بند کریں
خواتین مضامینابتدائی طبی امدادجریان خون یا خون بہنا

مزید ابتدائی طبی امداد

پچھلے مضامین -
جریان خون یا خون بہنا
جب کسی شریان کے کٹ جانے یا زخمی ہوجانے سے خون بہنے لگے گا تو ہو فوارے کی صورت میں نکلتا ہے اور دل کی حرکات کے مطابق اس کے اندر اتار چڑھاؤ(مدوجزر)ہوتا رہتا ہے
جریان خون یا خون بہنا:
انسانی جسم میں خون کی نالیاں دو قسم کی ہوتی ہیں ایک وہ جو خون کو دل سے حاصل کرکے جسم کے مختلف حصوں کو پہنچا دیتی ہیں ان کو شریانیں کہتے ہیں اور ایک وہ جو جسم کے مختلف حصوں سے خون جمع کرکے اس کو دوبارہ دل کی طرف لے جاتی ہیں،اُن کو وریدیں کہتے ہیں،شریانوں کے اندر خون زیادہ تیزی سے دوڑتا ہے اور کافی دباؤ کے ماتحت ہوتا ہے اور وریدوں میں خون کی رفتار کم ہوتی ہیں اور وہ بہت کم دباؤ کے ماتحت چلتا ہے،
وریدی اور شریانی جریان خون میں فرق: پس جب کسی شریان کے کٹ جانے یا زخمی ہوجانے سے خون بہنے لگے گا تو ہو فوارے کی صورت میں نکلتا ہے اور دل کی حرکات کے مطابق اس کے اندر اتار چڑھاؤ(مدوجزر)ہوتا رہتا ہے خون کا رنگ شوخ سرخ ہوتا ہے اور زخم کے اس سرے سے نکلتا ہے جو دل کے زیادہ قریب ہوگا اس لیے جب اس قسم کے خون کو بند کرنا مقصود ہوگا تو زخم کے اس سرے پر دباؤ ڈالا جائے گا جو دل کے زیادہ قریب ہوگا۔جو خون ورید کے زخمی ہونے یا کٹ جانے سے بہنے لگے گا وہ فوارے کی طرح نہیں نکلتا اور نہ ہی اس میں اُتار چڑھاؤ ہوتا ہے،بلکہ وہ ایک ہی رفتار سے مسلسل بہتا رہتا ہے اُس کا رنگ سیاہی مائل ہوتا ہے اور بالعموم یہ زخم کے اُس سرے سے بہتا ہے جو دل سے دور رہتا ہے اس لیے جب اس قسم کے خون کو بند کرنا مقصود ہو تو زخم کے اُس سرے پر دباؤ ڈالنا چاہیے جو دل سے دور ہو۔
علاج: 1 ۔جب خون زیادہ نکل گیا ہو تو چارپائی کی پائنتی اونچی کردیں تاکہ سرکی سطح جسم کی عام سطح سے نیچے ہوجائے۔
2 ۔جب تک خون مناسب حد تک بند نہ کردیا گیا ہو اور مجروح خطرے سے باہر نہ ہوگیا ہو اُس وقت تک کوئی مقوی،گرم یا طاقتور دوا یا غذا نہ دیں،ورنہ خون پھر بہنے لگے گا البتہ مجروح پیاس پیاس محسوس کرے تو تھوڑا تھوڑا پانی پلانے میں کوئی مضائقہ نہ ہوگا اوراگر اس پانی میں قدرے گلوکوز ملادی جائے تو فائدہ مند ثابت ہوگی،
۳۔اگر مریض بے چین ہو تو افیون کا استعمال بڑا مفید رہتا ہے اگر یہ میسر نہ آسکے تومریضوں کو دو خواب آور گولیاں یا لارجیکٹل کی دو گولیاں کھلائیں،
۴۔جب جریان خون بند کیا جاچکے تو زخم اور مجروح کی عام حالت کی طرف متوجہ ہوں،اگر زخم سطح پر ہو تو اس کے کناروں کو آپس ملا کر اُس پر کسی کر پٹی باندھ دیں اگر زخم گہرا ہو تو زخم کو ایسی جالی یا کپڑے سے پر کرکے اس پر پٹی باندھ دی جائے جس کو کسی جراثیم کش محلول میں بھگو دیا گیا ہو اور اس کے لیے عام طور پر کاریالک ایسڈ کا بیس فی صد محلولل استعمال کیا جاتا ہے اگر یہ موجود نہ ہو توزخم پر یورک ایسڈ چھڑک کر پٹی باندھیں اگر یہ بھی موجود نہ ہو تو ململ کے کپڑے کو پانی میں اُبال کر اس زخم کو ’پر کرکے اوپرل پٹی باندھ دیں،مجروح عضو کو جسم کی عام سطح سے اونچا رکھیں اور جب تک مجروح کسی غیر معمولی تکلیف کا اظہار نہ کرے پٹی کو تین دن تک نہ کھولیں مریض کو جلد از جلد ہسپتال میں یا کسی ڈاکٹر کے پاس پہنچائیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے