بند کریں
خواتین مضامینابتدائی طبی امدادمصنوعی تنفس جاری کرنا

مزید ابتدائی طبی امداد

پچھلے مضامین - مزید مضامین
مصنوعی تنفس جاری کرنا
ناک یا منہ پر منہ رکھ کر یا اگرمحدوث بچہ ہو تو اس کے منہ اور ناک دونوں کے راستے زور سے پھونک ماریں،اس عمل سے ہوا محدوث کے پھیپھڑے میں داخل ہوجائے گی جوان آدمیوں میں منہ یہ ناک طریقہ بہترین ہوتا ہے
مصنوعی تنفس جاری کرنا:
جب سانس کے راستے میں رکاوٹ پیدا ہوگئی ہوتو سانس آجانہیں سکتا اور اس کا نتیجہ موت ہوتا ہے ان حالتوں میں سانس بند ہوسکتا ہے،
۱۔سر پر چوٹ یا ضرب آنے سے،
۲۔بے ہوشی میں،
۳۔بجلی کا جھٹکا لگنے سے،
۴۔زہریلی گیس یا ہوا میں سانس لینے سے،
۵،زہر کھالینے سے،
۶۔ڈوب جانے سے،
مصنوعی سانس کی بحالی کے طریقوں کی مشق ضرورت سے پہلے ہی کافی کرلینا چاہیے،
براہ راست ہوا دخل کرنا: محدوث کی ناک یا منہ پر منہ رکھ کر یا اگرمحدوث بچہ ہو تو اس کے منہ اور ناک دونوں کے راستے زور سے پھونک ماریں،اس عمل سے ہوا محدوث کے پھیپھڑے میں داخل ہوجائے گی جوان آدمیوں میں منہ یہ ناک طریقہ بہترین ہوتا ہے کیونکہ اس طرح معدے کے اندر ہوا داخل ہوجانے کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا ورنہ معدے کے پھول جانے سے قے آنے کا خطرہ ہوتا ہے اگر حادثہ کا باعث کوئی زہر ہو پھر تو منہ یہ ناک طریقہ ہی بس بہترین ثابت ہوگا کیونکہ اس طرح مدد کرنے والے کا منہ معصوم کے ہونٹوں کے ساتھ نہ لگے گا،
مصنوعی تنفس کے زریں اصول:
۱۔اپنا عمل فوراً شروع کریں،
۲۔منہ یا ناک سے لے کر پھیپھڑوں تک کے راستے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو،
۳۔پھیپھڑے کے اندر ہوا داخل بھی کرنا ہوگی اور پھر اسے باہر بھی نکالنا ہوگا،
۴۔یہ عمل اس وقت تک جاری رکھیں جب تک محدوث خود سانس لینا شروع نہ کردے،
۵۔جب محدوث خود سانس لینا شروع کردے اور سانس باقاعدہ آرہا ہو تو پھر اس کو ایک کروٹ لٹادیں اس طرح کہ اس نے پوری کروٹ نہ لی ہو بلکہ نصف کروٹ ہو جیسا کہ آدمی بے ہوشی کی حالت میں پڑا ہوتا ہے،
۶۔محدوث کا بغور معائنہ کرتے رہیں اور دیکھتے رہیں کہ وہ واقعی باقاعدگی سے سانس لے رہا ہے،
۷۔محدوث کو ہسپتال پہنچانے کا بھی انتطام کرتے رہیں اور ہسپتال پہنچنے تک اس کے سانس کو دیکھتے رہیں،
فوری عمل: مثلاً ڈوبتے ہوئے شخص کو بچاکر کشتی میں ڈال دیا گیا ہت اب اس بات کا انتطار نہ کریں کہ ا سے خشکی پر لے جاکر تنفس جاری کیا جائے،
تنفس کے راستے کو کیسے صاف کیا جائے:
بے ہوشی میں آدمی کی زبان پیچھے کی طرف حلق پر گر پڑتی ہے اور وہ بھی سانس کا راستہ بند کردیتی ہے اسے ہٹانے کے لیے سر کو پیچھے کی طرف جس حد تک ممکن ہوسکتا ہے دبائیں اور اس کے ساتھ نچلے جبڑے کواوپر اور سامنے کی طرف اس حد تک اُٹھائیں کہ سامنے کے اوپر والے اور نچلے دانت آپس میں آملیں اس حالت میں زبان پیچھے کی طرف نہیں گرسکتی اور نہ ہی سانس کے راستے کو بند کرسکتی ہے اس کے ساتھ ہی اگر منہ کے اندرکوئی شے چلی گئی ہو یا موجود ہو تو اُسے بھی صاف کردیں۔
ہوا داخل کرنا اور نکالنا: محدوث کے منہ کو اچھی طرح بند کرئے کہ بعد اس کی ناک کے اندر زور سے گہرائی تک لیکن متواتر پھونک مارتے رہیں حتیٰ کہ محدوث کا سینہ اُبھرتا ہوانظر آنے لگے جب وہ کافی حد تک اُبھر آئے تو اب مددگار اپنے منہ کو محدوث کی ناک سے ہٹالے سینے کے سکڑنے سے پھیپھڑوں سے ہوا خود بخود خارج ہونے لگے گی مددگار خارج ہونے والی ہوا میں خود سانس نہ لے جب تمام ہوا خارج ہوچکے تو مددگار پھر پہلے کی طرح پھونک مارکر اس کے پھیپھڑوں کو ہوا سے بھردے اور پھر حسب دستور پیچھے ہٹ جائے اس طرح متواتر کرتے رہیں حتیٰ کہ محدوث خود بخود سانس لینے لگے اگر محدوث کی ناک بند ہوتو پھر نتھنوں کو دبا کرناک کا راستہ بالکل بند کردیں اور حسب دستور محدوث کے منہ کے اندر زور سے پھونک ماریں اس عمل کو منہ یہ منہ عمل کہتے ہیں عموماً ان میں سے کوئی ایک عمل کامیاب رہتا ہے لیکن پہلے منہ یہ ناک کا عمل کرکے دیکھ لینا چاہیے کیونکہ یہ عمل بہتر ہوتا ہے،سانس کی بحالی کے بعد محدوث نیلاہٹ سے سرخی کی طرف آتا جائے گا اس لیے پہلے چھ سے دس دفعہ ہوا کو جلدی جلدی بھرتے جانا چاہیے اس کے بعد البتہ ہوا کا یہ بھرنا اپنا وقت خود بتلائے گا،محدوث کو اگر مصنوعی تنفس کی امداد مل رہی ہے تو اسے ہسپتال پہنچانے میں جلدی نہ کریں پہلے سانس کو بہتر بنائیں۔

(0) ووٹ وصول ہوئے