرصے میں انہوں نے صبرواستقامت اور مومنانہ وقار کا عظیم الشان مظاہرہ کیا۔ان کی سادگی کا یہ عالم تھا کہ فاخرہ لباس سے ہمیشہ دور رہیں ۔ زندگی کے آخری دس پندرہ سالوں میں تو انہوں نے نئے کپڑے پہننا بھی چھوڑ دیئے تھے۔
طبیعت پر قناعت کا س قدر غلبہ تھا کہ معمولی سی چیز سے مطمئن ہو جاتی تھی۔ ان کی عادت تھی کہ جب سب لوگ کھانا کھا چکتے تو بچا کھچا کھانا کھالیتی تھی۔ پُر تکلف غذاوں سے آپ کو کوئی رغبت نہ تھی۔ مولانا مودودی بتاتے ہیں کہ وہ جب حیدرآباد میں تھے تو ان کے مکان کے سامنے سے چھ سات گدھے گزرے جن پر خربوزے لدے ہوئے تھے ۔ اماں بی نے قیمت طے کر کے خربوزے خرید لئے اور تمام محلے میں بانٹ دئیے۔
ایک بار انہیں معلوم ہوا کہ کسی ملنے والے کے پاس قرض ادا کرنے کے لئے رقم نہیں ہے جبکہ قرض خواہ واپسی کا سختی سے تقاضا کر رہے ہیں۔ اماں بی چپکے سے ان کے گھر جا کر ان کو اتنی رقم دے آئیں کہ وہ اپناقرض واپس کر سکیں۔ وہ ضرورت مندوں کی حاجت قرض لے کر بھی پوری کر دیتی تھیں۔
1944 میں اماں بی مستقل طور پر اپنے بیٹے ابوالاعلیٰ کے پاس آگئیں۔ اماں بی کی خواہش پر مولانا نے گھر کے سامنے والا مکان ان کے لئے مخصوص کر دیا۔ وہاں پر اماں بی نے قرآن پاک کی تعلیم کا انتظام اس سلیقے سے کیا کہ دارالاسلام کے علاوہ نواحی بستیوں سے بھی ان کے پاس بچیاں پڑھنے کے لئے آنے لگیں۔ اماں بی وقتاََ فوقتاََ خود بھی باہر نکل کر گھر گھر جاتیں اور عورتوں کا دین کی ضرورت اور اہمیت بتاتیں اور ان کی بچیوں کو اپنا شاگرد بناتیں۔ قرآن پاک کی تعلیم دینے کا شوق ان کو عمر بھر رہا۔ وہ حیدرآباد، دارالاسلام ، پٹھان کوٹ اور لاہور میں رہیں لیکن بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دینے کا سلسلہ انہوں نے ہر جگہ جاری رکھا۔
پاکستان بننے کے بعد آپ لاہور میں اپنے بڑے بیٹے ابوالخیر کے پاس آگئیں ۔ یہاں پر آ پاس کے بچے ان سے مستفید ہوئے۔ وہ گھر میں پکوان پکواتیں توا محلے داروں کو بھیجنا مت بھولیتں۔ہر سال ایک بار شب دیگ بھی پکواتیں اور مل جل کر کھاتیں۔ 1952 میں مولانا مودودی کو قادیانی مسئلہ پر فوجی عدالت نے سزائے موت سنائی تو امام بی نے عظیم الشان صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا۔ اماں بی مولانا مودودی کو آخردم تک منا کہہ کر پکارتی رہیں۔
اماں کو اپنے پوتے پوتیوں کے علاوہ دوسرے خاندان والے بھی دادی اماں کے نام سے پکارتے۔ پڑوس کی خواتین تک آپ کودادی اماں کہہ کر مخاطب کرتی تھیں۔آپ نہایت شگفتہ مزاج بھی تھیں۔ آپ کا دائرہ تعلقات بہت وسیع تھا۔ آپ سے ملنے والا آپ سے بہت جلد مانوس ہو جاتا تھا۔ ان کے منہ بولے بیٹوں ، بہنوں ،بھانجیوں کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ان کا شمار نا ممکن تھا۔ آخری عمر میں عموماََ بزرگ چڑچڑے پن کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن اماں بی کے ساتھ یہ معاملہ نہ تھا۔ آپ سراپا ملنسار اور خوش اخلاق تھیں۔ بیماری کے دوران بھی کوئی بات ایسی کرتیں کہ پاس موجود افراد ہنس پڑتے۔
اماں بھی کی صحت بالعموم اچھی رہتی تھی۔ معمولی عوارض کو آپ اہمیت نہ دیتی تھیں۔ نومبر 1958 میں آپ بہت بیمار ہوئیں۔ آپ کواسہال کی شکایت تھی۔ اس تکلیف نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ آپ کے لیے بستر سے اٹھنا بھی مشکل ہو گیا۔ ہر قسم کے علاج کے باوجود آپ کو افاقہ نہ ہوا۔ آ پ کے پاس حکیم شریف آئے۔ آنے اطلاع دی گئی تو آپ نے کہا کہ اب کسی شریف با بدمعاش کی ضرورت نہیں۔ اب تو دمِ رخصت ہے۔ 5 دسمبر کو اماں بی کی تکلیف بہت زیادہ بڑھ گئی۔ نظامِ ہضم نے بالکل جواب دے دیا اور آپ 5 یا 6 دسمبر کی درمیانی شب انتقال کر گئیں۔
اماں ایک عظیم خاتون تھیں۔ آپ نے ایک اچھی بیٹی، اچھی بیوی اور ایک اچھی ماں کی ذمہ داریاں بحسن وخوبی نبھائیں اور آپ کی تربیت کردہ اولاد نے دنیا میں اپنا نام روشن کیا۔

(1) ووٹ وصول ہوئے