بند کریں
خواتین مضامینعظیم مائیںامام بی

مزید عظیم مائیں

-
امام بی
علامہ اقبال کی والدہ وہ عظیم خاتون تھیں جنہوں نے اس مردِ حق آگاہ کو جنم دیا

امام بی
علامہ اقبال کی والدہ وہ عظیم خاتون تھیں جنہوں نے اس مردِ حق آگاہ کو جنم دیا جس نے اپنی جھنجھوڑ دینے والی شاعری سے امت مسلمہ کے تن مردہ میں نئی روح پھونک دی، مایوسیوں کے اندھیرے میں امیدوں کی نئی روشنی دکھائی، جوانوں کو کو عشق وجنون کی لذت سے آشنا کیا، مقہوروں کی خودی کا سبق پڑھایااور مغربی تہذیب و فلسفے کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں۔
علامہ اقبال کے والد شیخ نور محمد کی شادی موضع سمبڑیال ضلع سیالکوٹ کے ایک کشمیری گھرانے میں ہوئی تھی۔ ان کی بیوی اور والدہ اقبال کا نام امام بی تھا۔ امام بی کو سب ”سب جی“ کہتے تھے۔ وہ لکھنے پڑھنے سے ناواقف تھیں۔ صرف نماز جانتی تھیں جسے وہ باقاعدہ ادا کیا کرتی تھیں۔ ناخواندہ ہونے کے باوجود ہو بڑی معاملہ فہم، درواندیش اور مدبر خاتون تھیں۔ خاندان کے جھگڑوں کا خوش اسلوبی سے تصفیہ کراتی تھیں اور محلے کی خواتین میں بڑی مقبول تھیں۔
اپنے طبعی گداز اور رحم دلی کی بدولت بے جی کسی کو مصیبت میں نہیں دیکھ سکتی تھی ۔ غرباء کی امداد کرنا مگراس انداز میں کہ کسی کو خبر نہ ہو ان کا دستور تھا۔ ان کا ایک اور طریقہ کار یہ تھا کہ محلے کے غریب گھرانوں کی دس بارہ سال کی تین چار بچیوں کو اپنے ہاں لے آتیں اور ان کی کفیل بن جاتیں۔ انہیں امورِ خانہ داری کی تعلیم دیتیں ، سلائی کڑھائی سکھاتیں، اپنی بہو بیٹیوں سے پڑھنے لکھنے کے علاوہ دینی تعلیم دلواتیں۔ پھر کوئی مناسب سا رشتہ دیکھ کر ان کا بیاہ کر دیتیں۔ جتنا عرصہ وہ لڑکیاں ان کی تحویل میں رہتیں۔ وہ ان کی دیکھ بھال بالکل اپنی بیٹیوں کی طرح کرتیں اور شادی کے وقت بھی انہیں بیٹیوں کی طرح رخصت کرتیں۔ شادی کے بعد وہ لڑکیاں ان کے ہاں اسی طرح آتیں جیسے بیٹیاں میکے آتی ہیں۔
اقبال کی والدہ کا انتقال9نومبر1914 ہوا انہیں امام صاحب کے قرستان میں دفن کیا گیا۔ اتفاق سے 9 نومبر یہ ان کا یومِ ولادت بھی ہے چنانچہ اپنی والدہ کی وفات پر اقبال پورے 37برس کے تھے اس کے باوجود انہوں نے اپنی والدہ کی موت کو اس طرح محسوس کیا جس طرح کوئی کمسن بچہ محسوس کرتا ہے۔ بچپن کی ساری یادیں اور شوخیاں ماں کے ساتھ وابستہ تھیں۔ آپ کو سخت صدمہ ہوا اور کئی روز تک آپ دلگرفتہ رہے۔
ایک دفعہ عبدالمجید سالک کے سامنے آپ نے کہا کہ جب سیالکوٹ جاتا تھا اور والدہ صاحبہ شگفتہ ہو کر فرماتیں۔ ”میرا بالی آگیا۔“ تو میں ان کے سامنے اپنے آپ کو ایک ننھا سابچہ سمجھنے لگتا۔ اسی جذبے کا اظہار انہوں نے اپنے اس شعر میں کیا ہے۔
زندگی کی اوج گاہوں سے اتر آتے ہیں ہم
صحبت مادر میں طفل سادہ رہ جاتے ہیں ہم
اپنی والدہ کی وفات کے حوالے سے اقبال نے مہاراجہ کشن پر شاد کو تحریر کیا:
”آہ انسان اپنی کمزوری کو چھپانے میں کس قدر طاق ہے۔ بے بسی کا نام صبر رکھا ہے اور پھر اس صبر کو اپنی ہمت و استقلال کی طرف منسوب کرتا ہے۔ مگر اس حادثے نے میرے دل ودماغ میں ایک شدید تغیر پیدا کر دیا ہے ۔ میرے لئے دنیا کے معاملات میں دلچسپی لینا اور دنیا میں بڑھنے کی خواہش کرنا صرف والدہ صاحبہ کے دم سے تھا۔ اب یہ حالت ہے کہ موت کا انتظار ہے ۔ دنیا میں موت سب انسانوں تک پہنچتی ہے اور کبھی کبھی انسان بھی موت تک جا پہنچتا ہے ۔ میرے قلب کی موجودہ کیفیت یہ ہے کہ وہ تو مجھ تک پہنچتی نہیں، کسی طرح میں اس تک پہنچ جاوٴں ۔“

(1) ووٹ وصول ہوئے