بند کریں
خواتین مضامینقرونِ اولیٰحضرت نفیسہ رحمتہ اللہ علیہا بنت حسن رحمتہ اللہ علیہ

مزید قرونِ اولیٰ

-
حضرت نفیسہ رحمتہ اللہ علیہا بنت حسن رحمتہ اللہ علیہ
حضرت نفیسہ رحمتہ اللہ علیہا بنت حسن رحمتہ اللہ علیہا دوسری صدی ہجری کی مشہور عالمہ و عارفہ تھیں۔

حضرت نفیسہ رحمتہ اللہ علیہا بنت حسن رحمتہ اللہ علیہا دوسری صدی ہجری کی مشہور عالمہ و عارفہ تھیں۔آپ حضرت حسن بن زید بن علی بن ابو طالب کی صاحبزادی تھیں اور اسحٰق بن جعفر صادق بن محمد باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی کی اہلیہ تھیں ۔ آپ 145 ہجری میں پیدا ہوئیں۔ خانوادہ نبوت میں علم وفضل اور زہد و تقویٰ کا ویسے ہی رواج تھا۔
آپ نے سب سے پہلے قرآن پاک حفظ کیا پھر تفسیر ، حدیث اور دیگر علوم میں کمال حاصل کیا۔ علم سے اپنی پیاس بجھانے کے بعد آپ کا زیادہ وقت عبادت اور ریاضت میں گزرتا۔ ان کی خوش قسمتی کہ ان کی شادی اسحٰق بن جعفر صادق سے ہوئی۔ وہ بھی نہایت عابد وہ زاہد نوجوان تھے ۔انہوں نے ایک عرصہ مدینہ اور مکہ میں قیام کیا اور بے شمار افراد ان کے علم سے فیض یاب ہوئے۔ اس دوران یہ عظیم خاتون ”نفیسہ العلم و معرفت“ کے لقب سے مشہور ہو گئیں۔
پھر ایک وقت آیا کہ انہوں نے اپنے شوہر کے ساتھ مصر میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ مصر جاکر ان کی عبادت و ریاضت میں مزید اضافہ ہو گیا۔ ہر وقت خشیت الٰہی میں مصروف رہیں ،تو بہ استغفار کرتیں، نماز تہجد، کو خاص ذوق و شوق کے ساتھ ادا کرتیں۔آپ نے زندگی میں تیس مرتبہ حج کرنے کا شرف حاصل کیا۔ حج کے دوران غلافِ کعبہ سے لپٹ کر خوب روتیں اور نہایت خشوخ و خضوح کے ساتھ دعا مانگتیں۔
حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ آپ کے ہم عصر بھی تھے اور آپ کی خدمت میں حاضر بھی ہواکرتے تھے اور ملاقات میں عالمی مسائل کو زیر بحث بھی لاتے ۔ مختلف روایات بتاتی ہیں کہ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے ان سے علم حدیث سیکھا۔ بہر حال دونوں ایک دوسرے کے معترف اور قدر شناس تھے۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ نے 204 ہجری میں وفات پائی اور وصیت فرمائی کہ میرا جنازہ حضرت نفیسہ بنت حسن کے گھر کے سامنے سے گزارا جائے۔ جب امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ کا جنازہ آپ کے گھر کے سامنے سے گزرا توآپ نے اپنے گھر میں ان کی نمازِ جنازہ ادا کی۔
حضرت نفیسہ رحمتہ اللہ علیہا بنت حسن رحمتہ اللہ علیہ کے علم وفضل ، زاہد و ریاضت اور کرامات کی اہل مصردل سے قدر کرتے تھے۔ آپ سے کئی کرامات بھی منسوب کی جاتی ہیں اور آج تک مصر میں حضرت نفیسہ بنت حسن کی عزت کم نہیں ہوئی ہے۔208 ہجری میں حضرت نفیسہ رحمتہ اللہ علیہا نے وفات پائی توا ن کے شوہر نے چاہا کہ ان کی میت کو مدینہ منورہ لے جا کر دفن کیا جائے۔ مصر کے لوگ یہ بات نہ چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھاکہ حضرت نفیسہ رحمتہ اللہ علیہا کو مصر میں دفن کیا جائے ۔ اس بات پر مصری خوب روئے یہاں تک کہ حضرت نفیسہ رحمتہ اللہ علیہا کو شوہر ان کی بات ماننے پر مجبور ہو گئے۔
حضرت نفیسہ رحمتہ اللہ علیہا کا مزار قاہرہ کے قریب بنایا گیا۔ ان کا مزار ” مشہد نفیسہ “ کے نام سے مشہور ہے اور آج بھی وہاں پر عقیدت مندوں کا ہجوم رہتا ہے۔ آپ کی وفات روزہ کی حالت میں ہوئی۔ آپ وفات کے دن روزہ کی حالت میں قرآن پاک کی تلاوت فرما رہی تھیں کہ آپ پر نقاہت طاری ہوگئی نبض ڈوبنے لگی ۔ اصرار ہوا کہ آپ روزہ توڑ ڈالیں لیکن آپ نے فرمایا کہ تیس سال سے میرے آرزو تھی کہ میں روزہ کی حالت میں اپنے رب کے حضور جاوں ،اب یہ آرزو پوری ہونے کوہے، میں روزہ کیوں توڑوں؟یہ کہنے کے بعد آپ نے قرآن پاک کی آیات کی تلاوت شروع کر دی اور تلاوت کرتے ہوئے جان دے دی۔

(4) ووٹ وصول ہوئے